انڈین حزبِ اختلاف کے زیرِ اقتدار دو سیاسی طور پر اہم ریاستوں میں ووٹنگ جاری
انڈین حزبِ اختلاف کے زیرِ اقتدار دو سیاسی طور پر اہم ریاستوں میں ووٹنگ جاری
جمعرات 23 اپریل 2026 8:18
نریندر مودی کی بی جے پی نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی کو اقتدار سے ہٹانے کی بھرپور مہم چلائی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
انڈین حزبِ اختلاف کے زیرِ اقتدار دو سیاسی طور پر اہم ریاستوں مغربی بنگال اور جنوبی تمل ناڈو میں ووٹنگ کا آغاز ہوا جہاں کروڑوں افراد نے ووٹ ڈالے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ان حزبِ اختلاف کے گڑھوں میں قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مغربی بنگال کی آبادی 10 کروڑ سے زیادہ ہے جس میں پہلے مرحلے کی پولنگ 294 رکنی اسمبلی کی 152 نشستوں کے لیے شروع ہوئی۔ باقی 142 نشستوں کے لیے دوسرا مرحلہ 29 اپریل کو ہوگا۔ ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر منوج اگروال نے کہا کہ ’تقریباً تین کروڑ 60 لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔‘، اور تقریباً آٹھ ہزار پولنگ سٹیشنز کو ’انتہائی حساس‘ قرار دیا گیا ہے۔
مودی کی بی جے پی نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی کو اقتدار سے ہٹانے کی بھرپور مہم چلائی ہے۔ ممتا بینرجی آل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی رہنما ہیں، جو 2011 سے ریاست میں برسرِ اقتدار ہے۔ پچھلے انتخابات (2021) میں بینرجی کی جماعت نے 294 میں سے 213 نشستیں جیتی تھیں۔ سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں، خاص طور پر بنگلہ دیش کی سرحد پر۔
انتخابی مہم کے دوران ووٹر لسٹوں سے لاکھوں ناموں کو ہٹانے پر احتجاج ہوا۔ یہ عمل ’سپیشل انٹینسیو ریویژن‘ کے تحت کیا گیا، جس کا مقصد نااہل ووٹرز کو نکالنا تھا، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ عمل پسماندہ اور اقلیتی برادریوں کے خلاف ہے۔
ایک نئے ووٹر پرتیک مائتی نے بتایا کہ ’ہم اپنی ریاست میں روزگار چاہتے ہیں۔ ہم سماجی عزت کے ساتھ جینا چاہتے ہیں۔‘
دونوں انتخابات کے نتائج 4 مئی کو جاری کیے جائیں گے۔ اسی دن آسام اور کیرالہ کی ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کے نتائج بھی سامنے آئیں گے (فوٹو: اے ایف پی)
تمل ناڈو کی آبادی آٹھ کروڑ سے زیادہ ہے جس میں 234 رکنی اسمبلی کے لیے جمعرات کو ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہو رہی ہے۔ یہاں حکمران دراوڑ منیترا کڑگم (ڈی ایم کے) کا مقابلہ اس کی دیرینہ حریف آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کڑگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) سے ہے۔ بی جے پی، جو تمل ناڈو میں اے آئی اے ڈی ایم کے کی اتحادی ہے، اب تک جنوبی ریاست میں خاطر خواہ انتخابی کامیابیاں حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
دونوں انتخابات کے نتائج 4 مئی کو جاری کیے جائیں گے۔ اسی دن آسام اور کیرالہ کی ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کے نتائج بھی سامنے آئیں گے، ساتھ ہی ساحلی علاقے پڈوچیری کے بھی۔