فرانس نے ایرانی سرمایہ کار سے منسلک ’روسی تیل بردار جہاز‘ قبضے میں لے لیا
فرانس نے ایرانی سرمایہ کار سے منسلک ’روسی تیل بردار جہاز‘ قبضے میں لے لیا
پیر 1 جون 2026 16:45
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے اعلان کیا ہے کہ فرانسیسی بحریہ نے بحرِ اوقیانوس میں روس سے منسلک ایک ایسے تیل بردار بحری جہاز کو اپنی حراست میں لے لیا ہے جس کے تار مبینہ طور پر ایک ایرانی کاروباری شخصیت سے جڑے ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کریملن نے روس پر عائد عالمی پابندیوں کو ناکام بنانے والے اس ’شیڈو فلیٹ‘ یعنی خفیہ بحری بیڑے کے خلاف فرانسیسی کارروائی کو ’بین الاقوامی قزاقی‘ سے تشبیہ دی ہے۔
روس کی جانب سے یوکرین پر سنہ 2022 کے حملے کے بعد مغربی ممالک نے ماسکو کی فوسل فیول (معدنی ایندھن) کی برآمدات پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ روس ان پابندیوں سے بچنے کے لیے ’شیڈو فلیٹ‘ کا استعمال کرتا رہا ہے اور ستمبر سے اب تک فرانس ایسے تین دیگر مشتبہ جہازوں کو بھی روک چکا ہے۔
سرکاری پراسیکیوٹر کے مطابق ’ٹیگور‘ نامی اس آئل ٹینکر کو اتوار کی صبح برطانیہ اور دیگر اتحادیوں کی مدد سے اس وقت بین الاقوامی سمندری حدود سے حراست میں لیا گیا جب اس کے روسی کپتان نے فرانسیسی حکام کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا۔
صدر میکخواں نے سوشل میڈیا پر اس آپریشن کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں کمانڈوز کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے رسیوں کے سہارے جہاز پر اترتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
فرانسیسی صدر نے ایکس پر لکھا ’یہ ناقابلِ قبول ہے کہ بحری جہاز بین الاقوامی پابندیوں کو بائی پاس کریں، سمندری قوانین کی خلاف ورزی کریں اور اس جنگ کے لیے فنڈز فراہم کریں جو روس گزشتہ چار سال سے زائد عرصے سے یوکرین کے خلاف لڑ رہا ہے۔‘
ماسکو کا سخت ردعمل اور ایرانی تعلق کے شبہات
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے فرانسیسی اقدام پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’ہم ان اقدامات کو غیر قانونی سمجھتے ہیں۔ یہ بین الاقوامی قزاقی کے مترادف ہے۔ روس اپنے کارگو کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہا ہے۔‘
پیرس میں روسی سفارت خانے نے بھی شکوہ کیا ہے کہ فرانس کی جانب سے انہیں اس کارروائی کے بارے میں کوئی باقاعدہ اطلاع نہیں دی گئی اور انہوں نے جہاز کے عملے کی تفصیلات طلب کی ہیں۔
فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ ’ٹیگور‘ روس کے شمال مغربی شہر مرمانسک سے روانہ ہوا تھا (فوٹو: فرنچ آرمی)
اوپن سورس ڈیٹا بیس ’اوپن سینکشنز‘کے مطابق بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود روسی یا ایرانی تیل لے جانے کے شبہ میں حراست میں لیے گئے اس جہاز کے روابط پٹرولیم شپنگ کے مایہ ناز تاجر محمد حسین شمخانی سے بتائے جاتے ہیں۔
حکام نے فی الحال اس تعلق پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ محمد حسین شمخانی ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے مشیر اور سکیورٹی اہلکار علی شمخانی کے بیٹے ہیں۔
یہ دونوں شخصیات رواں سال 28 فروری کو مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے آغاز میں ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ماری گئی تھیں۔
آپریشن کیسے ہوا؟
فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ ’ٹیگور‘ روس کے شمال مغربی شہر مرمانسک سے روانہ ہوا تھا اور اسے برٹنی کے ساحل سے قریباً 400 ناٹیکل میل (740 کلومیٹر) مغرب میں روکا گیا۔
بحری پریفیکچر کے ترجمان گیوم لی راسلے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ جہاز پہلے ہی سے ان کی نظروں میں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاز پر افریقی ملک کیمرون کا فرضی پرچم لہرا رہا تھا اور وہ کیمرون کے ہی ایک ساحلی شہر لیمبے کی طرف جا رہا تھا۔
’شیڈو فلیٹ‘ کے جہاز اکثر ٹریکنگ سے بچنے کے لیے پرچم بدلتے رہتے ہیں جسے سمندری زبان میں ’فلیگ ہاپنگ‘ کہا جاتا ہے۔
دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد پرچم کی غیر قانونی حیثیت واضح ہو گئی جس کے بعد 23 رکنی عملے کے حامل اس جہاز کو مزید تفتیش کے لیے فرانسیسی بحریہ کی نگرانی میں ایک بندرگاہ کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔
برطانوی وزارتِ دفاع نے بھی اس آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوتن کی یوکرین پر غیر قانونی جارحیت کے فنڈز روکنے کے لیے ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
اب تک ایسے 600 کے قریب مشتبہ جہاز یورپی یونین کی پابندیوں کی زد میں ہیں۔ فرانس نے حال ہی میں ایسے جہازوں کے خلاف سزائیں اور جرمانے دگنے کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔