Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خواتین کا ریپ اور تاوان، سوڈان میں آر ایس ایف کے جنگجوؤں پر الزام

تمام خواتین نے نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز آر ایس ایف کو ذمہ دار ٹھہرایا (فوٹو: اے ایف پی)
دو دن تک ننگا، بھوکا اور ریپ کا شکار ہونے والی ایک عورت نے بتایا کہ اس کے اغوا کاروں نے اس اذیت کے بعد اسے فون پکڑایا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے دوستوں اور خاندان کو کال کرو، انہیں کہو کہ تمہاری آزادی خریدیں ورنہ تمہیں مار دیا جائے گا۔
38 سالہ عورت نے بتایا کہ وہ فون پر چیختی رہی جبکہ اس کے عزیز خوف سے سنتے رہے۔ اب وہ دارالحکومت خرطوم میں محفوظ ہے اور اپنے چہرے اور جسم کی تصاویر دیکھتی ہے جو اس نے ستمبر میں رہائی کے بعد لی تھیں۔ وہ چاہتی ہے کہ یہ تصاویر ثبوت کے طور پر استعمال ہوں تاکہ حملہ آوروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
اقوام متحدہ نے جنسی تشدد کو سوڈان کی جنگ کی ’سب سے نمایاں چیز‘ میں سے ایک قرار دیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے جنسی حملوں میں اضافہ ہوا ہے، اور کئی خواتین کو جنسی غلامی میں رکھا گیا اور تاوان ادا کرنے پر مجبور کیا گیا جو بعض اوقات دس ہزار ڈالر تک ہوتا ہے۔
تین خواتین نے بتایا کہ انہیں اغوا کیا گیا، جنسی غلام بنایا گیا اور آزادی خریدنے پر مجبور کیا گیا۔ امدادی کارکنوں نے انہیں صحافیوں سے ملوایا اور کہا کہ وہ ان واقعات سے آگاہ ہیں۔ سوڈان میں جنسی حملے پر بات کرنا اب بھی سخت ممنوع سمجھا جاتا ہے۔
تمام خواتین نے نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز آر ایس ایف کو ذمہ دار ٹھہرایا جو سوڈانی فوج سے لڑ رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے گروپوں نے تمام فریقین پر الزام لگایا ہے لیکن زیادہ تر تشدد آر ایس ایف کے جنگجوؤں نے کیا ہے، خاص طور پر خرطوم، دارفور اور جزیرہ ریاست میں۔
ایک عورت نے بتایا کہ وہ اپنے شہر الفاشر سے فرار ہوئی تھی۔ اس کا شوہر فوجی تھا جو مارا گیا، بھائی زخمی ہوا۔ آر ایس ایف نے راستے میں گھات لگا کر حملہ کیا، مردوں کو الگ کیا اور سب کو کپڑے اتارنے پر مجبور کیا۔ جب انہوں نے بھائی کو مارنے کی کوشش کی تو اس نے کہا کہ مجھے لے لو۔
اسے باندھ کر مارا گیا اور چار دیگر خواتین کے ساتھ ایک ویران گاؤں لے جایا گیا۔ وہاں دو دن تک مختلف مردوں نے بار بار ریپ کیا۔ دوسرے دن اسے فون دیا گیا اور کہا گیا کہ آزادی کے لیے 15 سو ڈالر دو۔ اس نے اپنا بینک اکاؤنٹ خالی کر دیا اور رشتہ داروں سے مدد مانگی۔ آخرکار تقریباً 700 ڈالر کے بدلے اسے چھوڑا گیا۔

38 سالہ عورت اب بے گھر افراد کے کیمپ میں رہتی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ایک اور عورت نے بتایا کہ تاوان ادا کرنے کے باوجود اسے آزاد نہیں کیا گیا۔ ایک جنگجو نے ہمدردی دکھائی اور رات کو اسے چھپ کر باہر نکالا۔ تیسری عورت نے کہا کہ اسے جنوبی کورڈوفان میں اغوا کیا گیا، نو دن تک قید رکھا گیا اور ایک بار ریپ کیا گیا۔
ماہرین کہتے ہیں کہ تاوان نے خاندانوں کو مالی اور جذباتی طور پر تباہ کر دیا ہے۔ لوگ اپنے زیورات، گاڑیاں اور گھر بیچنے پر مجبور ہیں۔ مقامی تنظیمیں کہتی ہیں کہ ان کے پاس متاثرہ خواتین کی مدد کے لیے وسائل نہیں ہیں۔
38 سالہ عورت اب بے گھر افراد کے کیمپ میں رہتی ہے۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کے جسم میں اندرونی خون بہہ رہا ہے لیکن وہ علاج نہیں کروا سکتی۔ وہ کیمپ میں دیگر خواتین اور لڑکیوں کی رہنمائی کرتی ہے، لیکن ان قرضوں کا بوجھ اسے پریشان کرتا ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ’جو لوگ مر گئے، میں چاہتی ہوں کہ ان کے بچوں کو واپس دوں یا ان کی طرف سے خیرات کروں تاکہ سکون ملے۔‘

 

شیئر: