Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ سے بات چیت آگے بڑھی مگر معاہدہ ابھی ’کافی دور‘: ایرانی مذاکرات کار

ایران نے سنیچر کو آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کے ٹاپ مذاکرات کار نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ حالیہ بات چیت میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے مگر جوہری اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر ابھی خلا موجود ہے۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ’بلیک میلنگ‘ کے خلاف انتباہ کے باوجود کہا ہے کہ ’تہران کے ساتھ اچھی بات چیت ہوئی۔‘
 خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے ایف پی کے مطابق فریقین میں سے کسی کی بھی جانب سے سنیچر کو ہونے والی بات کے حوالے سے کوئی تفصیل پیش نہیں کی گئی جبکہ امریکہ و ایران کے درمیان جنگ بندی کی مدت ختم ہونے میں چند دن ہی باقی ہیں۔
 28 فروری کو امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی جنگ آٹھویں ہفتے سے گزر رہی ہے اور اس میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافہ ہوا جو تیل کی تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔
ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباگ نے پچھلے ہفتے ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ ’ہم نے کچھ پیش رفت کی ہے تاہم ابھی درمیان میں کافی فاصلہ موجود ہے۔ کچھ باتوں پر ہم اصرار کر رہے ہیں جبکہ کچھ ریڈلائنز دوسری جانب سے بھی ہیں مگر اہم معاملات ایک دو ہی ہیں۔‘
اسی طرح صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ایران کے ساتھ اچھی بات چیت ہوئی۔‘ تاہم اس کے علاوہ مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
تہران نے اتوار آبنائے ہرمز کو کھولنے کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے پھر سے بند کرنے کا اعلان کیا تھا، جس سے تجارت رک گئی اور جنگ کے حوالے سے مزید غیریقینی کی فضا پیدا ہوئی۔
ایران کا کہنا ہے آبی گزر گاہ کو امریکہ کی مسلسل ناکہ کے جواب میں بند کیا گیا ہے جبکہ اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی بھی قرار دیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ایران کی بحریہ اپنے دشمنوں کو ’نئی تلخ شکست‘ دینے کے لیے تیار ہے، اس کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’بلیک میلنگ‘ قرار دیا تاہم ساتھ ہی مذاکرات کو بھی سراہا۔
جمعے کو ایران نے اسرائیل و لبنان کے درمیان 10 روز کی جنگ بندی ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر کھولنے کا اعلان کیا تھا۔
اسی طرح صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کو ناکہ بندی کا دفاع کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر بدھ تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا تو جنگ بندی کی مدت ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد دوبارہ بم گرانے کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔

شیئر: