الباحہ ریجن: حج روٹ پر قدیم مسجد، مٹی کے برتنوں اور رہائشی کمروں کے آثار
العصدا سائٹ پر آثار قدیمہ کی کھدائی کے دوسرے سیزن کا کام مکمل کیا ہے۔(فوٹو: ایکس اکاونٹ)
سعودی ہیریٹیج کمیشن نے اپنے سائنسی کاموں کے ایک حصے کے طور پر الباحہ ریجن کی المخواہ کمشنری کی سائٹ العصدا پر آثار قدیمہ کی کھدائی کے دوسرے سیزن کا کام مکمل کیا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق اس کا مقصد مملکت بھر میں آثار قدیمہ کے مقامات کا مطالعہ اور انہیں دستاویز کرنا ہے۔
آثار قدیمہ کے ماہرین نے کھدائی کے دوران متعدد اہم تعمیراتی آثار اور نوادرات دریافت کیے، جو اس مقام پر مختلف تاریخی ادوار کی نشاندہی کرتے ہیں۔
نمایاں دریافتوں میں تقریبا 11x12 میٹر رقبے پر مشتمل ایک قدیم مسجد شامل ہے، جس میں محراب اور تین مرکزی دروازے موجود ہیں جبکہ ستونوں کی مربع بنیادیں بھی ملی ہیں جو ماضی میں مسجد کی چھت کوسہارا دیتی تھیں۔
مسجد کے شمال مشرقی جانب مختلف سائز کے چار متصل کمرے بھی دریافت ہوئے ہیں۔ ان میں سے بعض کا رقبہ 4x5 میٹر اور بعض کا 3x4 میٹر ہے۔

کمروں میں پانی کے حوض، سٹور، کھانا پکانے کے لیے چولہے کی جگہ یا چولہا کے نشانات پائے گئے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مقام مسجد سے وابستہ خدمت کے مقاصد کےلیے مخصوص رہا ہوگا۔
دیگر دریافت ہونے والی اشیا میں مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے، جن میں سادہ اور روغنی مٹی اور پتھرسے بنے ہوئے برتن شامل ہیں۔ پتھر سے بنی ہوئی چکیاں اور دیگر اوزار بھی ملے ہیں، جو خوراک کی تیاری میں استعمال ہوتے تھے۔

العصدا مرکز کو مملکت کے اہم تاریخی معدنیاتی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ جغرافیائی اور تاریخی اعتبار سے بھی اہم ہے۔ یمن سے آنے والے حج کے قدیم راستے پر واقع تھا، جو مکہ مکرمہ تک جاتا ہے۔ اسی لیے مختلف ادوار میں آمد ورفت اور تجارت کا اہم مرکز رہا۔
ہیریٹیج کمیشن کی یہ کاوشیں تحقیق کے دائرہ کو وسیع کرنے اور مملکت کے ثقافتی ورثے کو دستاویزی شکل دینے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہیں جو جزیرہ نما عرب کی تاریخ پر ایک مستند علمی بنیاد فراہم کرنے اور اس کے متنوع تہذیبی ورثے کو اجاگر کرنے میں معاون ہوں گی۔
