آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کرنے میں چھ ماہ لگ سکتے ہیں: رپورٹ
جمعرات 23 اپریل 2026 11:24
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے 14 سو مربع کلومیٹر کے ’خطرناک علاقے‘ کی نشاندہی کی ہے (فوٹو: روئٹرز)
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پینٹاگون کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے میں چھ ماہ لگ سکتے ہیں، جس سے تیل کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز سے ہی آبنائے ہرمز کو تقریباً بند کر رکھا ہے، جس کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور عالمی معیشت متاثر ہوئی ہے۔ یہ آبنائے عام حالات میں دنیا کے پانچویں حصے کا تیل اور گیس گزرنے کا راستہ ہے۔
پینٹاگون کے مطابق جنگ ختم ہونے اور امریکی ناکہ بندی اٹھنے کے بعد بھی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ یہ اندازہ امریکی ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو ایک خفیہ بریفنگ میں بتایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے بیس یا اس سے زیادہ بارودی سرنگیں نصب کی ہیں، جن میں کچھ جدید جی پی ایس ٹیکنالوجی سے چلنے والی ہیں، جو تلاش کرنا مشکل ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے 14 سو مربع کلومیٹر کے ’خطرناک علاقے‘ کی نشاندہی کی ہے، جبکہ ایران کی پارلیمان کے سپیکر نے کہا ہے کہ جب تک امریکی بحری ناکہ بندی جاری ہے، آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔
جرمن شپنگ کمپنی ہاپاگ-لائیڈ نے خبردار کیا ہے کہ جہاز رانی کے لیے محفوظ راستوں کی وضاحت ضروری ہے کیونکہ بارودی سرنگوں کا خطرہ برقرار ہے۔
اسی دوران برطانیہ نے بدھ کو 30 سے زائد ممالک کے فوجی منصوبہ سازوں کے ساتھ مذاکرات کی میزبانی کی، تاکہ برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں ایک کثیر القومی دفاعی اتحاد تشکیل دیا جا سکے، جو جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے منصوبے پر کام کرے گا۔
