Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عمان کے ساتھ معاہدے کے ’قریب‘، مگر صرف اس سے گزرگاہ نہیں کھلے گی: ایران

ایران نے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے کنٹرول سے متعلق معاہدہ قریب ہے مگر یہ آبی گزرگاہ کو کھولنے کے لیے کافی نہیں ہو گا۔
دوسری جانب یو اے ای کا کہنا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں اس کے ایک اور بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان موجود آبی گزرگاہ پر دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے کو اس جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے وسیع معاہدے کے لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے جس کا آغاز 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے ساتھ ہوا تھا۔
اس کے نتیجے میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا جو کہ عالمی سطح پر ہونے والی تیل کی تجارت کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔
ایک امریکی سرکاری عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واشنگٹن کو توقع ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان جلد ہی معاہدہ طے پا جائے گا اور تیل کی معمول کے مطابق آمد و رفت شروع ہو جائے گی۔
ایران کے وزیر خارجہ عباسی عراقچی نے سنیچر کو ایک بیان میں کہا کہ ’ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے ایک نئے راستے کے معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں، تاہم اس کے کھلنے کا انحصار کچھ دیگر شرائط پر ہو گا جن میں ایران کو معاوضے کی ادائیگی کا معاملہ بھی شامل ہے۔‘
رپورٹ کے مطابق ایران کے قومی سلامتی کے ادارے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر کی جانب سے درج کی گئی شرائط میں ایران پر امریکی حملوں کا خاتمہ ، لبنانی، فلسطینی، یمنی اور عراقی اتحادیوں پر حملے بند کرنے، ایران پرعائد پابندیاں اٹھانے اور ایران کے اثاثوں کو آزاد کرنے کے نکات شامل ہیں۔
عمان کی جانب سے بھی بتایا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے راستے جہاز رانی کے انتظامات پر ’مثبت اور تعمیری‘ مذاکرات ہوئے۔
تاہم اس نے آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں پر بار بار حملوں کی مذمت بھی کی ہے۔
عمان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ’عمان کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کی اہمیت پر زور دیتا ہے جن سے مذاکرات متاثرنے کا خدشہ ہو اور ان کو اس طرح سے آگے بڑھایا جائے کہ تمام فریقین کا مفاد ملحوظ خاطر رہے۔‘
عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ بحری ٹریفک سے متعلق پچھلی سکیم اب تہران کو قابل قبول نہیں اور اب وہ عمان کے ساتھ ایک عارضی راستے کے بارے میں بات کر رہا ہے جبکہ مستقل راستے کے حوالے سے تکنیکی و قانونی معاملات کو حل کر لیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں ایران کے صدر مسعود پزشکیان جو ایک اعتدال پسند شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں موجودہ وقت معاہدے کے لیے بہترین ہے۔
ایران کے خبر رساں اداروں کے مطابق انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’ملک میں ہم آہنگی، اتحاد اور طاقت موجود ہے اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں ایران کو طاقتور اور اس جنگ کا فاتح سمجھا جا رہا ہے۔‘
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ سنیچر کو ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اس کے ایک ٹینکر کو نشانہ بنایا۔
اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

شیئر: