اسلام آباد میں ایران، امریکہ مذاکرات کے بعد سخت سکیورٹی انتظامات میں جزوی نرمی
اتوار 12 اپریل 2026 15:42
شہر میں اس وقت بھی مختلف شاہراہوں پر روٹس لگے ہوئے ہیں جہاں عام ٹریفک کو داخل ہونے نہیں دیا جا رہا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے اختتام کے بعد سکیورٹی انتظامات میں کسی حد تک نرمی دیکھی گئی ہے، تاہم مجموعی طور پر شہر میں اب بھی سکیورٹی معمول سے زیادہ سخت ہے۔
پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے بعد نائب صدر جے ڈی وینس آج صبح واپس روانہ ہو گئے تھے۔
تاہم کچھ رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ امریکی وفد میں شامل امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر کی اسلام آباد میں موجود ہیں۔
اس حوالے سے جب ہم نے سینئر پاکستانی حکام سے استفسار کیا تو انہوں نے اس خبر کی نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید۔ تاہم امریکی نائب صدر کے ساتھ پاکستان آنے والے متعدد صحافیوں نے رپورٹ کی کہ نائب صدر کے ساتھ سفر کرنے والے امریکی حکام واضح کیا کہ سٹیو وٹکاف، جیرڈ کشنر سمیت امریکی وفد میں شامل کوئی بھی فرد اسلام آباد میں موجود نہیں بلکہ سب روانہ ہوگئے ہیں۔
اسلام آباد کے ایک نجی فائیو سٹار ہوٹل میں ہونے والے ان مذاکرات کے بعد علی الصبح امریکی نائب صدر نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ 21 گھنٹوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کے ادوار کسی حتمی معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہوئے۔
سخت سیکیورٹی انتظامات میں جزوی نرمی
امریکی نائب صدر کی واپسی کے بعد اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں قائم میڈیا فسیلیٹیشن سینٹر کو بھی ختم کر دیا گیا ہے، اور شہر میں سکیورٹی سختیوں میں جزوی کمی آئی ہے، تاہم مجموعی طور پر اسلام آباد میں اب بھی غیر معمولی سکیورٹی نافذ ہے۔
مذاکرات کی کوریج کے لیے اسلام آباد میں کم و بیش ڈیڑھ سو غیر ملکی صحافی پہنچے تھے، جن میں سے بڑی تعداد واپس جا چکی ہے جبکہ کچھ اب بھی پاکستان میں موجود ہیں۔
شہر میں اس وقت بھی مختلف شاہراہوں، بالخصوص مری روڈ، جو راولپنڈی کے نور خان ایئر بیس کی طرف جاتی ہے، پر روٹس لگے ہوئے ہیں اور وہاں عام ٹریفک کو تاحال روکا جا رہا ہے۔
تاہم کشمیر چوک سے سرینا ہوٹل اور سری نگر ہائی وے کی جانب جانے والی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، اور کنونشن سینٹر کے اطراف قائم سکیورٹی پابندیوں میں بھی کمی کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے مختلف شاہراہوں پر ڈائیورژن پلان اب بھی نافذ ہے، اور شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں سے نکلنے سے پہلے ٹریفک اپڈیٹس ضرور چیک کریں۔
