آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کس طرح چند ہفتوں یورپی ایئرلائنز کے لیے خطرہ بن سکتی ہے؟
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کس طرح چند ہفتوں یورپی ایئرلائنز کے لیے خطرہ بن سکتی ہے؟
جمعرات 23 اپریل 2026 6:21
دنیا بھر میں جیٹ فیول کی سمندری فراہمی کا تقریباً پانچواں حصہ کٹ چکا ہے فائل فوٹو: روئٹرز)
یورپ کی فضائی صنعت ایک بڑے ایندھن بحران کے دہانے پر ہے کیونکہ آبنائے ہرمز میں جاری رکاوٹوں نے خلیجی ممالک سے جیٹ فیول کی فراہمی کو روک دیا ہے۔ اس صورتحال نے موسمِ گرما کی سفری منصوبہ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور ایئرلائنز و حکومتیں راشننگ، پروازوں کی منسوخی اور ہنگامی ایندھن بانٹنے جیسے اقدامات پر غور کر رہی ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فتیح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کے پاس صرف چھ ہفتوں کا جیٹ فیول باقی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ، اسرائیل اور ایران کے تنازع اور آبنائے ہرمز کی بندش نے تاریخ کا سب سے بڑا توانائی بحران پیدا کر دیا ہے۔
فروری کے آخر سے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز میں ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی منڈی دباؤ کا شکار ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں جیٹ فیول کی سمندری فراہمی کا تقریباً پانچواں حصہ کٹ چکا ہے۔ یورپ اپنی کل ضرورت کا تقریباً ایک تہائی براہِ راست جیٹ فیول اور دو تہائی خام تیل کی صورت میں درآمد کرتا ہے، جسے یورپی ریفائنریوں میں پروسیس کیا جاتا ہے۔
یورپ کے لیے خلیجی ممالک سب سے بڑے سپلائر ہیں، اور کویت تاریخی طور پر سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ ٹرانسپورٹ اینڈ انوائرمنٹ کے مطابق یورپ کی کل درآمدات کا تقریباً 30 فیصد آبنائے ہرمز سے جڑا ہوا ہے۔
قیمتوں میں اضافہ پہلے ہی ظاہر ہو چکا ہے۔ یورونیو کے مطابق جنگ کے آغاز سے جیٹ فیول کی قیمتوں میں 95 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اپریل کے وسط میں عالمی سطح پر فی ٹن قیمت 1458 ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بحران اب دباؤ سے قلت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ رِسٹاد انرجی کے ماہرین نے اسے گزشتہ آٹھ دہائیوں کا سب سے بڑا بحران قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یورپ پانچ سے سات ہفتوں میں بڑے پیمانے پر ایئرپورٹ قلت کا سامنا کرے گا۔
اُدھر سیاسی پس منظر نے بھی غیر یقینی کو بڑھا دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یکطرفہ جنگ بندی کی توسیع کے باوجود آبنائے ہرمز کھل نہیں سکی۔ ایران نے حالیہ دنوں میں تین کارگو جہازوں پر حملہ کیا اور دو کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحران یورپ کو مجبور کرے گا کہ وہ اپنی فضائی ایندھن حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرے (فوٹو: روئٹرز)
یورپی کمیشن نے اگرچہ بڑے پیمانے پر ایندھن کی قلت سے انکار کیا ہے، لیکن ایئرلائنز پہلے ہی پروازوں میں کمی کر رہی ہیں۔ لفتھانزا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس موسمِ گرما میں 20 ہزار کم پروازیں چلائے گی تاکہ ایندھن بچایا جا سکے۔ اٹلی کے ایئرپورٹس نے بھی راشننگ شروع کر دی ہے۔
یورپی یونین نے ’ایکسلیریٹ ای یو‘ منصوبہ پیش کیا ہے جس میں قلیل مدتی اقدامات جیسے ایندھن کی تقسیم اور ذخائر کی نگرانی شامل ہیں، جبکہ طویل مدتی حکمتِ عملی میں پائیدار ایندھن اور مقامی پیداوار پر زور دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحران یورپ کو مجبور کرے گا کہ وہ اپنی فضائی ایندھن حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرے اور پائیدار متبادل ایندھن کی طرف تیزی سے قدم بڑھائے۔ بصورتِ دیگر، یورپ کی فضائی صنعت جو 14 ملین نوکریاں اور 851 ارب یورو کی معیشت کو سہارا دیتی ہے، شدید خطرے میں پڑ سکتی ہے۔