Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا: ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی کا دہلی میں احتجاج کا اعلان، ’ وہ مجھے گرفتار کریں گے‘

انڈیا میں وائرل ہونے والی طنزیہ ’کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ نئی دہلی میں احتجاج کی قیادت کریں گے تاکہ اس سوشل میڈیا مہم کو سڑکوں تک لایا جا سکے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق  کاکروچ جنتا پارٹی جو وزیرِاعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی پر طنز کے طور پر بنائی گئی ہے، اپنے آغاز کے بعد سے سوشل میڈیا پر لاکھوں فالوورز حاصل کر چکی ہے۔
یہ پارٹی اُس وقت قائم کی گئی جب چیف جسٹس سوریا کانت نے مبینہ طور پر ایک سماعت کے دوران حکومت پر تنقید کرنے والے نوجوانوں کو ’کاکروچز‘ اور ’پیراسائٹسکہا تھا۔
بعد ازاں جسٹس کانت نے کہا کہ ان کے ریمارکس کو غلط تناظر میں پیش کیا گیا اور وہ دراصل جعلی ڈگریاں استعمال کرنے والوں کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔
30 سالہ ابھیجیت دِپکے، جو اس آن لائن تحریک کے بانی ہیں اور بوسٹن یونیورسٹی کے گریجویٹ ہیں، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ایکس) پر لکھا ہے کہ وہ ہفتے کے روز انڈیا واپس جاکر ’پرامن احتجاج‘ کی قیادت کریں گے۔
انہوں نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، جن پر کئی اہم امتحانات میں بے ضابطگیوں کے الزامات لگے ہیں۔
ابھیجیت دِپکے نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’طلبہ نے خودکشیاں کی ہیں اور دسیوں ہزار طلبہ کی محنت ضائع ہو گئی ہے۔‘
سی جے پی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، جو خود کو ’نوجوانوں کے لیے، نوجوانوں کے ذریعے ایک سیاسی پلیٹ فارم‘ کہتا ہے، انڈیا میں متعدد بار بلاک کیے جا چکے ہیں۔
اس کے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے 22 ملین سے زائد فالوورز ہیں، جو کہ بی جے پی کے 9.5 ملین اور کانگریس پارٹی کے 13.9 ملین فالوورز سے بھی زیادہ ہیں۔
ابھیجیت دِپکے نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ نئی دہلی ایئرپورٹ پر ان سے ملیں اور پھر پولیس سے احتجاج کی اجازت لینے کے لیے ان کے ساتھ جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ’میرے دوست اور خاندان اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ مجھے ایئرپورٹ پر ہی گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جائے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’لیکن مجھے اب بھی امید ہے کہ ہمارا ملک آج بھی ایک جمہوریت ہے اور ہمیں پرامن احتجاج کی اجازت دی جائے گی۔‘
ناقدین بارہا نریندر مودی کی حکومت پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ ریاستی اداروں کے ذریعے اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش کرتی ہے، تاہم حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

شیئر: