Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فلم انڈسٹری میں کام کے طویل اوقات محدود کرنے کی تجویز پر بالی وڈ تقسیم، ’میں تو کام کی دلدادہ ہوں‘

مادھوری کا کہنا ہے کہ اگر کوئی خاتون کم گھنٹے کام کرنا چاہتی ہے تو یہ اس کا حق اور اس کی زندگی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
بالی وڈ میں طویل عرصے سے رائج سخت اور تھکا دینے والے کام کے اوقات اب غیر معمولی تنقید اور بحث کا موضوع بن گئے ہیں، جہاں معروف اداکار اور فلم ساز شوٹنگ کے اوقات کو روزانہ آٹھ گھنٹے تک محدود کرنے کی تجویز پر مختلف آراء رکھتے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس بحث نے اس وقت زور پکڑا جب معروف اداکارہ دیپکا پادوکون نے مبینہ طور پر گزشتہ سال ماں بننے کے بعد کم کام کے اوقات کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک بڑے فلمی منصوبے سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس واقعے نے انڈین فلمی صنعت میں کام اور ذاتی زندگی کے توازن کے مسئلے کو نمایاں کر دیا۔
بالی وڈ طویل عرصے سے سخت شیڈولز کے لیے مشہور رہا ہے، جہاں کام کے اوقات اکثر 12 سے 18 گھنٹے تک محیط ہوتے ہیں اور بعض اوقات اہم شوٹنگ کے دوران ایک دن سے بھی زیادہ جاری رہتے ہیں۔
تاہم، جو چیز کبھی معمول سمجھی جاتی تھی، اب اس پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں، اور کام کے مناسب ماحول اور روزانہ کے اوقات کار کی حد مقرر کرنے کے مطالبات بڑھ رہے ہیں۔
اصلاحات کے حامیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام خواتین پر غیر متناسب دباؤ ڈالتا ہے، کیونکہ انہیں اکثر مطالبات کرنے پر ’مشکل‘ یا ’حکم چلانے والی‘ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ مرد اداکاروں کے ساتھ عموماً ایسا رویہ نہیں اپنایا جاتا۔
متعدد اداکاروں، جن میں سنیل شیٹھی، کاجول اور رام کپور شامل ہیں، نے صحت مند حدود کے قیام کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کامیاب اور معروف فنکاروں کو اپنے کام کے اوقات مقرر کرنے کا حق ہونا چاہیے۔
رام کپور نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’جب آپ شوبز میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں تو پھر آپ یہ انتخاب کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ کتنے گھنٹے کام کرنا چاہتے ہیں۔‘
دوسری جانب بعض افراد کا مؤقف ہے کہ فلم سازی کی غیر متوقع نوعیت کے باعث بڑے بجٹ کی فلموں میں آٹھ گھنٹے کی سخت پابندی حقیقت پسندانہ نہیں۔

ناقص منصوبہ بندی یا کاروباری مجبوری؟

اداکارعلی فضل کا کہنا ہے کہ فلم سازی کسی کارپوریٹ ملازمت کی طرح نہیں، کیونکہ ہر منصوبے کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں، خصوصاً ایکشن یا تکنیکی طور پر پیچیدہ فلموں میں۔

دیپکا پادوکون نے مبینہ طور پر گزشتہ سال ماں بننے کے بعد کم کام کے اوقات کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک بڑے فلمی منصوبے سے علیحدگی اختیار کر لی۔ (فوٹو: اے ایف پی)

اداکارہ چترنگا سنگھ نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ موسم کی خرابی، آلات کی خرابی اور دیگر عوامل منصوبہ بندی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ان کے مطابق، ’فلم سازی کاروباری حقائق سے بھی چلتی ہے۔‘
صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ بڑی فلموں پر روزانہ ہزاروں ڈالر خرچ ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ شوٹنگ کے لیے وقت حاصل کرنے کا دباؤ موجود رہتا ہے۔
سائین اینڈ ٹی وی آرٹسٹ ایسوسی ایشن کے سابق عہدیدار امیت بہیل نے کہا کہ فلم ساز اکثر شوٹنگ کو درمیان میں روکنے کے متحمل نہیں ہو سکتے، خاص طور پر جب بڑی تعداد میں عملہ یا پیچیدہ ایکشن مناظر شامل ہوں۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ فلم ’ایمینل‘  کی شوٹنگ کے لیے استعمال ہونے والا بنگلہ روزانہ تقریباً 25 لاکھ انڈین روپے کرائے پر حاصل کیا گیا تھا، جبکہ جونیئر فنکاروں، کھانے پینے، بجلی، وینٹی وینز اور سکیورٹی پر اضافی اخراجات بھی ہوتے ہیں۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ دلائل اکثر ناقص منصوبہ بندی اور نظامی خامیوں کو چھپانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، جبکہ طویل اوقات کار کا بوجھ اداکاروں اور عملے پر ڈال دیا جاتا ہے۔

امت بہل نے کہا کہ انہوں نے شاہ رخ خان کو ایک منظر مکمل کرنے کے لیے مسلسل 27 گھنٹے کام کرتے دیکھا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

فلم ساز شیکھر کپور نے اس درجہ بندی پر تنقید کی جس میں بڑے ستاروں کو تکنیکی عملے پر فوقیت دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق، کام اور زندگی کا توازن سیٹ پر موجود ہر فرد کا حق ہونا چاہیے۔

’میں کام کی دلدادہ ہوں‘

اس تنازعے نے فلمی صنعت میں موجود عدم مساوات کو بھی نمایاں کیا ہے، جہاں جونیئر فنکاروں اور عملے کے پاس اکثر بہتر شرائط پر مذاکرات کی طاقت نہیں ہوتی۔
بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ بحث بالی وڈ میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے، جہاں نوجوان پیشہ ور افراد اور سینئر ستارے پرانے اصولوں کو چیلنج کرنا شروع کر رہے ہیں۔
تاہم اختلافِ رائے اب بھی برقرار ہے۔
امت بہل نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شاہ رخ خان کو ایک منظر مکمل کرنے کے لیے مسلسل 27 گھنٹے کام کرتے دیکھا ہے، حالانکہ انہیں ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کے مطابق بعض اوقات ایکشن مناظر کے دوران شوٹنگ کو درمیان میں روکنا ممکن نہیں ہوتا۔
دوسری طرف، تجربہ کار اداکارہ مادھوری ڈکشٹ اس مسئلے کو ایک ذاتی انتخاب سمجھتی ہیں، نہ کہ نظامی خرابی۔
انہوں نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی 2025 کی کرائم تھرلر فلم مسز دیشپانڈے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا  کہ ’ہم روزانہ 12 یا اس سے زیادہ گھنٹے کام کرتے تھے، لیکن اگر کوئی خاتون کم گھنٹے کام کرنا چاہتی ہے تو یہ اس کا حق اور اس کی زندگی ہے۔ میں اس کی حمایت کرتی ہوں۔ ہر شخص کی اپنی پسند ہے، اور میں تو کام کی دلدادہ ہوں!

شیئر: