Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

برطانیہ کے نئے وزیرِاعظم اینڈی برنہم نے کابینہ تشکیل دے دی، کون کون شامل؟

نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم نے پیر کو اپنا عہدہ سنبھالا تھا (فوٹو: گیٹی)
برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم نے حلف ٹھانے کے بعد حکومت پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے فوری اقدامات کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے کئی قریبی اتحادیوں کو کابینہ سے فارغ کر دیا ہے جبکہ سابق حکومت میں شامل متعدد وزراء کے قلمدان بھی تبدیل کر دیے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق سابق وزیر دفاع جان ہیلی کو ریچل ریوز کی جگہ نیا وزیر خزانہ مقرر کیا گیا ہے جبکہ ایڈ ملی بینڈ کو توانائی کی وزارت سے ہٹا کر وزیر خارجہ بنا دیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ شبانہ محمود کو برطانیہ کے پناہ گزینوں کے نظام سے متعلق سخت اصلاحات مکمل کرنے کے لیے دوبارہ وزیر داخلہ مقرر کیا گیا ہے۔
اس سے قبل نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم نے پیر کو اپنا منصب سنبھالا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ ملک کے لیے ایک 10 سالہ قومی منصوبہ پیش کریں گے، جس کا مقصد مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی کے بحران سے نمٹنا، معیشت کو مضبوط بنانا اور سڑکوں پر بے گھر افراد کے سونے کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
خبر رساں ایجسنی ’اے ایف پی‘ کے مطابق 56 سالہ اینڈی برنہم اپنی اہلیہ میری فرانس وان ہیل کے ہمراہ بکنگھم پیلس پہنچے، جہاں انہوں نے بادشاہ چارلس سوم سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد انہیں باضابطہ طور پر حکومت سازی کی دعوت دی گئی۔ یہ پیش رفت سابق وزیر اعظم کیئر سٹارمر کے استعفے کے بعد سامنے آئی ہے۔
اینڈی برنہم بعد ازاں ’10 ڈاؤننگ سٹریٹ‘ پہنچے جہاں حامیوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ انہوں نے اپنی مختصر تقریر میں کہا کہ ’سنہ 2016 کے آغاز سے اب تک میں برطانیہ کا ساتواں وزیر اعظم ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’برطانیہ کو دنیا کے سامنے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ دوبارہ استحکام حاصل کر سکتا ہے۔‘
ان کے بقول وہ ملک کو ایک نیا سیاسی ماڈل دیں گے اور نئی معیشت کی بنیاد رکھیں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ’میں جلد ہی برطانیہ کے لیے ایک نیا 10 سالہ منصوبہ پیش کروں گا‘، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
انہوں نے قلیل مدتی ترجیحات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت فوری طور پر عوام کو مہنگائی کے دباؤ سے کچھ ریلیف فراہم کرے گی تاکہ لوگوں کو سانس لینے کی کچھ گنجائش مل سکے۔‘
اینڈی برنہم نے یہ بھی اعلان کیا کہ ان کی پہلی ترجیح سڑکوں پر بے گھر افراد کے سونے کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ’گریٹر مانچسٹر کے میئر ہونے کے ناطے سے بھی میں نے اس مسئلے کے حل کی کوشش کی تھی، تاہم اس وقت مکمل کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔‘
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ ’حکومت سرکاری خریداری کے ذریعے صنعتی شعبے کو دوبارہ مضبوط بنانے اور زیادہ عوامی رہائشی مکانات تعمیر کرنے کی پالیسی پر عمل کرے گی۔‘
خارجہ پالیسی کے حوالے سے اینڈی برنہم نے کہا کہ وزیر اعظم بننے کے بعد ان کی پہلی فون کالز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کو ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ’میں زیلنسکی کو یقین دلاؤں گا کہ میں سو فیصد آپ کے ساتھ ہوں۔‘
دوسری جانب مستعفی ہونے والے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے ’ڈاؤننگ سٹریٹ‘ سے اپنی الوداعی تقریر میں کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ دو سال پہلے کے مقابلے میں آج برطانیہ زیادہ مضبوط اور زیادہ منصفانہ ملک ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں خوش دلی، مسکراہٹ اور اپنی حکومت کی کامیابیوں پر فخر کے ساتھ رخصت ہو رہا ہوں۔‘

شیئر: