لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ضبط شدہ مال کا ریاست مالک نہیں، صرف امین ہوتی ہے
پیر 13 اپریل 2026 16:25
رائے شاہنواز - اردو نیوز، لاہور
ٹریبونل نے ہدایت کی کہ ایک لاکھ روپے جرمانہ لے کر سونا چھوڑا جائے اور 10 ہزار ڈالر واپس کیے جائیں۔ (فوٹو: لاہور ہائی کورٹ ویب سائیٹ)
لاہور ہائی کورٹ نے حال ہی میں 21 برس پرانے ایک کسٹمز کے غیر معمولی مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سرکار کسی ضبط شدہ مال کی مالک نہیں، بلکہ صرف اس کی امین ہوتی ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ شہری عباس علی کو اس کا ضبط شدہ سونا واپس کیا جائے اور ساتھ 10 ہزار ڈالر بھی لوٹائے جائیں۔
یہ وہی مقدمہ ہے جس کی جڑیں 2004 میں لاہور ائیرپورٹ سے شروع ہوئیں، جب تقریباً تین کلو سونا اور 10 ہزار ڈالر کسٹمز نے ضبط کیے تھے۔ اگر اس ضبط شدہ سونے اور ڈالروں کی اُس وقت کی مجموعی قدر کا اندازہ لگایا جائے تو وہ لگ بھگ 30 لاکھ روپے بنتی ہے، جبکہ آج اسی مالیت کو موجودہ نرخوں پر ناپا جائے تو یہ رقم تقریباً 13 کروڑ روپے کے آس پاس بنتی ہے۔ یہی وہ فیصلہ ہے جس نے اس مقدمے کو محض ایک قانونی تنازع نہیں رہنے دیا، بلکہ وقت، ریاستی اختیار اور شہری کے حقِ ملکیت کی ایک طویل کہانی بنا دیا۔
کہانی کہاں سے شروع ہوئی؟
یہ کہانی شروع ہوتی ہے 27 مئی 2004 سے، جب عباس علی نامی ایک شہری لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے ڈیپارچر لاؤنج میں بنکاک جانے کے لیے پہنچے۔
کسٹمز حکام نے ان کے سامان کی تلاشی لی۔ ان کے پاس سے تقریباً تین کلو سونے کے زیورات، 10 ہزار امریکی ڈالر اور 2,429 تھائی بھات برآمد ہوئے۔ اس سے پہلے جب اس مسافر سے پوچھا گیا تھا کہ آیا اس کے سامان میں کوئی ممنوع یا قابلِ ڈیکلریشن چیز موجود ہے، تو انہوں نے نفی میں جواب دیا، مگر بعد میں برآمدگی ہو گئی۔
اگلا مرحلہ بہت تیزی سے آیا۔ عباس علی مطلوبہ دستاویزی ثبوت پیش نہ کر سکے اور نہ ہی اس مال کی باقاعدہ ڈیکلریشن دی گئی تھی۔ اس کے بعد ایف آئی آر درج ہوئی، اور پھر 12 نومبر 2004 کو کسٹمز اتھارٹی نے ’آرڈر اِن اوریجنل‘ جاری کر کے سونا اور غیر ملکی کرنسی ضبط کر لی۔ تفتیش کے دوران یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ برآمد شدہ زیورات مبینہ طور پر عطا سنز جمز اینڈ جیولرز کے تھے اور عباس علی کو سپرد کیے گئے تھے۔ یہی وہ مقام تھا جہاں یہ معاملہ محض ’ائیرپورٹ پر پکڑے گئے ایک مسافر‘ کی خبر نہ رہا، بلکہ ملکیت، تحویل اور قانونی اختیار کے جھگڑے میں تبدیل ہو گیا۔
ضبطی سے پگھلاؤ تک:
مقدمے کا سب سے ڈرامائی موڑ عدالتی ریکارڈ میں بعد کے برسوں میں سامنے آتا ہے۔ کسٹمز نے نہ صرف ضبطی برقرار رکھی بلکہ بعد میں یہ سونا پاکستان منٹ بھجوا دیا، جہاں اسے پگھلا دیا گیا۔ فیصلے کے مطابق سونے کے زیورات کی اصل شکل ختم ہو گئی اور ریفائننگ کے بعد وزن گھٹ کر 2467.3 گرام رہ گیا۔ بعد ازاں اسی ریفائنڈ سونے کو گولڈ بار نمبر 2959 میں تبدیل کیا گیا، جسے 29 جون 2007 کو سٹیٹ بینک نے اٹھا لیا۔ اسی دن کے نرخ پر اس کی مالیت تقریباً 63 لاکھ روپے لگائی گئی اور یہ رقم سرکاری کھاتے میں ڈال دی گئی۔
یہیں سے مقدمہ ایک بڑے قانونی سوال میں بدل گیا، جب سونے کے دعویداروں نے عدالت میں نئے سوال اٹھائے: اگر سرکار نے مال ضبط کیا تھا تو کیا وہ اسے اپنی مرضی سے پگھلا بھی سکتی تھی؟ اور اگر پگھلا دیا گیا، تو کیا مالک کو برسوں پرانے نرخ پر نقد رقم دے دینا کافی تھا؟ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے تازہ فیصلے میں اسی نکتے پر سخت مؤقف اختیار کیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر ضبط شدہ مال کو قانون کے مطابق نیلام یا فروخت ہی نہیں کیا گیا، تو صرف اسے پگھلا کر اس کی کوئی سرکاری قیمت مقرر کر دینا قانونی متبادل نہیں بن سکتا۔ ریاست محض امین ہے، مالک نہیں۔
ٹریبونل، ہائی کورٹ، پھر سپریم کورٹ:
اس مقدمے کی عمر صرف لمبی نہیں، اس کا راستہ بھی پیچیدہ رہا۔ پہلے کسٹمز حکام نے مکمل ضبطی کا حکم دیا، پھر اپیلیں ہوئیں۔ 2012 میں کسٹمز اپیلیٹ ٹریبونل کے ایک لارجر بینچ نے حکم دیا کہ سونا واپس کیا جائے اور 10 ہزار ڈالر یا ان کے مساوی رقم بھی دی جائے، جبکہ باقی غیر ملکی کرنسی ضبط رہے۔ لیکن یہ فیصلہ بھی آخری منزل ثابت نہ ہوا۔ لاہور ہائی کورٹ نے بعد میں ایک مرحلے پر اسے اس بنیاد پر کالعدم کیا کہ جس بینچ نے فیصلہ دیا تھا، اس کی تشکیل قانونی لحاظ سے درست نہیں تھی۔
اس کے بعد مقدمہ دوبارہ اپیلیٹ ٹریبونل گیا، جہاں عباس علی کے حق میں پھر فیصلہ آیا۔ ٹریبونل نے ہدایت کی کہ ایک لاکھ روپے جرمانہ لے کر سونا چھوڑا جائے اور 10 ہزار ڈالر واپس کیے جائیں۔ کسٹمز نے اس حکم کو چیلنج کیا اور معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا۔ مگر جون 2025 میں سپریم کورٹ نے کسٹمز کی درخواست مسترد کر دی۔ یوں ٹریبونل کا فیصلہ حتمی حیثیت اختیار کر گیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے تازہ فیصلے نے اسی قانونی پس منظر کو سامنے رکھ کر کہا کہ جب شہری کا حق سپریم کورٹ تک برقرار رہ چکا ہے تو محکمہ یکطرفہ طور پر یہ طے نہیں کر سکتا کہ اب اصل مال کے بجائے اپنی پسند کی کوئی پرانی نقد مالیت دے دی جائے۔
اصل جھگڑا سونے کا نہیں، اختیار کا تھا:
اس مقدمے کی سب سے اہم بات شاید یہ ہے کہ عدالت نے اسے صرف سونے یا ڈالروں کی واپسی کا تنازع نہیں سمجھا۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ اگر ضبط شدہ مال سرکاری تحویل میں رہتے ہوئے اپنی اصل شکل کھو بھی دے، تب بھی مالک کے حقوق ختم نہیں ہوتے۔ عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے ایک پرانے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے بھی یہی اصول دہرایا کہ اگر ضبط شدہ سونا بیچا نہیں گیا تو اس کی قیمت ضبطی کے دن نہیں، بلکہ اصل اور قانونی واپسی کے دن دیکھی جائے گی۔ یعنی ریاست کے لیے یہ راستہ کھلا نہیں کہ وہ پہلے مال کی صورت بدل دے، پھر کہے کہ اب ہم آپ کو اسی کی پرانی قیمت دے دیتے ہیں۔
اسی لیے عدالت نے کسٹمز کے 17 جولائی 2025 کے اس حکم کو بے اثر قرار دیا، جس کے تحت تقریباً 58 لاکھ روپے عباس علی کے نام منظور کیے گئے تھے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ چونکہ قانونی تقاضوں کے مطابق فروخت ثابت ہی نہیں ہوئی، اس لیے یہ ادائیگی شہری کے حق کا درست بدل نہیں بن سکتی۔ عدالت نے آخرکار حکم دیا کہ عباس علی کو گولڈ بار نمبر 2959، جس کا وزن 2467.3 گرام ہے، ایک لاکھ روپے جرمانہ لینے کے بعد واپس کیا جائے، اور ساتھ 10 ہزار امریکی ڈالر یا ان کے مساوی پاکستانی روپے موجودہ شرحِ مبادلہ کے مطابق دیے جائیں۔
مقدمے میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ قانونی طور پر ائیرپورٹ پر ڈیکلریشن نہیں تھا، جبکہ بعد میں عدالت میں منی ٹریل ثابت ہو گئی۔ اس بنا پر صرف ڈیکلریشن نہ ہونے کا جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔
