Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آزاد ریاست تسلیم کرنے کے چند ہفتوں بعد اسرائیلی وزیر خارجہ کا صومالی لینڈ کا دورہ

صومالی لینڈ نے سنہ 1991 میں آزادی کا اعلان کیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی
ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے دو ہفتے بعد اسرائیلی وزیر خارجہ صومالیہ کے علاقے صومالی لینڈ کے دورے پر پہنچے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صومالی لینڈ کے صدارتی دفتر سے جاری بیان کے مطابق یہ کسی بھی اعلٰٰی اسرائیلی عہدیدار کا ملک کو تسلیم کیے جانے کے بعد پہلا باضابطہ سرکاری دورہ ہے۔
اسرائیل نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ صومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر تسلیم کر رہا ہے۔ یہ خود ساختہ جمہوریہ کے لیے پہلی موقع تھا کہ اُس کو کسی ملک نے تسلیم کیا جس نے سنہ 1991 میں یکطرفہ طور پر صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔
ایوان صدر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈون سار کی قیادت میں ایک وفد ہرگیسا ٹاؤن میں اترا، ائیرپورٹ پر اُن کا استقبال اعلیٰ سرکاری حکام نے کیا۔ انہوں نے صومالی لینڈ کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔‘
صومالی لینڈ خلیج عدن پر ایک سٹریٹجک پوزیشن پر واقع ہے جو کئی دہائیوں سے بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔ اس علاقے کی اپنی کرنسی، پاسپورٹ اور فوج ہے تاہم اس کو افریقی ممالک صومالیہ کا حصہ قرار دیتے ہیں جبکہ اقوام متحدہ بھی صومالیہ کا حصہ سمجھتا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے اس خطے کو الگ ریاست تسلیم کرنے پر افریقہ اور مسلم اکثریتی ممالک کی جانب سے بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی۔ ان ملکوں نے اسرائیلی اقدام کو صومالیہ کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا۔
اسرائیلی اقدام کے بعد یورپی یونین نے بھی کہا تھا کہ صومالیہ کی خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے۔
صومالی صدر حسن شیخ محمد نے اسرائیلی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’ہارن آف افریقہ میں استحکام کے لیے ’خطرہ‘ قرار دیا۔
الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صومالی لینڈ نے اسرائیل کی تین شرائط قبول کی ہیں: فلسطینیوں کی آباد کاری، خلیج عدن میں فوجی اڈے کا قیام اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ابراہام معاہدے میں شامل ہونا۔

یہ دسمبر 1992 کی تصویر ہے جب امریکی فوج صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں اتری تھی۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

لیکن صومالی لینڈ کی وزارت خارجہ نے پہلی دو شرائط کی تردید کی۔
صومالی لینڈ سنہ 1991 میں اپنی آزادی کے اعلان کے بعد سے سفارتی طور پر الگ تھلگ ہے ہرچند کہ وہاں پر صومالیہ کے مقابلے میں امن و امان کی صورتحال زیادہ مستحکم نظر آتی ہے۔
صومالیہ میں الشباب تنظیم کے عسکریت پسند وقتاً فوقتاً دارالحکومت موغادیشو میں حملے کرتے رہتے ہیں۔
علاقائی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صومالی لینڈ کے ساتھ تعلقات اسرائیل کو بحیرہ احمر تک بہتر رسائی فراہم کر سکیں گے جس سے وہ یمن میں حوثی باغیوں کو نشانہ بنا سکے گا۔
دنیا کی مصروف ترین شپنگ لین یا بحری تجارتی گزرگاہ میں سے ایک کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے صومالی لینڈ دُنیا کے لیے ایک اہم خطہ بن چکا ہے۔

 

شیئر: