قصیم ریجن کی مسجد ’المطوعیہ‘ جو 150 برس کی کہانی بیان کرتی ہے
مسجد نمازیوں سے اسی طرح آباد ہے، جیسے ڈیرھ سو برس قبل تھی۔(فوٹو: ایس پی اے)
قصیم ریجن کی کمشنری ریاض الخبرا میں واقع قدیم مسجد ’المطوعیہ‘ مذہبی ورثے کے لینڈ مارک میں سے ایک ہے، ان مساجد میں شامل ہے، جو وسطی سعودی عرب میں مساجد کے تعمیرانی اور تہذیبی گہرائی کی عکاسی کرتی ہے۔
ایس پی اے کے مطابق قدیم بستی میں واقع یہ مسجد روایتی نجدی تعمیراتی فنون کا ایک مستند اور نمایاں ماڈل ہے۔
یہ مسجد تقریبا 150 برس پرانی ہے،جسے پرانے شہر کی بحالی کے منصوبے کے تحت دوبارہ بحال کیا گیا ہے۔
مسجد کے اطراف قدیم شہریوں کے مکانات اور فارمزموجود تھے۔ مسجد کی تعمیر اس وقت کی مروجہ اشیا سے کی گئی، جن میں چکنی مٹی اور پتھر شامل تھے جبکہ چھت کے لیے ’الاثل‘ درخت کی لکڑی اور کھجور کے پتے استعمال کیے گئے تھے۔
مسجد کے مرکزی ہال میں تقریبا 100 نمازیوں کی گنجائش ہے۔ دروازے اور کھڑکیاں سفید فریموں سے سجی ہیں جبکہ دیواروں کو چکنی مٹی کے لیپ سے ہموار کیا گیا۔

مسجد ’المطوعیہ‘ کی بحالی کے لیے علاقے میں مروجہ سامان استعمال کیا گیا جبکہ عصری تقاضوں کے تحت لاوڈ سپیکرز، کولنگ سسٹم، قالین اور دیگر ضروری ساز وسامان بھی فراہم کیا گیا۔
علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے’ماضی میں مسجد کا اہم کردار تھا، یہاں صرف پانچ وقت کی نماز ہی ادا نہیں ہوتی تھی بلکہ یہ سماجی رابطے اور دینی تعلیم کا بھی مرکز تھی۔‘

آج بھی یہ مسجد نمازیوں سے اسی طرح آباد ہے، جیسے ڈیرھ سو برس قبل ہوا کرتی تھی۔
یہ مسجد اسلامی اور تعمیراتی ورثے کے تحفظ، قومی شناخت اور مذہبی اقدار کو فروغ دینے کے حوالے سے مملکت کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔
