آبنائے ہرمز میں بارودی سُرنگیں بچھانے والی کشتیاں ’فوری تباہ کر دی جائیں‘ : ٹرمپ کا حکم
آبنائے ہرمز میں بارودی سُرنگیں بچھانے والی کشتیاں ’فوری تباہ کر دی جائیں‘ : ٹرمپ کا حکم
جمعرات 23 اپریل 2026 16:27
ایران اور امریکہ کے درمیان آبی گزرگاہوں پر کنٹرول کے لیے محاذ آرائی شدت اختیار کر گئی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی بحریہ کو یہ ہدایت جاری کر دی ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کسی بھی کشتی کو ’فائرنگ کر کے تباہ کر دیا جائے۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان میں کہا کہ اس کارروائی میں کسی بھی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی جانی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے امریکی بحریہ کو حکم دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے پانیوں میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کسی بھی کشتی، چاہے وہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہوں، کو گولی مار کر تباہ کر دے۔‘
صدر ڈونڈ ٹرمپ نے اس دوران ایران کی بحری طاقت پر طنز کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’ان کے تمام بحری جہاز یعنی 159 جہاز سمندر کی تہہ میں موجود ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ امریکی ’مائن سویپرز‘ (بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہاز) آبنائے ہرمز کو صاف کرنے کا کام کر رہے ہیں اور اب اس سرگرمی کو ’تین گنا زیادہ سطح پر‘ جاری رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان آبی گزرگاہوں پر کنٹرول کے لیے محاذ آرائی شدت اختیار کر گئی ہے۔
اس سے قبل جمعرات کو امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے بتایا کہ اس کی افواج نے بحرِہند میں ایک ایسی جہاز رانی کی کارروائی کی ہے جس میں ایران سے تیل لے جانے والے ایک جہاز ’ایم ٹی میجسٹک ایکس‘ کو قبضے میں لیا گیا۔
پینٹاگون نے ’ایکس‘ پر ایک بیان اور فوٹیج جاری کی جس میں امریکی فوجی اہلکاروں کو ہیلی کاپٹروں سے ایک بڑے آئل ٹینکر کے ڈیک پر اترتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکہ غیر قانونی نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے اپنی عالمی بحری کارروائیاں جاری رکھے گا۔
یہ تازہ ترین پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ’ٹولز‘ (محصولات) کی وصولی شروع کر دی ہے۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکہ غیر قانونی نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے اپنی بحری کارروائیاں جاری رکھے گا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
دوسری جانب ایران نے صدر ٹرمپ کے اس مطالبے کو دو ٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے ایران سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور اپنا افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے کا کہا تھا۔
ایران کا موقف ہے کہ جب تک امریکہ اس کی بندرگاہوں کا محاصرہ جاری رکھے گا، وہ اس آبنائے کو صرف چند منظور شدہ جہازوں کے لیے ہی کھلا رکھے گا۔
اس کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی ہے جبکہ ایندھن کی ممکنہ قلت کے پیشِ نظر کئی ایئر لائنز نے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
اس صورتحال نے پہلے سے جاری امن مذاکرات کے مستقبل کو بھی غیر یقینی بنا دیا ہے۔