Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شیخوپورہ میں ٹریفک پولیس نے اغوا کار کے چنگل سے دو بچیوں کو کیسے چھڑایا؟

حکام کے مطابق تفتیش پر پولیس کو معلوم ہوا کہ یہ وہی دو بچیاں ہیں جن کے لاپتہ ہونے کی ایف آئی آر لاہور کے تھانہ ہڈیارہ میں درج ہے (فوٹو: شیخوپورہ پولیس)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے علاقے ہڈیارہ سے 21 اپریل کی شام دو کمسن سہیلیاں لاپتہ ہوئیں جس کے باعث دونوں فیملیز شدید تشویش کا شکار رہی تاہم انہیں کیا معلوم تھا کہ ان کی بیٹیاں اغواء کار کی معمولی غفلت کے باعث بازیاب ہو جائیں گی۔
لاہور کے نواحی علاقے ہڈیارہ میں 21 اپریل کی شام دو سہیلیاں اپنے گھروں سے کھیلنے کے لیے نکلی تاہم کافی وقت گزرنے کے باوجود واپس نہ آئیں۔
لاہور کے تھانہ ہڈیارہ میں درج ایف آئی آر کے مطابق شام چار بجے کے قریب مدعی کی 10 سالہ بیٹی اپنی سہیلی کے ساتھ کھیلنے کے لیے گھر سے نکلی تھی۔
مقدمے کے مدعی کے مطابق ابتدائی طور پر یہی گمان تھا کہ شاید بچیاں کھیل میں مگن ہوں گی یا کسی قریبی رشتہ دار کے ہاں چلی گئی ہوں گی لیکن جب مدعی نے اپنی بیٹی کی سہیلی کے گھر رابطہ کیا تو وہاں بھی صورت حال مختلف نہ تھی۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق مدعی مقدمہ نے جب اپنی بیٹی کی سہیلی کے گھر رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ دوسری بچی کے گھر والے بھی اسی اضطراب کا شکار ہیں۔
مدعی کے مطابق دونوں خاندانوں نے محلے کی گلیاں چھان ماری، قریبی بازار میں دیکھا، جان پہچان کے گھروں پر دستک دی غرض ہر جگہ معلوم کیا لیکن دونوں بچیوں کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔
تلاش کے تمام روایتی ذرائع ناکام ہو جانے کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔ مقدمے میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ممکنہ طور پر کسی نامعلوم شخص نے دونوں بچیوں کو اغوا کر لیا ہے۔
اس کے بعد پولیس نے دفعہ 363 کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی۔
لاہور پولیس ابھی مغوی بچیوں کی تلاش میں مصروف تھی جبکہ دوسری طرف پنجاب کے ضلع شیخوپورہ میں ٹریفک پولیس معمول کی ڈیوٹی انجام دے رہی تھی۔
شیخوپورہ ٹریفک پولیس نے اردو نیوز کو بتایا کہ بتی چوک میں ٹریفک وارڈن ثاقب اور نعیم روزمرہ کی طرح گاڑیوں کی نگرانی کر رہے تھے کہ ان کی نظر ایک موٹرسائیکل سوار پر پڑی۔
ٹریفک پولیس حکام نے اس حوالے سے بتایا ’موٹر سائیکل سوار بغیر ہیلمٹ کے سفر کر رہا تھا جس پر اسے رکنے کا اشارہ کیا گیا۔ بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل سواروں کو اشارے دے کر روکنا معمول کی کارروائی ہے لیکن اس معمول کی کارروائی میں ایک غیر معمولی ردعمل دیکھا گیا۔‘
ٹریفک پولیس حکام کے مطابق جیسے ہی وارڈنز نے اسے رکنے کا اشارہ کیا موٹرسائیکل سوار گھبرا گیا۔ ڈسٹرکٹ ٹریفک آفیسر ملک احمد اعوان نے اردو نیوز کو بتایا ’اس کے ساتھ دو کمسن بچیاں بھی سوار تھیں۔ موٹرسائیکل سوار نے رفتار بڑھائی اور پھر بھاگ نکلا۔ تب تک ٹریفک وارڈنز نے بچیوں کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ بچیاں خوف زدہ تھیں لیکن محفوظ تھیں۔‘
ڈی ایس پی ملک احمد اعوان کے مطابق ابتدائی تفتیش میں بچیوں نے بتایا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا تھا اور انہیں لالچ دیا کہ وہ ان کے لیے چیزیں خریدے گا۔ 
ڈسٹرکٹ ٹریفک پولیس افسر ڈی ایس پی احمد اعوان کے مطابق جب بچیوں کو تحویل میں لیا گیا تو سب سے پہلے انہیں دلاسہ دیا گیا تاکہ وہ خود کو محفوظ محسوس کریں۔ اس کے بعد ان سے معلومات لی گئیں جو اس کیس کی نوعیت کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوئیں۔ بچیوں کی باتوں سے واضح ہوا کہ انہیں ایک منصوبے کے تحت اغوا کیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق تفتیش پر پولیس کو معلوم ہوا کہ یہ وہی دو بچیاں ہیں جن کے لاپتہ ہونے کی ایف آئی آر لاہور کے تھانہ ہڈیارہ میں درج ہے۔ مقدمہ نمبر 349/26 کے تحت درج اس کیس کی تفصیلات شیخوپورہ پولیس سے ملتی جلتی تھیں۔
دونوں اضلاع کی پولیس کے درمیان رابطہ ہوا اور بچیوں کو محفوظ طریقے سے لاہور پولیس کے حوالے کرنے کے انتظامات کیے گئے۔
ڈی ایس پی ملک احمد اعوان اس حوالے سے مزید بتاتے ہیں ’لاہور پولیس سے رابطہ کرنے کے بعد رات کو ہی دونوں بچیاں متعلقہ تھانے کے حوالے کی گئیں جبکہ فرار ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔‘

شیئر: