لاہور میں رہائشی فلیٹ سے تین کمسن بہن بھائیوں کی گلا کٹی لاشیں برآمد، ’ماں نے قتل کیا‘
جمعرات 23 اپریل 2026 13:19
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز، لاہور
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا (فوٹو: لاہور پولیس)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے گنجان آباد علاقے اچھرہ میں جمعرات کی صبح ایک رہائشی عمارت سے تین کمسن بچوں کی گلا کٹی لاشیں ملی ہیں۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ بچوں کی والدہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ’ملزمہ نے ابتدائی تفتیش میں گھریلو ناچاکی کا اعتراف کر لیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ملزمہ نے تیز دھار آلہ سے پانچ سالہ مومنہ بتول، چار سالہ مومن رضا اور ڈیڑھ برس کی ام حبیبہ کو بے دردی سے قتل کیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’انویسٹی گیشن اور آپریشنز ونگ کی مشترکہ کاوش سے بہت کم وقت میں ملزمہ کی گرفتاری ممکن ہوئی جبکہ فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔‘
ملزمہ نے ابتدائی تفتیش میں گھریلو ناچاکی کا اعتراف کر لیا، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور
مقتول بچوں کی نعشیں پوسٹ مارٹم کے لیے ڈیڈ ہاؤس منتقل کی گئیں۔‘
’پولیس سی سی ٹی وی فوٹیجز سے ملزمہ تک پہنچی۔ بچوں کے چچا کے گھر سے جانے کے بعد بچوں کی والدہ گھر آئی۔ بچوں کو قتل کرنے کے لیے استعمال ہونے والی چھری بچوں کی والدہ نے ایک روز قبل خریدی۔‘
اس سے قبل پولیس نے بچوں کے چچا کو بھی حراست میں لے لیا تھا۔
اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقعے پر پہنچیں جہاں پانچ سالہ مومنہ بتول، چار سالہ مومن رضا اور ڈیڑھ سالہ ام حبیبہ کی لاشیں برآمد ہوئیں۔
ریسکیو اہلکاروں نے لاشوں کو اپنی تحویل میں لینے کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا تھا جس کے بعد جائے وقوعہ کو سیل کر کے شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت بچوں کے والدین گھر میں موجود نہیں تھے۔ جب وہ واپس آئے تو انہیں اپنے بچوں کی لاشیں ملیں جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔
ڈی آئی جی انویسٹیگیشن ذیشان رضا اور دیگر سینیئر پولیس افسران بھی موقعے پر پہنچے اور تفتیشی عمل کی نگرانی کی۔
