Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بجلی ’مہنگی ہونے سے بچانے‘ کے لیے حکومت کا پیک آورز میں لوڈشیڈنگ کا اعلان

پاور ڈویژن کے مطابق جولائی سے فروری کے دوران حکومت نے بجلی صارفین کو 46 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی  وفاقی حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو روکنے کے لیے شام پانچ بجے سے رات ایک بجے تک روزانہ دو گھنٹے سے زائد  کی لوڈشیڈنگ کا اعلان کیا ہے۔
منگل کو وزارتِ بجلی کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پیک آورز، یعنی شام پانچ بجے سے رات ایک بجے تک، روزانہ دو گھنٹے 25 منٹ کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، جس سے بجلی کی قیمت میں تقریباً تین روپے فی یونٹ کے ممکنہ اضافے کو روکنے میں مدد ملے گی۔
تاہم توانائی ماہرین کے مطابق بجلی بند کرنے سے کھپت میں تو کمی آئے گی، لیکن حکومت کو کیپسٹی چارجز کی مد میں وہی ادائیگیاں کرنا پڑیں گی، جو فی یونٹ قیمت میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔
پاور ڈویژن نے اپنے اعلامیے میں مزید کیا کہا؟
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں وزارتِ بجلی کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو پیک آورز میں بجلی کی طلب میں اضافے کا بڑا چیلنج درپیش ہے، کیونکہ ضروریات پوری کرنے کے لیے مہنگا ایندھن استعمال کرنا پڑتا ہے جو بجلی کی قیمت میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔
’اس ممکنہ اضافے کو روکنے کے لیے آج سے شام پانچ بجے سے رات ایک بجے تک روزانہ تقریباً دو گھنٹے 25 منٹ کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی تاکہ مہنگے ایندھن کے استعمال میں کمی لائی جا سکے اور بجلی کی قیمت میں اضافہ نہ ہو۔‘
پاور ڈویژن کے مطابق جولائی سے فروری کے دوران حکومت نے بجلی صارفین کو 46 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا ہے اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود بجلی کو مہنگا کرنے کے بجائے 71 پیسے فی یونٹ سستا کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کی خصوصی توجہ اور ذاتی نگرانی میں صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے، اور ہدایت دی گئی ہے کہ بجلی کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ نہ ہونے دیا جائے۔
وزارت بجلی کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ 80 ایم ایم سی ایف ڈی مقامی گیس پاور پلانٹس کو فراہم کی گئی ہے، جس سے بجلی کی قیمت میں تقریباً 80 پیسے فی یونٹ اضافے اور اضافی لوڈشیڈنگ کو روکا گیا۔
تاہم فرنس آئل کے محدود استعمال کے باوجود تقریباً 1.5 روپے فی یونٹ اضافے کا امکان برقرار ہے، جبکہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ اضافہ 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک ہو سکتا تھا۔
وزارتِ بجلی نے تمام ڈسکوز کو ہدایت کی ہے کہ ہر فیڈر کی لوڈشیڈنگ کے اوقات صارفین کے ساتھ شیئر کیے جائیں۔

کیا لوڈشیڈنگ بجلی کی قیمت کم رکھنے میں مدد کرے گی؟

توانائی ماہرین کے مطابق حکومت کا یہ فیصلہ وقتی طور پر بجلی کی کھپت میں کمی لا سکتا ہے، لیکن طلب کو کم کر کے قیمت کو کنٹرول کرنا مستقل حل نہیں، اصل حل سپلائی میں اضافہ ہے جبکہ دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ سے صنعت اور کاروبار متاثر ہوں گے اور  گرمی کے موسم میں عوام کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسلام آباد میں مقیم توانائی کے ماہر اور ایس ڈی پی آئی کے ریسرچ فیلو ڈاکٹر خالد ولید کے مطابق پاکستان میں سستی بجلی ہائیڈل، سولر، گیس اور ونڈ ذرائع سے پیدا ہوتی ہے، جو بیس لوڈ کو مینج کرتے ہیں۔ تاہم جیسے جیسے سولرائزیشن بڑھ رہی ہے، دن کے وقت گرڈ پر لوڈ کم ہو جاتا ہے جبکہ رات کے وقت جب سولر صارفین دوبارہ گرڈ پر آتے ہیں تو گرڈ پر لوڈ بڑھ جاتا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ جب اضافی طلب کو پورا کرنے کے لیے مہنگے پلانٹس چلائے جاتے ہیں تو فرنس آئل یا دیگر مہنگے ذرائع استعمال ہوتے ہیں۔ اس وقت حکومت کے پاس آر ایل این جی بھی محدود ہے، اس لیے متبادل کے طور پر امپورٹڈ کوئلہ یا آر ایف او پلانٹس استعمال کیے جاتے ہیں، جن کی اوسط لاگت 40 سے 45 روپے فی یونٹ تک ہو سکتی ہے۔
’یہی وجہ ہے کہ  حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مہنگے پلانٹس چلانے کے بجائے دو سے اڑھائی گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جائے۔”
تاہم ڈاکٹر خالد کے خیال میں  اس کا متبادل یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سولر صارفین کے پاس بیٹری اسٹوریج ہو تاکہ وہ دن میں پیدا ہونے والی سولر توانائی کو رات کے وقت استعمال کر سکیں۔

بجلی صارفین کے بلوں پر کیا اثر پڑے گا؟

ڈاکٹر خالد ولید کے مطابق عام طور پر جب بجلی کا استعمال کم ہوتا ہے تو بل بھی کم آتا ہے، تاہم حکومت کو اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ وہ پاور پلانٹس جو بند رہنے کے باوجود کیپسٹی چارجز وصول کرتے ہیں، ان کی ادائیگیاں بدستور جاری رہتی ہیں۔ ایسے میں اگرچہ فیول کاسٹ کم ہو سکتی ہے، لیکن بند پلانٹس کے کیپسٹی چارجز کی وجہ سے مجموعی طور پر بجلی کے بلوں میں کمی نہ بھی آئے اور بعض صورتوں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

شیئر: