بجٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کو ٹیکس ریٹرن اور رجسٹریشن میں کونسی بڑی رعایتیں دی گئی ہیں؟
اتوار 14 جون 2026 15:31
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
سمندر پار پاکستانی ہر سال پاکستان میں اربوں ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیجتے ہیں، جس کے باعث حکومتِ پاکستان بجٹ میں ان غیر مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی کوئی نہ کوئی براہِ راست یا بالواسطہ اقدامات متعارف کرواتی ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بجٹ 26-2026 میں اگرچہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے کوئی بڑا یا مخصوص پیکیج نظر نہیں آتا تاہم فنانس بل میں چند ایسی قانونی اور ٹیکس ترامیم سامنے آئی ہیں جو براہِ راست سمندر پار پاکستانیوں کے مالیاتی معاملات اور ڈیجیٹل اکاؤنٹس پر اثر انداز ہوں گی۔
اس رپورٹ میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ یہ اقدامات کیا ہیں اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں پر ان کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
پارلیمان میں پیش کیے جانے والے فنانس بل 2026 کے ذریعے انکم ٹیکس قوانین میں ترمیم کر کے سمندر پار (اوورسیز) پاکستانیوں کو ایک قانونی ریلیف فراہم کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد ملکی بینکاری نظام پر ان کا اعتماد بحال کرنا ہے۔
فنانس بل کی دستاویزات کے مطابق، اب انکم ٹیکس قوانین کے تحت اوورسیز پاکستانیوں کی شناخت کو محض ان کے شناختی دستاویزی کارڈز (جیسے نائیکوپ یا پی او سی) کے بجائے براہِ راست سٹیٹ بینک آف پاکستان کی مخصوص ڈیجیٹل اکاؤنٹ سکیموں سے جوڑ دیا گیا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سکیم کے مختلف روپیہ اور فارن کرنسی ویلیو اکاؤنٹس (جیسے فارن کرنسی ویلیو اکاؤنٹ، فارن کرنسی بزنس ویلیو اکاؤنٹ، نان ریزیڈنٹ روپی ویلیو اکاؤنٹ، اور نان ریزیڈنٹ روپی بزنس ویلیو اکاؤنٹ) چلانے والے غیر مقیم پاکستانیوں کو ملکی ٹیکس نیٹ ورک میں شامل کرنے کے لیے نئے اور آسان قانونی دائرہ کار میں لایا گیا ہے۔
ترمیم کے تحت اوورسیز پاکستانیوں کے لیے جو اہم رعایت سامنے آئی ہے، وہ پاکستان میں انکم ٹیکس ریٹرن (گوشوارے) جمع کرانے اور لازمی ٹیکس رجسٹریشن (سیکشن 181) سے استثنیٰ یا چھوٹ کی شکل میں ہے۔
فنانس بل کے مطابق، اگر کسی اوورسیز پاکستانی کی پاکستان کے اندر ہونے والی آمدنی کا ذریعہ ان کے مخصوص ویلیو اور ڈیجیٹل اکاؤنٹس تک محدود ہے، تو ان پر پاکستان میں ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی کوئی قانونی شرط لاگو نہیں ہوگی۔
یہ اقدام ان سمندر پار پاکستانیوں کے لیے نہایت اہم ہے جو طویل عرصے سے ایف بی آر کے ’پیچیدہ‘ نظام اور آڈٹ نوٹسز کے خوف سے پاکستان میں اپنے اثاثے لانے سے کتراتے تھے۔
نئے قانون کے تحت حکومت نے ان مخصوص بینکاری چینلز کے ذریعے ہونے والی چار بڑی اقسام کی آمدنیوں اور منافع کو مکمل تحفظ فراہم کرتے ہوئے ٹیکس فائلنگ سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
اب اوورسیز پاکستانیوں کو ان کے ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں موجود رقم پر ملنے والے بینک منافع، انھی اکاؤنٹس کے سرمائے سے حکومتِ پاکستان کی روایتی یا شریعت کے مطابق خریدی گئی سیکیورٹیز (جیسے نیا پاکستان سرٹیفکیٹ) کے منافع، پاکستان سٹاک ایکسچینج اور میوچل فنڈز سے حاصل ہونے والے ڈیویڈنڈ، اور انھی بینکاری ذرائع سے پاکستان میں خریدی گئی جائیداد کی فروخت پر ملنے والے کیپیٹل گین پر کسی قسم کی قانونی پوچھ گچھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان قانونی تبدیلیوں کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اب ایف بی آر یا دیگر ٹیکس حکام سمندر پار پاکستانیوں کے ان اکاؤنٹس کو کسی عام مقامی اکاؤنٹ کی طرح ڈیل نہیں کر سکیں گے۔
اس اقدام سے نہ صرف ان کے سرمائے کو قانونی تحفظ ملے گا بلکہ پاکستان سے اپنے منافع کی بیرونِ ملک واپسی کا عمل بھی انتہائی آسان اور محفوظ ہو جائے گا۔
اس کے علاوہ بجٹ 2026/27 میں سمندر پار پاکستانیوں یا بین الاقوامی سفر اور لین دین کرنے والوں کے لیے جو بڑا اور واضح اقدام سامنے آیا ہے، وہ بیرونی کارڈ ٹرانزیکشنز پر ٹیکس کی مد میں ہے۔
حکومت نے بیرونِ ملک ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے یا بین الاقوامی آن لائن ادائیگیاں کرنے پر عائد پانچ فیصد کے بھاری ودہولڈنگ ٹیکس کو یکمشت کم کر کے صرف 0.5 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔
اس کے علاوہ، رئیل اسٹیٹ میں دلچسپی رکھنے والے ان اوورسیز پاکستانیوں کے لیے جو ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ (فائلرز) کا حصہ ہیں، پراپرٹی کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد اور فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، اس بجٹ میں سمندر پار پاکستانیوں کے لیے بڑے اقدامات شامل نہیں ہیں جن کی وہ عام طور پر توقع کرتے ہیں۔مثال کے طور پر، قانونی ذرائع سے ترسیلاتِ زر بھیجنے والوں کے لیے کسی نئے مراعاتی پیکیج، نان فائلر اوورسیز پاکستانیوں کے لیے جائیداد کی خریداری میں کسی خصوصی رعایت، یا بیرونِ ملک سے گاڑیوں اور الیکٹرانکس کی امپورٹ پر کسٹمز ڈیوٹی میں کسی نئی چھوٹ کا ذکر اس دستاویز میں موجود نہیں ہے۔
تاہم معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ پراپرٹی سیکٹر میں فائلرز کے لیے ٹیکس کی شرح کو نصف کرنے سے ان سمندر پار پاکستانیوں کو بڑی ترغیب ملے گی جو پاکستان میں زمین یا مکان خریدنا چاہتے ہیں۔
