پاکستان میں بجلی کے نرخوں میں ان صارفین کو خصوصی رعایت یا سبسڈی دی جاتی ہے جن کا ماہانہ استعمال 200 یونٹ تک محدود ہوتا ہے۔ تاہم اب وفاقی حکومت نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اس سبسڈی کے پورے طریقہ کار پر نئے سرے سے نظرِ ثانی کر رہی ہے، جس کا مقصد ’بلائنڈ سبسڈی‘ کا خاتمہ اور اس ریلیف کو صرف اصل مستحقین تک محدود کرنا ہے۔
حکومت کے اس فیصلے کے بعد بجلی صارفین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور یہ بحث تیز ہو چکی ہے کہ اب 200 یونٹ تک استعمال کرنے والے کون سے طبقے اس رعایتی دائرے میں برقرار رہ سکیں گے اور کون سے باہر ہو جائیں گے؟
اگر اس تمام صورتحال میں حکومتی موقف کو دیکھا جائے تو وفاقی وزیرِ بجلی سردار اویس لغاری کا کہنا ہے کہ 200 یونٹ تک کے صارفین کے لیے سستی بجلی کی سہولت سرے سے ختم نہیں کی جا رہی، بلکہ صرف بلائنڈ سبسڈی کو روکا جا رہا ہے تاکہ غریب اور پسے ہوئے طبقے کا حق کسی اور تک نہ پہنچ سکے۔
مزید پڑھیں
-
بجلی کی لوڈشیڈنگ عارضی ہے، عوام سے معذرت کرتے ہیں: اویس لغاریNode ID: 903109
اس سلسلے میں حکومت نے ایک نیا اور ٹارگٹڈ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اب یہ ریلیف صرف شناختی کارڈ کی تصدیق اور میرٹ سے مشروط ہوگا۔
لیکن یہاں سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ حکومت کو اس سبسڈی کے ڈھانچے کو چھیڑنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
اس بارے میں وزیرِ توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ’پروٹیکٹڈ‘ صارفین کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
اُن کے مطابق چند سال پہلے تک ملک میں 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے غریب صارفین کی تعداد 60 سے 70 لاکھ کے درمیان تھی، جو اب بڑھ کر دو کروڑ 15 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یعنی ملک کے کل بجلی صارفین کا تقریباً 86 فیصد حصہ اب اس ریلیف کا دعویدار بن چکا ہے۔
اُنہوں نے میڈیا سے گفتگو میں مزید کہا کہ ’اب حکومت اتنی بڑی تعداد کو سستی بجلی دینے کے لیے سالانہ 527 ارب روپے کی خطیر رقم درکار ہوتی ہے۔ اس میں سے نصف بوجھ حکومت اٹھاتی ہے جبکہ باقی 278 ارب روپے کا بوجھ انڈسٹری اور زیادہ بجلی استعمال کرنے والے دیگر گھریلو صارفین پر کراس سبسڈی کی شکل میں ڈال دیا جاتا ہے۔‘
وفاقی حکومت کا یہ موقف بھی ہے کہ اس پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے اس رعایت کا غلط استعمال بھی ہو رہا ہے۔ بڑے گھروں، بنگلوں کے سرونٹ کوارٹرز، خالی پلاٹوں کے کنکشنز اور یہاں تک کہ مینیجڈ ریڈنگ کے ذریعے امیر طبقہ بھی متعدد میٹرز لگا کر خود کو 200 یونٹ سے نیچے رکھتا تھا اور غریب کے نام پر دی جانے والی سبسڈی کا فائدہ خود اٹھا رہا تھا۔
نیا حکومتی منصوبہ کیا ہے؟
اب حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ غریب ترین طبقے کے لیے سبسڈی مکمل ختم نہیں کر رہی، بلکہ اسے ’ٹارگٹڈ‘ بنا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے پاور انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی کے تحت ایک باقاعدہ ڈیجیٹل میکانزم لانچ کیا گیا ہے، جس کا حتمی ہدف جنوری 2027 تک اس پورے ریلیف کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور نیشنل سوشل اکانومک رجسٹر کے ڈیٹا بیس سے جوڑنا ہے۔

اس وقت بلوں پر ایک کیو آر کوڈ بھی متعارف کرایا جا چکا ہے، جس کے ذریعے اب تک 20 لاکھ سے زائد صارفین اپنے میٹر کو شناختی کارڈ سے لنک کر چکے ہیں۔
نئی پالیسی کے مطابق اس ریلیف کے لیے صرف وہ صارفین ’ان‘ تصور کیے جائیں گے جو ’پروٹیکٹڈ یا لائف لائن‘ کیٹیگری پر پورا اترتے ہیں، یعنی جنہوں نے گزشتہ مسلسل چھ ماہ کے دوران کسی ایک مہینے میں بھی 200 سے زائد یونٹ استعمال نہ کیے ہوں۔
اس کے ساتھ ہی، صرف ان صارفین کو سبسڈی کا حقدار مانا جائے گا جو اپنے بجلی کے بل پر موجود کیو آر کوڈ کے ذریعے اپنے شناختی کارڈ اور موبائل نمبر کی سے تصدیق کروائیں گے، جبکہ ایک شناختی کارڈ پر صرف ایک ہی میٹر کو اس رعایت کے لیے اہل مانا جائے گا۔
دوسری جانب، وہ صارفین اس سسٹم سے فوری طور پر ’آؤٹ‘ ہو جائیں گے جن کا استعمال گرمیوں کے کسی ایک ماہ میں بھی 200 یونٹ کی حد سے اوپر چلا گیا، جس کے بعد وہ اگلے چھ ماہ کے لیے سستی بجلی کی لسٹ سے باہر کر دیے جائیں گے۔
مزید برآں، وہ صارفین جو اپنے میٹر کو شناختی کارڈ سے لنک کرانے میں ناکام رہیں گے، یا وہ امیر اور مڈل کلاس لوگ جو ایک ہی احاطے میں متعدد میٹرز لگا کر سبسڈی کا فائدہ اٹھا رہے تھے، اب نئے ڈیٹا بیس فلٹر کے باعث اس رعایتی دائرے سے مستقل باہر ہو جائیں۔
انرجی سیکٹر پر گہری نظر رکھنے والے ماہر ڈاکٹر شعیب احمد کے مطابق ’اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ 200 یونٹ تک کی کیٹیگری میں اس وقت ایسے صارفین شامل ہو چکے ہیں جو شاید اس رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’ملک میں بہت سے ایسے صارفین موجود ہیں جنہوں نے یا تو گھروں میں دو دو میٹرز لگا رکھے ہیں یا پھر اُن کے ہاں سولر سسٹم نصب ہے، جس کے باعث وہ کسی نہ کسی طرح پروٹیکٹڈ صارفین کی فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔‘

تاہم، انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار بھی کیا کہ حکومت کس میکانزم کے تحت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ یہ سبسڈی صرف اور صرف اصل مستحقین تک ہی پہنچے، اور اس پورے عمل کو سیاسی یا کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت سے پاک رکھا جا سکے۔
اسی طرح، سابق چیئرمین این ٹی ڈی سی ماہر توانائی ڈاکٹر فیاض چوہدری کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین، جو چند سال پہلے تک محض لاکھوں میں تھے، اب اُن کی تعداد بڑھ کر دو کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جو کہ ایک حیران کن اضافہ ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’یہاں یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اچانک 200 یونٹ والے صارفین کی اتنی بڑی تعداد کیسے سامنے آئی؟‘ اور اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ ’لوگوں نے گھروں میں اضافی میٹرز لگوا کر یا سولر ٹیکنالوجی کے سہارے خود کو اس رعایتی کیٹیگری میں شامل کر لیا۔‘
ڈاکٹر فیاض چوہدری کے مطابق ’میرا کافی عرصے سے یہی موقف رہا ہے کہ پاور سیکٹر کو انصاف کے اصولوں پر چلنا چاہیے، یعنی ملک کے تمام صارفین کے لیے بجلی کا ایک ہی یکساں ٹیرف ہونا چاہیے۔‘
اُن کے خیال میں حکومت جن لوگوں کو واقعی مستحق سمجھتی ہے، اُن کے بلوں کی ادائیگی وہ خود کرے یعنی اگر کسی صارف کا اصل بل 15 ہزار روپے بنتا ہے اور وہ کم یونٹس کی وجہ سے رعایت کا دعویدار ہے، تو حکومت اس سے صرف اوسط رقم چارج کرے اور بقیہ اضافی بل کی رقم اپنی جیب سے ادا کرے۔‘
ڈاکٹر فیاض چوہدری کے مطابق ’بجلی کی تیاری پر آنے والی اصل لاگت تمام بلوں میں واضح طور پر نظر آنی چاہیے کیونکہ بجلی 35 سے 36 روپے فی یونٹ میں بن رہی ہے۔‘













