’ فریش واٹر فش بریڈنگ‘: سعودی عرب میں پہلے قومی پروگرام کا آغاز
پرواگرام کا مقصد مملکت میں مچھلیوں کی نایاب اُن اقسام کا تحفظ ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف نے کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اشراک سے مملکت میں تازہ پانی میں مچھلیوں کی افزائشِ نسل (فریش واٹر فارمنگ) اور اِسے دوبارہ متعارف کرانے کے پہلے قومی پروگرام کا افتتاح کیا ہے۔
اس پرواگرام کا مقصد مملکت میں مچھلیوں کی نایاب اُن اقسام کا تحفظ کرنا ہے جو صرف سعودی عرب میں پائی جاتی ہیں اور اِن مچھلیوں کی آبادی اور قدرتی ٹھکانوں کی پائیداری کو بڑھانا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق پروگرام میں بنیادی طور پر معدومیت کے خطرے سے دوچار، مچھلیوں کی دو خاص اقسام پر کام کیا جا رہا ہے۔ ایک کا نام حریمی جبکہ دوسری بریمِ عربی کہلاتی ہے۔
مچھلیوں کے حصول کی خاطر مناسب مقامات کے تعین کے لیے اب تک ہونے والی سٹڈیز اور سروے کے بعد، وادیِ خیبر اور الثمود کے تاریخی ڈیم کے علاوہ وادیِ الغرس کے ایک تالاب سے مچھلیوں کو جمع کر کے اس منصوبے کا آغاز کیا گیا۔
منصوبے کے تحت فاصلے سے پتہ چلا لینے والی ٹیکنالوجی کا کام میں لاتے ہوئے، 21 اہم سائٹس کی نشاندہی کی گئی جہاں یہ نایاب مچھلیاں مل سکتی تھیں۔

اس پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مربوط سائنسی انداز اختیار گیا جس میں اُن مچھلیوں ہی کو جمع کیا گیا جو ہر لحاظ سے افزائشِ نسل کے لیے موزوں ہوں۔
علاوہ ازیں اُن کے جینیاتی تجزیے بھی کیے گئے اور مخصوص ماحول میں مچھلیوں کی تولید اور اُنھیں خوراک دینے کے لیے ضابطے طے کیے گئے۔

مچھلیوں کے انڈوں کو سینے کے عمل کا قیام اور پرورش کے ابتدائی نظام کو بہتر بنایا گیا تاکہ مچھلیوں کے زندہ رہنے اور نشو و نما کی شرح میں اضافہ ہو سکے۔
یہ انیشیٹیو، معدومیت کے خطرے سے دوچار جانورں کی انواع کو محفوظ بنانے اور سائنسی تحقیق اور قومی شراکت داری کے ذریعے حیاتیاتی تنوع کو بڑھانے کی کوششوں میں بھی تعاون فراہم کرتا ہے جو ’سعودی وژن 2030 ‘ کے ذیل میں ’سعودی گرین انیشیٹو‘ سے ہم آہنگ ہے۔
