ایران کی جانب سے اسلام آباد امن مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کا تاحال انتظار ہے: عطا تارڑ
عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ ’امریکہ اور ایران کی جنگ بندی 22 اپریل کی صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو گی‘ (فائل فوٹو: اے پی پی)
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ’ایران کی جانب سے اسلام آباد امن مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کا انتظار ہے۔‘
منگل کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک بیان میں عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ’ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کے لیے تاحال باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔‘
’پاکستان بطور ثالث ایرانی حکام سے مسلسل رابطے میں ہے اور سفارت کاری اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھا رہا ہے۔‘
پاکستان کے وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ ’پاکستان نے ایران کو مذاکراتی عمل کے دوسرے راؤنڈ میں شرکت پر آمادہ کرنے کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’دو ہفتے کی جنگ بندی کے اختتام سے قبل ایران کا مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔’
عطا اللہ تارڑ نے مزید بتایا کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی پاکستانی وقت کے مطابق 22 اپریل کی صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو گی۔‘
اس سے قبل منگل کو ہی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی امریکہ اور ایران کے مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کا موقف بیان کیا۔
اسلام آباد میں امریکہ کی ناظم الامور نیٹلی بیکر سے ملاقات میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ‘خطے میں پائیدار امن، استحکام اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری ہی موثر ذرائع ہیں۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فریقین پر زور دیا کہ ’وہ جنگ بندی میں توسیع پر غور کریں، اور مذاکرات اور سفارت کاری کو ایک موقع دیں۔‘
