سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران 15 ہزار 458 غیر قانونی تارکین گرفتار
7 ہزار 392 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی مزید 15 ہزار 458 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں جبکہ 7 ہزار 392 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق’ 2 سے 8 اپریل 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 8 ہزار 440 افراد کو اقامہ قانون، 4 ہزار 54 کوغیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور دو ہزار 964 کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔‘
’غیر قانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار 600 افراد کو حراست میں لیا گیا، ان میں 60 فیصد ایتھوپین، 39 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں 47 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے، جو سرحد پار کرکے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 30 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔
سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے’جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
