Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایف بی آر کے نئے کسٹم ضوابط، کیا استعمال شدہ موبائل فون مزید مہنگے ہو جائیں گے؟

نئی رولنگ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان قیمتوں کا اطلاق استعمال شدہ فونز پر ہو گا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان میں ٹیکس جمع کرنے والے ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن کراچی نے استعمال شدہ موبائل فونز کی کسٹم ویلیوز میں اہم ردوبدل کرتے ہوئے نئی ویلیویشن کے ضوابط جاری کر دیے ہیں۔
اس فیصلے کے تحت 62 مختلف ماڈلز کی درآمدی قیمتوں (کسٹمز ویلیو) میں اضافہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں پرانے فونز پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں کا بوجھ بڑھنے کا قوی امکان ہے۔
ڈائریکٹوریٹ کے مطابق جنوری میں جاری ہونے والی سابقہ رولنگ کو منسوخ کر کے نئے فیصلے کا اطلاق عالمی سطح کے پانچ بڑے برانڈز ایپل، سام سنگ، گوگل پکسل، شارپ اور ون پلس پر کر دیا گیا ہے۔ 
اضافے کی بنیادی وجہ بتاتے ہوئے ڈائریکٹوریٹ آف کسٹمز نے کہا ہے کہ مینوفیکچررز اور سٹیک ہولڈرز نے پچھلی رولنگ کو چیلنج کیا تھا جس کے بعد بین الاقوامی مارکیٹ ڈیٹا اور نیلامی کی قیمتوں کا جائزہ لے کر قیمتوں کو حقیقت پسندانہ سطح پر لایا گیا ہے۔
کسٹمز کی نئی رولنگ کے بعد اب تمام کسٹم ڈیوٹی اور دیگر متعلقہ ٹیکسز کی وصولی موبائل فونز کی نئی طے شدہ قیمتوں (کسٹم ویلیوز) کے مطابق کی جائے گی۔
اردو نیوز کو دستیاب دستاویزات کے مطابق ایپل کے فلیگ شپ ماڈلز میں آئی فون 15 پرو میکس کی نئی کسٹم ویلیو 505 ڈالر، آئی فون 15 پرو 472 ڈالر جبکہ آئی فون 14 پرو میکس کی قیمت 413 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح آئی فون 13 پرو میکس کے لیے 374 ڈالر اور آئی فون 11 کے لیے 133ڈالر  کی کسٹم ویلیو متعین کی گئی ہے۔
دوسرے بڑے برانڈ سیمسنگ کے مختلف ماڈلز کی قیمتوں میں بھی ردو بدل کیا گیا ہے۔

درآمد کنندگان کے لیے ایکٹیویشن کی اس مدت کا اعلان کرنا لازم قرار دیا گیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

نئی رولنگ کے تحت گلیکسی ایس 23 الٹرا کی ویلیو 305 ڈالر، ایس 22 الٹرا 260 ڈالر اور ایس 21 پلس کی قیمت 150 ڈالر طے پائی ہے جبکہ سیمسنگ کے پرانے ماڈلز جیسا کہ ایس 10 کی کسٹم ویلیو 54 ڈالر رکھی گئی ہے۔
دیگر معروف برانڈز میں گوگل پکسل 7 پرو کی قیمت 145 ڈالر اور پکسل 7 کی 105 ڈالر مقرر ہوئی ہے جبکہ ون پلس 12 کی قیمت 211 ڈالر اور ون پلس 11 کی کسٹم ویلیو 121 ڈالر متعین کی گئی ہے۔
نئی رولنگ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان قیمتوں کا اطلاق صرف ان استعمال شدہ فونز پر ہو گا جو پاکستان برآمد کیے جانے سے کم از کم 6 ماہ قبل ایکٹیویٹ ہو چکے ہوں۔
درآمد کنندگان کے لیے ایکٹیویشن کی اس مدت کا اعلان کرنا لازم قرار دیا گیا ہے جس کی حتمی تصدیق کسٹمز افسران کریں گے۔
مزید برآں یہ قیمتیں فون کی ظاہری حالت یا کسی بھی مخصوص ’گریڈ‘ سے قطع نظر لاگو ہوں گی اور یہ فیصلہ خاص طور پر ان موبائل فونز کے لیے کیا گیا ہے جو بغیر پیکنگ اور اسیسریز کے تجارتی بنیادوں پر درآمد کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ کسٹم ویلیو سے مراد کسی بھی درآمد شدہ موبائل فون کی وہ سرکاری یا قانونی قیمت ہے جسے کسٹمز حکام ڈیوٹی اور ٹیکسوں کے حساب کتاب کے لیے بنیاد بناتے ہیں۔

گوگل پکسل 7 پرو کی قیمت 145 ڈالر مقرر کی گئی ہے (فائل فوٹو: ای سٹور پاکستان)

یہ ضروری نہیں کہ یہ وہی قیمت ہو جس پر آپ نے فون خریدا ہے بلکہ یہ ایف بی آر کی طے کردہ وہ مقررہ قیمت ہوتی ہے جس پر مختلف فیصد کے حساب سے پی ٹی اے ٹیکس اور دیگر ڈیوٹیز لاگو کی جاتی ہیں۔ یعنی کسٹم ویلیو جتنی زیادہ ہو گی، اس فون کو پاکستان میں رجسٹر کروانے یا کلیئر کروانے کا ٹیکس بھی اتنا ہی زیادہ ہو گا۔
کراچی موبائل الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد منہاج گلفام نے ڈیوٹی میں حالیہ اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ تاجر برادری کے لیے شدید مشکلات اور کاروباری نقصان کا سبب بنے گا۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ’اس اقدام سے مارکیٹ میں موبائل فونز کی قیمتیں بڑھ جائیں گی اور مطالبہ کیا کہ جنوری 2026 کی سابقہ ویلیوایشن بحال کی جائے۔‘

کراچی موبائل الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر نے ڈیوٹی میں حالیہ اضافے پر تشویش کا اظہار کیا (فائل فوٹو: مائنڈ ٹرپ)

دوسری جانب پاکستان موبائل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سینیئر نائب صدر مظفر پراچہ نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جب ملک میں 95 فیصد سے زائد موبائل فونز مقامی سطح پر تیار ہو رہے ہیں تو حکومت کو استعمال شدہ فونز کی درآمد پر مکمل پابندی لگا دینی چاہیے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’استعمال شدہ فونز کا غیر قانونی کاروبار مقامی صنعت کو تباہ کر رہا ہے جبکہ اس کاروبار کے ذریعے ہنڈی حوالہ کے ذریعے سرمایہ بھی ملک سے باہر منتقل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقامی صنعت کے فروغ کے لیے ایسی درآمدات پر فوری پابندی عائد کی جائے۔‘

شیئر: