مدینہ اور جدہ آنے والی پہلی حج پروازوں کا استقبال
سنیچر کو جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی سے روٹ ٹو مکہ کے تحت پاکستانی عازمین حج کی پہلی فلائٹ مدینہ کے پرنس محمد بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچ گئی۔
عرب نیوز کے مطابق رواں برس سعودی عرب نے 179210 پاکستانی عازمین حج کا کوٹہ جاری کیا گیا ہے جن میں 118000 نشستیں سرکاری سکیم کے تحت جاری کی گئی ہیں جبکہ باقی پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کے لیے مختص ہیں۔
سندھ ڈائریکٹوریٹ آف حج کے بیان کے مطابق ’مجموعی طور پر 160 عازمین حج کو دعاؤں اور نیک تمناؤں کے ساتھ رخصت کیا گیا ہے۔‘ عازمین حج کو ایئرپورٹ سے رخصت کرتے وقت گورنر سندھ نہال ہاشمی سمیت دیگر سرکاری اور صوبائی اہلکار ایئرپورٹ پر موجود تھے۔
دوسری طرف ڈھاکہ کے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے حجاج کرام کی فلائٹ سنیچر کو جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچی۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان اور بنگلہ دیش میں سعودی سفیر عبداللہ بن ابیہ نے عازمین کو الوداع کیا۔
روٹ ٹو مکہ اقدام کے تحت ملائیشیا کے کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے والی پہلی پروازیں بھی سنیچر کو مدینہ پہنچ گئیں۔

ترکیہ کے انقرہ ایسنبوگا ایئرپورٹ سے بھی عازمین حج کی پہلی فلائٹ مدینہ پہنچی جو روٹ ٹو مکہ اقدام کی مسلسل توسیع کی علامت ہے جس کا مقصد عازمین حج کو اُن کے ملکوں میں ہی اعلیٰ معیار کی خدمات فراہم کرنا ہیں۔
جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹس نے ہوائی، زمینی اور سمندری سفر سے آنے والے تمام عازمین کی آسان آمد کے لیے اپنی تیاری کی یقین دہانی کروائی تاکہ جدید ٹیکنالوجی اور ماہر عملے کی تعیناتی کے ذریعے حج سیزن کے دوران اعلیٰ معیار کی خدمات فراہم کی جائیں۔

انڈین عازمین حج کے پہلے گروپ کو لے کر آنے والی پرواز کا مدینہ میں سفیر ڈاکٹر سہیل اعجاز خان اور کونسل جنرل فہد احمد خان سوری نے سینیئر سعودی اور انڈین آفیشلز کے ہمراہ استقبال کیا۔
ڈاکٹر سہیل خان کی جانب ایئرپورٹ پر سہولیات کا جائزہ لیا گیا اور انہوں نے عازمین حج کی راہنمائی کے لیے موجود انڈین کمیونٹی رضاکاروں سے بھی ملاقات کی۔

وزارت داخلہ کی جانب سے روٹ ٹو مکہ اقدام کو مسلسل آٹھویں سال نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت 10 ممالک میں 17 انٹری پوائنٹس تک سروس بڑھا دی گئی ہے۔
وژن 2030 کے پلگرم ایکسپیریئنس پروگرام کے فلیگ شپ پروجیکٹ میں اب پہلی مرتبہ سینیگال اور برونائی دارالسلام بھی شامل ہوگئے ہیں جبکہ مراکش، انڈونیشیا، ملائیشیا، پاکستان، بنگلہ دیش، ترکیے، آئیوری کوسٹ اور مالدیپ پہلے سے ہی موجود ہیں۔

اس اقدام کا مقصد عازمین حج کو اپنے ہی ملک میں تمام انٹری پوائنٹس کے مراحل کو آسان اور اعلیٰ معیار کے سہولیات کے ساتھ مکمل کرنا ہے جس میں حجاج کو الیکٹرونک ویزہ دینا، پاسپورٹ کنٹرول اور صحت کی ویریفیکیشن جیسی سہولیات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ عازمین کے سامان پر کوڈ لگا کر اسے سعودی عرب میں اُن کی رہائش کے حساب سے ترتیب دیا جاتا ہے جس کے باعث حجاج مکہ اور مدینہ پہنچ کر اپنا سامان لینے کے بجائے مخصوص بسوں میں بیٹھ کر روانہ ہو جاتے ہیں۔

اس اقدام کو وزارت خارجہ، صحت، حج اور عمرہ اور دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر چلایا جا رہا ہے۔ سنہ 2017 میں اس کے قیام کے بعد اب تک 12 لاکھ، 54 ہزار، 994 عازمین حج اس سے مستفید ہو چکے ہیں۔
