Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں: افغان وزیر خارجہ

اجلاس میں سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی امور، علاقائی تعاون، تجارت اور ٹرانزٹ راستوں کی توسیع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
افغانستان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے کہا ہے کہ افغانستان آئندہ تین سے چار برسوں میں وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ تجارت کا حجم بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا خواہاں ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغان وزیر خارجہ نے اتوار کو کابل میں ’تعمیری مکالمہ‘ کے عنوان سے منعقدہ اجلاس کے دوران، جس میں تاجکستان، ترکمانستان، کرغزستان، ازبکستان اور قازقستان کے نمائندوں نے شرکت کی، کہا کہ سنہ 2025 میں افغانستان کے شمال میں واقع وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ تجارت کا حجم تقریباً دو ارب 70 کروڑ ڈالر رہا، جو گذشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
اجلاس میں سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی امور، علاقائی تعاون، تجارت اور ٹرانزٹ راستوں کی توسیع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امیر خان متقی کا کہنا تھا کہ افغانستان وسطی ایشیا کو جنوبی اور مغربی ایشیا سے جوڑنے کے لیے اپنے ’جیو اکنامک محلِ وقوع‘ کو بروئے کار لانا چاہتا ہے۔
اہم منصوبوں میں تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ (ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-انڈیا) شامل ہے، جو افغانستان کے مغربی شہر ہرات اور ترکمانستان کے درمیان ایک بڑا منصوبہ ہے، جس کا تقریباً 25 کلومیٹر حصہ اب تک افغانستان میں مکمل کیا جا چکا ہے۔
طالبان حکومت عالمی پابندیوں کے باوجود، جو اس کے بینکاری نظام پر عائد ہیں اور سرمایہ کاروں کو محتاط بناتی ہیں، دنیا کے ساتھ تجارت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
روس واحد ملک ہے جس نے باضابطہ طور پر طالبان کو تسلیم کیا ہے، جو سنہ 2021 میں اقتدار میں واپس آئے، تاہم ترکیہ، چین، انڈیا اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک افغانستان میں اپنے سفارت خانے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
خشکی میں گھرے وسطی ایشیا کے ممالک اپنی تاریخی حیثیت کو ایک اہم تجارتی گزرگاہ کے طور پر بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سمندر تک رسائی، جو افغانستان کے راستے جنوب کی جانب ممکن ہے، اس لیے اہم ہے کیونکہ روس کے راستے شمالی روٹ پابندیوں کی وجہ سے متاثر ہے۔
افغانستان گذشتہ کئی ماہ سے اپنے مشرقی ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ کشیدگی کا شکار ہے اور اسے شدید انسانی بحران کا بھی سامنا ہے، تاہم وہ متبادل شراکت داریاں تلاش کر رہا ہے۔
افغانستان کی تاجکستان کے ساتھ 2329 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جو ماضی میں سرحد پار جھڑپوں کے باعث طالبان حکومت پر تنقید کرتا رہا ہے۔
امیر خان متقی نے تسلیم کیا کہ ’داعش سے لاحق خطرہ، منشیات کی سمگلنگ اور غیرقانونی ہجرت جیسے مسائل ہماری مشترکہ تشویشات میں شامل ہیں‘، تاہم انہوں نے کہا کہ ’اب ہماری مشترکہ سرحدوں پر کوئی سکیورٹی مسائل باقی نہیں رہے۔‘

 

شیئر: