Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ ایران کو محدود مدت دینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں: رپورٹ

ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نہیں چاہتی کہ جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھایا جائے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن مقرر نہیں کی ہے۔
بدھ کے روز روئٹرز نے ایک ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسع کا کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو ایک محدود وقت دینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تاکہ وہ ایک  تجویز پیش کریں اور سفارتی مذاکرات کو دوبارہ ٹریک پر لایا جا سکے۔
سی این این نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ فی الحال یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کا یہ پیغام ایرانیوں تک پہنچا ہے یا نہیں۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نہیں چاہتی کہ جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھایا جائے، اور نہ ہی یہ چاہتی ہے کہ ایران مذاکرات کو مزید طول دے۔
ذرائع نے بتایا کہ صدر ٹرمپ ابتدائی جنگ بندی کو بدھ کی ڈیڈ لائن سے آگے بڑھانے کے حوالے سے محتاط تھے۔ وہ چاہتے ہیں کہ جلد از جلد معاہدہ طے پا جائے، اور ان کی خواہش تھی کہ ڈیڈ لائن کا دباؤ ایرانیوں کو جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے مذاکرات کی میز پر لے آئے۔
تاہم، صدر ٹرمپ کے قریبی مشیروں کا خیال ہے کہ ایرانی قیادت کے اندر اختلافات موجود ہیں، اور ایران کی پالیسی پر مکمل اتفاق رائے نہیں، جس کے باعث مذاکراتی نمائندے کوئی حتمی معاہدہ نہیں کر پا رہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا تہران کو ’متفقہ تجویزپیش کرنے کے لیے مزید وقت دینے کا فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انتظامیہ اس جنگ کو سفارتی طور پر حل کرنا چاہتی ہے، اور دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے سے ہچکچا رہی ہے۔
اس دوران صدر کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی ایرانیوں پر دباؤ برقرار رکھے گی، جبکہ مذاکرات جاری رہیں گے۔ تاہم، ٹرمپ کی ٹیم میں یہ بھی تسلیم کیا جا رہا ہے کہ جیسے جیسے ناکہ بندی طویل ہوتی جائے گی، عالمی معیشت کو اتنا ہی زیادہ نقصان پہنچے گا۔

شیئر: