واقعے کے بعد فرانسیسی صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق صدر ایمانوئیل میکخواں نے لبنان کے صدر جوزف عون اور وزیراعظم نواف سلام سے ٹیلی فون پر گفتگو میں حملے کی شدید مذمت کی اور اسے ’ناقابل قبول‘ قرار دیا۔
یو این آئی ایف آی ایل کا کہنا ہے کہ حملے میں مشن کے تین دیگر اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔
بیان کے مطابق ابتدائی جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ فائرنگ غیر ریاستی عناصر اور مبینہ طور پر حزب اللہ کی جانب سے کی گئی اور اس ’جان بوجھ کر کیے گئے حملے‘ کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
فرانسیسی صدر میکخواں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب تک کے شواہد ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
انہوں نے لبنانی حکام پر زور بھی دیا کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔
اقوام متحدہ نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے حملے کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
دوسری جانب حزب اللہ نے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جلد بازی میں بے بنیاد الزامات لگائے جانے پر حیرت ہے۔‘
فرانسیسی مسلح افواج کی وزیر کیتھرین واؤترین کا کہنا ہے کہ گشت کے وقت گھات لگا کر اس وقت حملہ کیا گیا جب اہلکار ایک راستہ کھول رہے تھے۔
ان کے مطابق ’اہلکار کو براہ راست چھوٹے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔‘
’قابل مذمت اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی‘
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے مزید حملے جنگی جرائم کا حصہ بن سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفین دوجارک کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں انتونیو گوتریس نے زور دیتے ہوئے کہ امن دستوں پر حملے ’بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی‘ کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراداد 1701 کی بھی خلاف ورزی ہے جس نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 2006 کی جنگ کا خاتمہ کیا تھا۔