دنیا کے خوش ترین ممالک کی فہرست: فن لینڈ پہلے اور افغانستان آخری نمبر پر
دنیا کے خوش ترین ممالک کی فہرست: فن لینڈ پہلے اور افغانستان آخری نمبر پر
جمعرات 19 مارچ 2026 11:50
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ 2026 کے مطابق فن لینڈ مسلسل اپنی برتری برقرار رکھتے ہوئے ایک بار پھر دنیا کا خوش ترین ملک قرار پایا ہے۔
اس بار درجہ بندی میں صرف نارڈک ممالک کی برتری ہی نہیں بلکہ کچھ غیر متوقع نتائج بھی سامنے آئے ہیں، جنہوں نے عالمی سطح پر خوشی کے تصور کو نئے زاویے سے پیش کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کوسٹا ریکا چوتھے نمبر پر آ گیا ہے جبکہ میکسیکو بھی کئی امیر ممالک سے آگے نکل گیا ہے۔
یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ خوشی کا تعلق صرف آمدن سے نہیں بلکہ سماجی اعتماد، کمیونٹی اور روزمرہ زندگی کے معیار سے بھی ہے۔
رپورٹ میں نقشے کے ذریعے دنیا بھر کے ممالک میں خوشی کی سطح کا موازنہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
فن لینڈ 10 میں سے 7.8 سکور کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، جو اس کی طویل عرصے سے جاری برتری کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب کوسٹا ریکا اور میکسیکو اس فہرست میں آئرلینڈ، آسٹریلیا اور جرمنی جیسے زیادہ آمدن والے ممالک سے بھی آگے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سماجی تعلقات، کمیونٹی اور طرز زندگی جیسے عوامل بھی خوشی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جو صرف جی ڈی پی سے نہیں ناپے جا سکتے۔
یہ درجہ بندی کینٹرل لیڈر کے ذریعے کی گئی ہے، جس میں 0 سے 10 کے پیمانے پر افراد اپنی زندگی کا خود جائزہ دیتے ہیں۔ اس رپورٹ میں 147 ممالک اور ایک لاکھ سے زائد افراد کا ڈیٹا شامل ہے، جبکہ 2023 سے 2025 تک کے اوسط سکورز کو استعمال کیا گیا تاکہ زیادہ درست نتائج حاصل کیے جا سکیں اور سیمپلز کی غلطی کو کم کیا جا سکے۔
تصویر بشکریہ: voronoi by visual capitalist
امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور مغربی یورپ کے کئی ممالک 6.7 سے 6.9 کے محدود دائرے میں آ گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان ممالک میں خوشی کی سطح ایک حد پر جا کر رک گئی ہے۔ دوسری جانب مشرقی یورپ کے ممالک جیسے پولینڈ اور ایسٹونیا مسلسل بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں، جو بہتر ہوتے معیارِ زندگی اور سماجی حالات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ایشیا میں تائیوان 26 ویں نمبر کے ساتھ خطے کا سب سے خوش ملک ہے، جبکہ جاپان 61ویں اور چین 65ویں نمبر پر ہیں۔ افریقہ میں ماریشس سرفہرست ہے، جہاں نسبتاً کم بدعنوانی اور زیادہ متوقع عمر جیسے عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
برصغیر کا ذکر کیا جائے تو 104 نمبر پر پاکستان ہے جس کا ہیپی نیس سکور 4.9 ہے، جبکہ انڈیا 116ویں نمبر پر ہے اور اس کا سکور 4.5 ہے۔
ہیپی نیس انڈیکس کی فہرست کے 147ویں اور آخری نمبر پر افغانستان ہے جس کا سکور 1.4 ہے۔
دوسری جانب ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق نوجوانوں میں خوشی کی سطح میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کے باعث۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ویلبیئنگ ریسرچ سینٹر کی اس رپورٹ کے مطابق انگریزی بولنے والے ممالک اور مغربی یورپ میں نوجوان لڑکیوں پر اس کے اثرات زیادہ تشویشناک ہیں۔
نوجوانوں میں خوشی کی سطح میں کمی کی وجہ سوشل میڈیا کو قرار دیا جا رہا ہے۔ (فوٹو: روئٹرز)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں 25 سال سے کم عمر افراد کی زندگی سے اطمینان کی سطح گزشتہ دہائی میں نمایاں طور پر کم ہوئی ہے، اور اس کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنا ہے۔ کوسٹا ریکا اس سال چوتھے نمبر پر پہنچ گیا ہے، جو 2023 میں 23ویں نمبر پر تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس بہتری کی وجہ خاندانی تعلقات اور مضبوط سماجی روابط ہیں۔
آکسفورڈ کے ماہرِ معاشیات اور رپورٹ کے شریک مدیر جان-ایمانوئل ڈی نیو کے مطابق لاطینی امریکہ میں مضبوط خاندانی اور سماجی تعلقات موجود ہیں، جو دیگر خطوں کے مقابلے میں زیادہ سماجی سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ فن لینڈ اور دیگر شمالی یورپی ممالک کی مسلسل کامیابی کی وجہ دولت، اس کی مساوی تقسیم، مضبوط فلاحی ریاست اور بہتر صحت مند زندگی کی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق تنازعات کا شکار ممالک بدستور فہرست کے نچلے حصے میں ہیں، جہاں افغانستان ایک بار پھر سب سے ناخوش ملک قرار پایا، اس کے بعد سیرا لیون اور ملاوی کا نمبر آتا ہے۔ یہ درجہ بندی تقریباً 140 ممالک اور علاقوں کے ایک لاکھ افراد کے جوابات کی بنیاد پر کی گئی، جنہوں نے اپنی زندگی کو 0 سے 10 کے پیمانے پر درجہ دیا۔ یہ تحقیق گیلپ اور اقوام متحدہ کے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ سلوشنز نیٹ ورک کے تعاون سے کی گئی۔
دلچسپ طور پر مشرق وسطیٰ اور جنوبی امریکہ میں سوشل میڈیا کے استعمال کے باوجود نوجوانوں کی خوشی میں کمی نہیں دیکھی گئی، جس کی وجہ مختلف سماجی اور ثقافتی عوامل قرار دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2026 مسلسل دوسرا سال ہے جب کوئی بھی انگریزی بولنے والا ملک ٹاپ 10 میں شامل نہیں ہو سکا، جہاں امریکہ 23ویں، کینیڈا 25ویں اور برطانیہ 29ویں نمبر پر ہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں کئی ممالک کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے یا اس پر غور کر رہے ہیں، جس سے اس مسئلے کی سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔