Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سونے کی تلاش، افغان شہریوں کے لیے دریا کی ریت میں چھپے سونے کے ذرات روزگار کی نئی امید

35 سالہ گل احمد جان نے بتایا کہ وہ ایک ہفتے میں خاطر خواہ آمدنی حاصل کر لیتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
افغانستان میں کنڑ صوبے کے دشوار گزار ہندوکش پہاڑوں کے دامن میں سینکڑوں افغان شہری کنڑ دریا کے خشک کنارے کو کھود کر سونے کے باریک ذرات تلاش کر رہے ہیں۔ کم اجرت والے ملک میں یہ کام ان کے لیے آمدنی کا ایک متبادل ذریعہ بن گیا ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق خروالو گاؤں کے قریب، کچی اینٹوں کے گھروں اور گندم کی کھیتوں کے پاس مرد دریا کے خشک حصے کو کھودتے ہیں اور پتھروں کو پانی سے چھان کر سونے کے ذرات نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
50 سالہ شہزادہ گولالہ، جو کابل میں تعمیراتی کام چھوڑ کر یہاں آئے ہیں، نے کہا کہ ’ملک میں روزگار کے مواقع کم ہیں، اس لیے ہم نے اپنے لیے کام پیدا کیا ہے۔‘ تاہم انہوں نے بتایا کہ ’سونے کے ذرات عموماً گندم کے دانے سے بھی چھوٹے ہوتے ہیں۔‘
غازی آباد کے علاقے میں سینکڑوں افراد پہاڑ کو کھودتے ہیں اور بوریوں کو ڈھلوان سے نیچے لا کر چھلنی پر ڈال کر ریت سے سونا چھانتے ہیں۔ کچھ لوگ دریا کا پانی پیلے ڈبوں میں بھر کر چھلنی پر ڈالتے ہیں تاکہ سونے کے ذرات چٹائی پر جمع ہو جائیں۔
35 سالہ گل احمد جان نے بتایا کہ وہ ایک ہفتے میں خاطر خواہ آمدنی حاصل کر لیتے ہیں۔ ’ہم تقریباً ایک گرام سونا نکال سکتے ہیں، جو 8 ہزار افغانی (125 ڈالر) تک فروخت ہوتا ہے۔‘
صوبائی محکمہ اطلاعات کے سربراہ نجیب اللہ حنیف کے مطابق مقامی افراد نے یہ طریقے ان کان کنوں سے سیکھے جو سونے سے مالا مال صوبوں سے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ مشینوں سے کھدائی شروع کر دیتے ہیں، جس پر مقامی افراد نے اسلامی امارت سے شکایت کی کہ یہ دریا اور پہاڑوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
حکام کے مطابق کنڑ میں ہزاروں افراد روایتی طریقے سے سونے کی تلاش میں مصروف ہیں۔ طالبان حکام نے حالیہ برسوں میں ملک کے مختلف حصوں میں کان کنی کو فروغ دیا ہے، جس سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار بھی متوجہ ہوئے ہیں۔

 

شیئر: