لاہور کے ٹاؤن شپ میں محمد علی چوک پر ٹریفک سگنلز کچھ عرصے سے غیر معمولی طور پر چل رہے تھے۔ اور یہ غیر معمولی پن تھا کہ چلتے چلتے بند ہو جاتے اور پھر ٹریفک جام ہو جاتا۔
اور یہ ایسے وقت میں کیا جاتا جب ٹریفک پولیس کے اہلکار اس میں میں کسی وجہ سے ڈیوٹی پر مامور نہیں ہوتے تھے۔ کئی دن تک یہ سلسہ چل رہا تھا۔ تب ایک شہری نے کچھ ایسا دیکھا جس کو وہ اپنے موبائل کیمرے میں محفوظ کیے بنا نہ رہ سکا۔
اور پھر یہ ویڈیو کلپ سوشل میڈیا کی زینت بن گیا۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک نوجوان جو کہ گہرے کپڑوں میں ملبوس تھا وہ ٹریفک سگنل کے الیکٹرک بورڈ کے قریب آتا ہے اس کے ہاتھ میں پھول بھی دکھائی دے رہے ہیں جو کہ بظاہر چوارہوں میں بیچنے کے لیے ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں
تھوڑی دیر وہ ادھر ادھر دیکھنے کے بعد الیکٹرک بورڈ کی طرف بڑھتا ہے اور بٹن بند کر دیتا ہے اور اچانک اشارے بند ہو جاتے۔ اس ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ ویڈیو بنانے والا شہری اس کے پیچھے بھاگتا ہے لیکن وہ نوجوان وہاں سے فرار ہو جاتا ہے۔
اس ویڈیو کلپ کے وائرل ہونے کے بعد پولیس اس شخص کو تلاش کرنا شروع کر دیتی ہے۔ ٹریفک پولیس کے ڈی ایس پی فیاض بھٹی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’یہ ایک پورا گینگ تھا جسں میں کل چار افراد تھے۔ جو ٹاون شپ کے اس اشارے پر بھی اور بھی کئی جگہوں پر یہی حرکت کر رہا تھا۔ اس میں ایک شخص کا کام ٹریفک اشارے کو بند کرنا ہوتا تھا اور پھر تھوڑی دیر میں جیسے ہی ٹریفک بلاک ہونا شروع ہو جاتا تو اس کے بعد وہ کھڑی گاڑیوں میں بھیک مانگنا شروع کر دیتے۔ ہم نے اس ویڈیو کی مدد سے نہ صرف ان چاروں کی شناخت کی بلکہ ان کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔‘
پولیس نے واقعے میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کرنے کے بعد ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ ابھی ان کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔ گداگری پاکستان کے شہروں میں ایک پرانی سماجی بیماری ہے، مگر اب یہ ایک پیشہ ور صنعت بن چکی ہے۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں بھکاریوں کے گروہ نہ صرف سگنلز بلکہ مختلف طریقوں سے لوگوں کی ہمدردی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کبھی معذور بچوں کو استعمال کیا جاتا ہے، کبھی عورتوں اور بزرگوں کو آگے کیا جاتا ہے، اور کبھی جعلی کہانیاں گھڑ کر بھیک مانگی جاتی ہے۔ پولیس کے مطابق لاہور میں بھکاریوں کی روزانہ آمدنی سوا کروڑ روپے سے زیادہ ہو سکتی ہے، جو انہیں ایک منظم مافیا کی شکل دے چکی ہے۔ یہ مافیا علاقوں میں تقسیم ہے، ہر علاقے کا اپنا ٹھیکدار ہے جو بھیک کا حصہ وصول کرتا ہے۔
پنجاب میں گداگری کے خلاف پولیس کی حالیہ مہم:
گذشتہ چند مہینوں میں پنجاب حکومت اور پولیس نے گداگری کے خلاف ایک منظم مہم شروع کی ہے۔ اگست 2025 میں محکمہ داخلہ پنجاب نے سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی بنا دی۔

کمیٹی کا سربراہ سیکریٹری سوشل ویلفیئر جاوید اختر محمود کو مقرر کیا گیا۔ لاہور ٹریفک پولیس نے پیشہ ور گداگروں اور بھکاریوں کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع کیا، جس میں شہریوں سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی میں پولیس کا ساتھ دیں۔
جب یہ مہم چلائی جا رہی تھی تو ایک دلچسپ صورت حال پیدا ہوئی کہ پاکستان کے قانون میں گداگری کے لیے کوئی واضع قانون موجود نہیں تھا۔ اور ان کو گرفتار کر کے رکھنے کے لیے جگہ بھی نہیں تھی۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب توصیف صبیح گوندل بتاتے ہیں کہ ’محکمہ داخلہ نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے پنجاب بھر کی جیلوں میں بیرکیں مختص کر دیں۔ اس کی وجہ یہ سامنے آئی کہ اکثر گداگروں کو جب پولیس پکڑتی تھی تو اس میں کئی تو ایسے ہوتے جن نشے کےعادی افراد تھے اور حوالاتوں میں ان کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔ جبکہ تھانے کے اندر میڈیکل کی سہولت نہیں ہوتی تو اس وقت کے سیکرٹری داخلہ نورالامین مینگل صاحب نے بیرکوں کی تجویز دی کیونکہ جیلوں میں ہسپتال اور ماہر نفسیات بھی موجود ہوتے ہیں تو اس صورت حال سے وہاں نمٹا جا سکتا ہے۔‘
گداگری کے خلاف قانون کا ارتقا:
پاکستان میں گداگری پر پابندی کا قانون کئی دہائیوں پرانا ہے۔ تقسیم ہند کے وقت سے ہی صوبائی سطح پر ایسے قوانین موجود تھے جو بھکاریوں اور گداگروں کو کنٹرول کرنے کے لیے بنائے گئے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ قوانین ناکافی ثابت ہوئے، کیونکہ گداگری ایک منظم مافیا کی شکل اختیار کر گئی۔
حالیہ برسوں میں پنجاب حکومت نے اس قانون میں اہم ترامیم کیں۔ 2025 میں منظور ہونے والے پنجاب گداگری (ترمیمی) بل کے تحت بھیک مانگنا اور منگوانا دونوں کو ناقابل ضمانت جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ اب ایک شخص سے بھیک منگوانے والے سرغنہ کو تین سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اگر جرمانہ ادا نہ کیا جائے تو مزید چھ ماہ قید۔ ایک سے زائد افراد سے بھیک منگوانے والے مافیا چیف کو تین سے پانچ سال قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ یہ ترامیم اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ اب صرف بھیک مانگنے والے ہی نہیں، بلکہ ان کے پیچھے کام کرنے والے مافیا بھی قانون کے شکنجے میں آ سکیں گے۔

اس قانون کو پنجاب میں نافذ ہوئے ایک سال ہو چکا ہے لیکن ابھی تک کسی کو سزا نہیں دی جا سکی۔ پنجاب کے پراسیکیوٹر جنرل فرہاد علی شاہ کہتے ہیں کہ نیا قانون ہے تو سخت لیکن اس میں ایک ہلکی سی خامی ہے جس کی وجہ سے بھکاریوں کو سزا دلوانا تھوڑا مشکل ہے۔ اور وہ کہ قید کی سزا کے ساتھ ساتھ جرمانے کی سزا ہے یعنی عدالت دوںوں میں سے ایک کا انتخاب کر سکتی ہے۔
’چونکہ عدالتیں انسانی حقوق کو زیادہ ترجیح دیتی ہیں اس لیے ان ٹرائلز میں جتنے بھی لوگوں کو سزا ہوئی وہ جرمانے کی سزا ہوئی جو وہ آسانی سے بھر دیتے ہیں۔ یہ ایک طرح کا سمری ٹرائل ہوتا ہے اور یہ زیادہ لمبا نہیں چلتا۔ ویسے تو تین سال اور پانچ سال کی سزائیں سخت ہیں کیونکہ ان میں ضمانت بھی نہیں ہوتی لیکن جیسے ہی عدالت جرمانے کی سزا کرتی ہے یہ لوگ جرمانہ بھر کے باہر آ جاتے ہیں۔ میرے خیال میں اگر لوگوں کو قید کی سزا دینی ہے تو پھر قانون میں تھوڑی اور تبدیلی کی ضروت ہے۔‘
ٹریفک پولیس نے ایک الگ سے اینٹی گداگری سکواڈ بھی بنا رکھا ہے جو پیشہ ور گداگروں کو پکڑنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ لیکن گداگری کے قانون کو ایک سخت جرم میں تبدیل کرنے کے باوجود یہ چوہے بلی کا کھیل اب بھی جاری ہے۔













