انڈیا کی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا وزیرِ تعلیم کے استعفے تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم
انڈیا کی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا وزیرِ تعلیم کے استعفے تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم
منگل 21 جولائی 2026 12:45
انڈیا کی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ اس وقت تک اپنی احتجاجی مہم جاری رکھے گی جب تک وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دے دیتے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ اعلان نئی دہلی میں ایک روز قبل ہونے والے احتجاج کے بعد سامنے آیا، جس میں کم از کم 180 افراد زخمی ہوئے تھے۔
پیر کے روز ہزاروں مظاہرین انڈین دارالحکومت کے مرکزی علاقے میں جمع ہوئے اور دھرمیندر پردھان کے استعفے کے ساتھ ساتھ امتحانی نظام میں وسیع اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ یہ مظاہرہ آن لائن تحریک کاکروچ جنتا پارٹیکی طاقت کا مظاہرہ تھا۔
مئی میں آغاز کے بعد سے سی جے پی کو سوشل میڈیا پر لاکھوں سپورٹر مل گئے ہیں، جس کے باعث یہ تحریک 2024 میں تیسری مرتبہ وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے والے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے لیے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک بن گئی ہے۔
سی جے پی کے اشوتوش رانکا نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’ہم نہیں رکیں گے۔ پردھان کو برطرف کرنا ہی ہوگا۔‘
منگل کے روز بھی سینکڑوں مظاہرین جنتر منتر کے احتجاجی مقام پر موجود رہے، جن میں سے بہت سے افراد تعلیمی نظام میں وسیع اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے منگل کے روز مظاہرین پر زور دیا کہ وہ حوصلہ نہ ہاریں۔
ٹرک پر کھڑے ہو کر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’وہ ہمارے حوصلے پست کرنا چاہتے ہیں، لیکن آپ انہیں کامیاب نہ ہونے دیں۔ انہیں آپ کی آواز دبانے نہ دیں۔‘
پیر کے روز پولیس نے مظاہرین کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے سے روکنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور لاٹھی چارج کیا۔ یہ گزشتہ تقریباً پانچ برسوں میں دہلی کی سب سے بڑی احتجاجی ریلی تھی۔
دہلی پولیس کے مطابق مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 178 افراد زخمی ہوئے۔
پیر کے روز پولیس نے مظاہرین کو پارلیمان کی جانب بڑھنے سے روکنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی اور لاٹھی چارج کیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پولیس کے مطابق زخمیوں میں 118 پولیس اہلکار بھی شامل تھے، جن میں سینیئر افسران بھی تھے۔ پولیس نے مظاہرین کے رویے کو ’بے قابو، جارحانہ اور پرتشدد‘ قرار دیا۔
پولیس نے پیر کی رات جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ ’جھڑپ کے دوران تقریباً 60 مظاہرین بھی زخمی ہوئے۔‘
احتجاج کے منتظمین نے حکام کے ’سخت اور نامناسب رویے‘ کی مذمت کی اور کہا کہ سینکڑوں مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔
اشوتوش رانکا نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ انڈین جمہوریت کی تاریخ کا ایک شرمناک دن ہے کہ ایک جائز مسئلے کے لیے آنے والے ایماندار طلبہ کو دہلی پولیس نے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
سی جے پی کے اشوتوش رانکا نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’ہم نہیں رکیں گے۔ پردھان کو برطرف کرنا ہی ہوگا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
رانکا، جنہوں نے پیر کے روز سینئر وزیر جے پی نڈا سے ملاقات بھی کی، نے کہا کہ حکومت نے اب تک ان کے مطالبات پر کوئی جواب نہیں دیا۔
تیز معاشی ترقی کے باوجود دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں لاکھوں افراد اب بھی مستقل اور مناسب تنخواہ والی ملازمتیں حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جس سے عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ احتجاج امتحانی نظام سے متعلق کئی سکینڈلز کے بعد سامنے آیا ہے، جنہوں نے ملک کے امتحانی نظام پر عوام کے اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔
گزشتہ ماہ تقریباً 22 لاکھ میڈیکل کے امیدواروں نے سخت سکیورٹی کے تحت دوبارہ امتحان دیا، کیونکہ پرچہ لیک ہونے کے بعد پہلے امتحان کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔
اس سے قبل تقریباً 20 لاکھ ہائی سکول کے طلبہ کے امتحانات کے آن لائن مارکنگ سسٹم سے متعلق ایک اور اسکینڈل بھی سامنے آیا تھا، جس نے تعلیمی نظام پر مزید سوالات کھڑے کر دیے۔