Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ویمن اِن فلم: عرب ممالک میں تخلیقی کہانیوں اور آوازوں کی کمی نہیں، ریما مسمار

نیٹ فلکس کے ساتھ شراکت داری میں یہ ایونٹ میں 17جولائی کو اختتام پذیر ہوگا (فوٹو: عرب نیوز)
کیا خطے میں خواتین فلم سازوں کے لیے ایک نئے باب کی ابتدا ہو رہی ہے؟ عرب فنڈ فار آرٹس اینڈ کلچر کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ریما مسمار سمجھتی ہیں کہ ’ہاں، خواتین کے لیے فلم سازی کی صنعت میں داخلے کا ایک نیا دروازہ کھل رہا ہے۔‘
نیٹ فلِکس کے ساتھ شراکت میں ہونے والے ’ویمن اِن فلم: ٹریننگ تُھرو پریکٹس‘ کے تیسرے ایونٹ میں ریما مسمار نے اس سلسلے میں عرب نیوز سے گفتگو کی۔
اِس ایونٹ میں جو 17جولائی کو اختتام پذیر ہوگا، سعودی عرب، مصر، اردن، کویت اور متحدہ عرب امارت میں رہنے والے اُن عرب خواتین کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے جن کی عمریں 23 سے 30 برس کے درمیان ہیں۔ اِس ہائبرڈ پروگرام کے لیے، جس میں آن لائن یا بالمشافہ شرکت رہائشی نوعیت کی ہے، متحدہ عرب امارت یا سعودی کا عرب کا انتخاب کیا گیا ہے۔
فلم ساز خواتین کے لیے گفتگو کے کئی موضوعات ہوں گے جن میں سے وہ کسی کا بھی انتخاب کر سکتی ہیں۔ ان خواتین کو ماہرین کی معاونت حاصل ہوگی جو ورکشاپس اور نیٹ ورکنگ جیسے طریقوں سے اُن کی مہارتوں کو بہتر بنائیں گے۔
ریما مسمار کہتی ہیں ’اس ایڈیشن کی اہم بات یہ ہے کہ اس کے پیشِ نظر اُبھرتی ہوئی فلم سازوں کی وہ ضرورتیں ہیں جو اب حقیقی تبدیلی کے مراحل سے گزر رہی ہیں۔ ٹیلنٹ بھی میسر ہے اور عزم و خواہش کی بھی کمی نہیں۔ ضرورت بس انتظام کی فراہمی کی ہے‘۔
مسمار کہتی ہیں کہ ’عرب دنیا میں توجہ حاصل کرنے والی کہانیوں یا تخلیقی آوازوں کی کمی نہیں۔ بہت سے نوجوان فلم سازوں کو عملی تجربے تک رسائی چاہیے۔ کوئی اُن کی رہنمائی کرنے والا ہو اور اُنھیں تعاون کا ماحول مل جائے تاکہ اُن نوجوان فلم سازوں کے خیالات عملی شکل میں ڈھل سکیں۔

گزشتہ برس بھی عرب خواتین نے فلم سازی کے ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی تھی (فوٹو: اے ایف اے سی)

اُسی قسم کے گزشتہ ایونٹ میں، زیادہ تر توجہ کہانیاں تعمیر کرنے اور تخلیقی آوازوں پر رہی۔ لیکن اس بار ’عملی تربیت‘ کا طریقہ، گزشتہ ایونٹ میں رکھی گئی بنیادوں کو استعمال کرکے، دل میں اُتر جانے والے ایسے تجربے کی تخلیق کرے گا جس سے واضح ہوگا کہ فلمسازی میں مختلف شعبے ایک دوسرے پر کس طرح منحصر ہیں اور باہم کام کیسے کرتے ہیں۔
دوہری راہ پر مبنی اِس طریقے میں تکنیکی صلاحیتوں اور کیمرے کے پیچھے اہم کرداروں پر کام ہوگا جہاں ابھی تک خواتین کی نمائندگی کافی کم ہے۔
مسمار کا خیال ہے کہ حالیہ برسوں میں ’بامعانی ترقی‘ نے خاص حد تک کردار ادا کیا ہے اور انھیں یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ خواتین عرب فنڈ میں ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور رائٹر کے طور پر درخواستں جمع کرا رہی ہیں۔ تاہم موجود ڈھانچہ پُرعزم خواتین فلم سازوں کو وہ تمام وسائل مہیا نہیں کرتا جو لمبے عرصےاور ایک دیرپا کیریئر کے لیے ضروری ہے۔
ابھرتی ہوئی خواتین فلم سازوں کے لیے اِس صنعت میں داخل ہونا ہی چیلنج نہیں بلکہ اِس میں رہنا اور کوئی سمجھوتہ کیے بغیر یا صنفی تفریق سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ، پیشہ ورانہ انداز میں آگے بڑھنا بھی کسی آزمائش سے کم نہیں۔ مواقع اب بھی غیر مساویانہ طور پر تقسیم شدہ ہیں خاص طور پر اُن کے لیے جو فلم پروڈکشن کے دائرے سے باہر ہیں یا جن کا تعلق فلمی صنعت کے بڑے مراکز کے ساتھ نہیں ہے۔
مسمار کہتی ہیں کہ اِس نوعیت کے پروگرام اہم ہیں کیونکہ اِن سے فلمسازی کے ماحولی نظام میں داخلے کا راستہ کھلتا ہے۔
وہ کہتی ہیں ’مختلف علاقوں کے درمیان تعاون کا ہونا لازمی ہے اور اِس سے فرق نہیں پڑتا کہ عرب دنیا میں ہمارے تجربات الگ ہیں اور ہمارا سماجی ماحول مختلف ہے۔ کئی فلسماز، شناخت، نمائندگی، فلمسازی، اور علاقے میں کہانیوں کا مستقبل کیا ہے جیسے سوالوں کے جواب تلاش کرتے پھر رہے ہیں۔

ریما مسمار کے مطابق خواتین عرب فنڈ میں ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور رائٹر کے طور پر درخواستں جمع کرا رہی ہیں (فوٹو: اے ایف اے سی)

اِس طرح کی متنوع صلاحیتوں کو یکجا کرنا جہاں ہر کوئی اپنا الگ نقطۂ نظر بھی رکھتا ہو، علمی تبادلے کے مواقع کو جنم دیتا ہے جو تکنیکی آموزش سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
ہم، عرب فنڈ فار آرٹس اینڈ کلچر میں یہی سمجھتے ہیں کہ علاقائی تعاون، فنون اور ثقافت کے ایکو سسٹم کو مجموعی طور پر مضبوط بناتا ہے۔ اِس سے نیٹ ورک جنم لیتے ہیں جو کسی ایک پروگرام کے ختم ہونے کے ساتھ ختم نہیں ہوجاتے بلکہ چلتے رہتے ہیں اور ایک ایسی صنعت کو پروان چڑھاتے ہیں جو آپس میں زیادہ مربوط ہوتی ہے اور جہاں علم، وسائل اور تخلیقی شراکت، عرب علاقوں میں آسانی کے ساتھ پھیل سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’مینٹورشپ اِس پروگرام کا بہت بنیادی حصہ ہے جس کی قدر و قیمت کم نہیں کی جانی چاہیے۔ فلم میں دیرپا کیریئر کے لیے صرف صلاحیت، کبھی کبھار ہی کافی ثابت ہوتی ہے۔ اِس کے لیے مشترکہ کوشش، توجہ اور اِس صنعت سے وابستہ افراد کے باہمی میل جول کی ضرورت پڑتی ہے۔
ان کے مطابق ’اس پروگرام کا ایک قابلِ قدر پہلو یہ ہے کہ یہاں ایسے مواقع پیدا ہوتے ہیں جہاں ابھرتے ہوئے فلمساز براہِ راست، تجربہ کار پروفیشنلز سے بات کر سکتے ہیں اور اپنے جیسے دیگر فلمسازوں کے ساتھ دیر تک چلنے والے رشتے بنا سکتے ہیں۔
مسمار بہت پُرجوش ہیں کہ اِس ماحول کی وجہ سے تحقیق اور تجربے کے مواقع پیدا ہوں گے جن سے مقامی ٹیلنٹ کو مدد ملے گی کہ وہ اپنی زندگیوں اور اپنی حقیقتوں کے ورق سے چُن چُن کر جو کہانیاں انھوں نے نوٹ بُک پر لکھ رکھی ہیں، اب وہ اُن کہانیوں کو فلم کی سکرین تک لے جا سکیں۔

ویمن ان فلم کے ذریعے مقامی ٹیلنٹ کو سامنے آنے میں مدد ملتی ہے (فوٹو: اے ایف اے سی)

عرب فنڈ فار آرٹس اینڈ کلچر آج سے دو دہائیاں قبل وجود میں آیا تھا اور تب سے یہ ادارہ متحرک رہا ہے۔ ’ہم نے دیکھا ہے کہ مینٹورشپ کس طرح تخلیقی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ ترقی کو تیزی سے آگے لے جاتی ہے۔
ریما مسمار نے اردن کی فلم ساز عائشہ شحالتوغ کی ’کلینز دا سٹریٹس‘ کی تعریف کی جو گزشتہ ’ویمن اِن فلم پروگرام‘ کے سابقہ ایڈیشن کے تعاون سے بنائی گئی تھی۔ اِس فلم کا انتخاب کچھ عرصہ قبل جاپان فلم فیسٹیول کے مشہور پروگرام ’شارٹ شارٹس‘ میں ایشیئن پریمیئر کے لیے کیا گیا ہے۔
عالمی سطح پر اِس طرح کی پہچان اور تعریف خود ثبوت ہے کہ اِس صنعت سے وابستہ مقامی افراد اپنے دائرہِ کار کو ملکی حدود سے باہر تک لے جانا چاہتے ہیں۔ اور ریما مسمار اِس ترقی کی جھلک دیکھنے کو بے تاب ہیں۔
وہ کہتی ہیں ’یہ کہانیاں ہمیں خود کو سمجھنے میں اور اِس بات میں بھی مدد دیتی ہیں کہ دوسرے ہمیں کیسے سمجھتے ہیں۔

شیئر: