Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے ہمیں ’بلیک میل‘ نہیں کر سکتا: صدر ٹرمپ

ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے ایک بار پھر بندشیں لگانے کا اعلان کر دیا تھا۔ (فوٹو: روئٹرز)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایران کو خبردار کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر اپنے بدلتے مؤقف کے ذریعے واشنگٹن کو ’بلیک میل نہ کرے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ کی وارننگ اس وقت سامنے آئی جب تہران نے اس سٹریٹجک آبی راستے کو ایک بار پھر بند کرنے کا اعلان کر دیا۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ ’ہم ان سے بات کر رہے ہیں۔ وہ دوبارہ آبنائے بند کرنا چاہتے تھے۔ آپ جانتے ہیں، جیسے وہ برسوں سے کرتے آئے ہیں، اور وہ ہمیں بلیک میل نہیں کر سکتے۔‘
  قبل ازیں ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے ایک بار پھر بندشیں لگانے کا اعلان کر دیا تھا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ایران کا یہ اقدام امریکہ کی جانب سے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ناکہ بندی برقرار رہے گی۔
ایران کی مشترکہ فوجی کمان نے سنیچر کو کہا کہ ’آبنائے ہرمز واپس سابقہ حالت اور مسلح افواج کے سخت کنٹرول میں چلی گئی ہے۔‘
فوجی کمان کی جانب سے متنبہ کیا گیا ہے کہ جب تک امریکی ناکہ بندی نافذ رہے گی تب تک آبی گزرگاہ کو بند رکھا جائے گا۔
اس سے تھوڑی دیر قبل ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا تھا کہ اگر ایرانی بندرگاہوں اور جہازوں پر امریکی ناکہ بندی برقرار رہی تو جوابی کارروائی کی جائے گی۔
ایران نے چند گھنٹے قبل اشارہ دیا تھا کہ اگر امریکی ناکہ بندی برقرار رہی تو وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر سکتا ہے جس کو اس نے جنگ کے باعث کئی روز کی بندش کے بعد جمعے کو کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

شیئر: