ابھا میں بنفشی پھولوں کی بہار، ایسا منظر کو دیکھنے والوں کو مسحور کر دے
’جیکا رنڈا‘ کے درخت جمالیاتی منظر نامے کی نمایاں علامت بن چکے ہیں( فوٹو: ایس پی اے)
موسم بہار کے آغاز کے ساتھ جب سڑکوں اور پارکوں میں ’جیکا رنڈا‘ کے درختوں پر پھول کھلتے ہیں تو ابھا شہر ایک دلکش بنفشی منظر میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
’جیکا رنڈا‘ کے درخت شہر کے جمالیاتی منظر نامے کی نمایاں علامت بن چکے ہیں اور ایک مخصوصی منظر تخلیق کرتے ہیں، ایسا منظر جو دیکھنے والوں کو محسور کردے۔
سعودی خبررساں ادارے کی جانب سے خوبصورت موسم کی عکاسی کرتے ہوئے مختلف مقامات کی تصاویر کو نمایاں انداز میں پیش کیا ہے جن میں مذکورہ درختوں پر جامنی پھولوں کی بہار نے ماحول کو دلفریب بنا دیا ہے۔
یہ منظر سرسبز میدانوں کے ساتھ حسین ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ ہلکی بارش کی پھوار ان پھولوں کی پنکھڑیوں پر مزید چمک پیدا کرتی ہے۔
’جیکا رنڈا‘ کے درختوں کی موجودگی خاص طور پر پارکوں اور کھلے مقامات پر نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ جہاں گھنے درخت، سرسبز زمین اور معتدل موسم مل کر سیر و تفریح اور سکون کے متلاشی کے لیے ایک مثالی ماحول تشکیل دیتے ہیں۔

یہ مناظر ابھا کو بہار کے موسم میں ایک پرکشش سیاحتی مقام بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں تفریحی مقامات پر لوگوں کی آمد و رفت بڑھ جاتی ہے۔
’جیکا رنڈا‘ کا اثر صرف خوبصورتی تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ شہر میں معیار زندگی کو بہتر بنانے میں بھی مدد گار ہے، یہ شہری منظر کو نکھارنے اور موسم کو معتدل بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ درخت حالیہ برسوں میں ابھا میں جاری شجر کاری اور شہری خوبصورتی کے منصوبوں کا اہم حصہ بن چکا ہے۔

یہ درخت تیزی سے نشوونما پاتے ہیں۔ ان کی اونچائی 18 میٹر یا اس سے کچھ زیادہ ہوتی ہے ،پہلے سال میں یہ تین میٹر تک بلند ہوتا ہے۔س کی شاخیں چھتری نما ہوتی ہیں جو شہری علاقوں میں بہترین سایہ فراہم کرتی ہیں۔
ابھا شہر میں 14 ہزار سے زائد درخت موجود ہیں، موسم بہار کے آغاز پر پھول کھلتے ہیں اور تقریبا ایک تک اپنا وجود برقرار رکھتے ہیں۔ یہ درخت سعودی عرب کے جنوبی معتدل موسمی حالات سے بخوبی مطابقت رکھتے ہیں۔
