امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای و) ٹِم کُک نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
منگل کے روز ایپل کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی پریس ریلیز میں اعلان کیا گیا کہ ٹِم کُک کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ایگزیکٹو چیئرمین بن جائیں گے، جبکہ جان ٹرنَس، جو اس وقت سینئر نائب صدر برائے ہارڈویئر انجینئرنگ ہیں، یکم ستمبر 2026 سے ایپل کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا عہدہ سنبھالیں گے۔
مزید پڑھیں
یہ تبدیلی بورڈ آف ڈائریکٹرز کی متفقہ منظوری سے عمل میں آئی اور ایک طویل المدتی اور سوچے سمجھے جانشینی منصوبے کا حصہ ہے۔
ٹِم کُک موسمِ گرما تک بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے اور اس دوران وہ جان ٹرنَس کے ساتھ مل کر ہموار منتقلی کو یقینی بنائیں گے۔ ایگزیکٹو چیئرمین کے طور پر وہ کمپنی کے مختلف امور میں معاونت کریں گے، جن میں دنیا بھر کے پالیسی سازوں سے رابطہ بھی شامل ہوگا۔
ٹِم کُک نے کہ ’میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز یہ رہا کہ میں ایپل کا چیف ایگزیکٹو آفیسر رہا اور مجھے اس غیر معمولی کمپنی کی قیادت سونپی گئی۔ میں ایپل سے دل و جان سے محبت کرتا ہوں اور اس بات پر بے حد شکر گزار ہوں کہ مجھے ایسے ذہین، تخلیقی اور مخلص لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جو ہمارے صارفین کی زندگی بہتر بنانے اور بہترین مصنوعات و خدمات بنانے کے لیے ہمیشہ پُرعزم رہے۔‘
’جان ٹرنَس میں ایک انجینئر کی سوچ، ایک موجد کی روح اور دیانت داری کے ساتھ قیادت کرنے والا دل موجود ہے۔ وہ ایک وژن رکھنے والے رہنما ہیں جن کی گزشتہ 25 برسوں میں بے شمار خدمات ہیں۔ مجھے مکمل یقین ہے کہ وہ ایپل کو مستقبل کی جانب لے جانے کے لیے بہترین انتخاب ہیں اور میں ان کے ساتھ اس منتقلی کے دوران اور اپنے نئے کردار میں کام کرنے کا منتظر ہوں۔‘

جان ٹرنَس نے کہا ’میں اس موقع پر بے حد شکر گزار ہوں کہ مجھے ایپل کے مشن کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری دی گئی۔ اپنی تقریباً پوری پیشہ ورانہ زندگی ایپل میں گزارنے کے دوران مجھے سٹیو جابز کے ساتھ کام کرنے اور ٹِم کُک کی رہنمائی حاصل کرنے کا موقع ملا۔ یہ میرے لیے اعزاز ہے کہ میں ان مصنوعات اور تجربات کی تشکیل میں شامل رہا جنہوں نے دنیا کے ساتھ ہمارے تعلق کے انداز کو بدل دیا۔‘
’میں مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہوں اور فخر ہے کہ ایپل میں دنیا کے باصلاحیت ترین لوگ موجود ہیں جو کسی بڑی چیز کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ میں اس ذمہ داری کو عاجزی کے ساتھ قبول کرتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ انہی اقدار اور وژن کے ساتھ قیادت کروں گا جو نصف صدی سے اس ادارے کی پہچان ہیں۔‘
دوسری جانب آرتھر لیونسن، جو گزشتہ 15 برس سے نان ایگزیکٹو چیئرمین رہے ہیں، یکم ستمبر 2026 سے لیڈ انڈیپنڈنٹ ڈائریکٹر کا کردار سنبھالیں گے، جبکہ جان ٹرنَس اسی تاریخ سے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا حصہ بھی بن جائیں گے۔
ٹِم کُک نے مزید کہا ’میں آرتھر لیونسن کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے گزشتہ 15 برسوں میں بورڈ کی بہترین قیادت کی۔ ان کا مشورہ ہمیشہ قیمتی رہا اور ان کی وابستگی قابلِ قدر ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ وہ لیڈ انڈیپنڈنٹ ڈائریکٹر کے طور پر اپنا کردار جاری رکھیں گے۔‘
ٹم کک کی ایپل کے لیے خدمات
ٹِم کُک 1998 میں ایپل میں شامل ہوئے اور 2011 میں چیف ایگزیکٹو آفیسر بنے۔ ان کی قیادت میں ایپل نے متعدد مصنوعات اور خدمات متعارف کروائیں، جن میں ایپل واچ، ایئر پوڈز اور ایپل وژن پرو شامل ہیں، جبکہ آئی کلاؤڈ، ایپل پے، ایپل ٹی وی اور ایپل میوزک جیسی سروسز بھی متعارف ہوئیں۔
ان کے دور میں ایپل کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 350 ارب ڈالر سے بڑھ کر 4 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی، یعنی 1000 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جبکہ سالانہ آمدنی 2011 کے 108 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2025 میں 416 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔

کمپنی اب 200 سے زائد ممالک میں موجود ہے، 500 سے زیادہ ریٹیل سٹورز چلا رہی ہے، اور اس کے فعال ڈیوائسز کی تعداد 2.5 ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔
ٹِم کُک کے دور میں ایپل کی سروسز کا شعبہ 100 ارب ڈالر سے زائد کا کاروبار بن گیا، جبکہ ویئرایبلز کیٹیگری نے بھی نمایاں ترقی کی۔ اسی دوران کمپنی نے اپنی چپس خود تیار کرنے کا فیصلہ کیا جس سے کارکردگی اور توانائی کی بچت میں نمایاں بہتری آئی۔

ان کی قیادت میں ایپل نے اپنے کاربن اخراج میں 2015 کے مقابلے میں 60 فیصد سے زائد کمی کی، جبکہ پرائیویسی اور سیکیورٹی کو بنیادی انسانی حق کے طور پر فروغ دیا گیا۔
جان ٹرنس کون ہیں؟

جان ٹرنَس 2001 میں ایپل سے وابستہ ہوئے، 2013 میں نائب صدر برائے ہارڈویئر انجینئرنگ بنے اور 2021 میں ایگزیکٹو ٹیم کا حصہ بنے۔ انہوں نے آئی فون، آئی پیڈ، میک اور ایپل واچ سمیت متعدد مصنوعات کی ہارڈویئر انجینئرنگ کی قیادت کی۔
میک کمپیوٹرز کی ترقی میں ان کا کردار اہم رہا، جبکہ حالیہ مصنوعات جیسے میک بک نیو اور آئی فون 17 سیریز بھی ان کی ٹیم کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ ان کی قیادت میں ایئر پوڈز کو مزید بہتر بنایا گیا اور انہیں صحت سے متعلق استعمال کے قابل بھی بنایا گیا۔
انہوں نے مصنوعات کی مضبوطی، پائیداری اور ماحول دوست ڈیزائن میں بھی اہم کردار ادا کیا، جن میں ری سائیکل ایلومینیم، تھری ڈی پرنٹڈ ٹائٹینیم اور مرمت کے بہتر نظام شامل ہیں۔
ایپل سے قبل وہ ورچوئل ریسرچ سسٹمز میں مکینیکل انجینئر کے طور پر کام کر چکے ہیں اور انہوں نے یونیورسٹی آف پنسلوانیا سے مکینیکل انجینئرنگ میں بیچلر ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔
ٹم کُک نے ایپل کو کیسے سنبھالا اور دنیا کی سب سے کامیاب کمپنی بنایا؟
ٹیکنالوجی کی دنیا میں سٹیو جابز کو ایپل کا بانی اور وژن دینے والا مانا جاتا ہے، تاہم یہ حقیقت بھی اب تسلیم کی جاتی ہے کہ ٹم کک وہ شخصیت ہیں جنہوں نے اس کمپنی کو نہ صرف سنبھالا بلکہ اسے دنیا کی سب سے کامیاب کاروباری مثالوں میں تبدیل کیا۔
سنہ 1998میں جب ٹِم کُک ایپل میں شامل ہوئے تو کمپنی شدید مالی اور انتظامی مشکلات کا شکار تھی۔ اس وقت ایپل کی سپلائی چین غیر مؤثر تھی اور وسائل کا ضیاع ہو رہا تھا۔ ٹِم کُک نے آتے ہی اس پورے نظام کو تبدیل کر دیا۔ انہوں نے کمپنی کی انوینٹری کم کی، پیداوار اور ترسیل کے عمل کو تیز اور منظم بنایا، اور عالمی سطح پر مضبوط شراکت داریاں قائم کیں، جس سے ایپل کے اخراجات کم ہوئے اور مالی استحکام حاصل ہوا۔
ٹِم کُک کو عموماً ایک وژنری لیڈر کے بجائے ایک ‘آپریشنز ماہر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جہاں سٹیو جابز نئی مصنوعات اور آئیڈیاز کے ذریعے ایپل کو آگے لے کر آئے، وہیں ٹِم کُک نے کمپنی کے اندرونی نظام کو مضبوط کیا، فیصلوں کو ڈیٹا اور نمبرز کی بنیاد پر لائے، اور ایک ایسا نظم قائم کیا جس نے کمپنی کو مسلسل ترقی کی راہ پر ڈال دیا۔
2011 میں سٹیو جابز کے انتقال کے بعد ایپل کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔ بہت سے ماہرین کا خیال تھا کہ کمپنی اپنی رفتار برقرار نہیں رکھ سکے گی، تاہم ٹِم کُک نے قیادت سنبھالتے ہی کمپنی میں تسلسل برقرار رکھا۔ انہوں نے موجودہ مصنوعات اور نظام کو مستحکم کیا اور کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال کو کاروبار پر اثر انداز نہیں ہونے دیا۔
ٹِم کُک کے دور میں ایپل نے اپنی حکمت عملی میں اہم تبدیلی کی۔ جہاں پہلے کمپنی محدود صارفین کے لیے مخصوص مصنوعات بناتی تھی، وہیں اب اس نے وسیع مارکیٹ کو ہدف بنانا شروع کیا۔ بڑی سکرین والے سمارٹ فونز متعارف کروانا، چین سمیت عالمی منڈیوں میں توسیع، اور صارفین کی ضروریات کے مطابق مصنوعات تیار کرنا اسی حکمت عملی کا حصہ تھا۔












