Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈیپ سیک کے نئے اے آئی ماڈل کا انتظار: چین کا امتحان یا امریکہ کے لیے نئی ’ویک اپ کال‘؟

ڈیپ سیک نے 2025 میں کم لاگت چیٹ بوٹ کے ذریعے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
دنیا کی ٹیکنالوجی انڈسٹری اس وقت چین کی کمپنی ڈیپ سیک کے نئے اے آئی ماڈل کا انتظار کر رہی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے جب ڈیپ سیک سٹارٹ اپ نے 2025 کے اوائل میں ایک کم لاگت چیٹ بوٹ کے ذریعے چینی اے آئی کی ایسی جھلک دکھائی جو امریکی حریفوں کے برابر کارکردگی رکھتی تھی۔ 
تاہم جلد ریلیز کی خبروں اور افواہوں کے باوجود ڈیپ سیک کا نیکسٹ جنریشن ’وی فور‘ ماڈل تاحال منظر عام پر نہیں آیا۔
یہ قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ نئے سسٹم کو تربیت دینے اور چلانے کے لیے کون سے کمپیوٹر چپس استعمال کی گئیں۔
کاؤنٹر پوائنٹ ریسرچ کی پرنسپل اے آئی تجزیہ کار وی سن کے مطابق، ’یہ جاننا اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ چین کی اے آئی میں خود کفالت کی طرف اشارہ ہے۔‘
ٹیک نیوز ویب سائٹ دی انفارمیشن نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ وی فور کو چین کی ہواوے کمپنی کی جدید چپس پر چلایا جا سکتا ہے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ چین کے لیے ایک اہم سنگ میل ہو گا کیونکہ وہ امریکی کمپنی نیوڈیا کی جدید ترین اے آئی چپس کی برآمدات پر پابندیوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
رپورٹ میں پانچ ایسے افراد کا حوالہ دیا گیا جن کو ہواوے چپس کی خریداری کا براہ راست علم ہے، جو ڈیپ سیک کے آغاز کی تیاری کے لیے علی بابا، بائٹ ڈانس اور ٹینسنٹ جیسی بڑی ٹیک کمپنیوں نے کی۔
اے ایف پی نے ڈیپ سیک، ہواوے، علی بابا، بائٹ ڈانس اور ٹینسنٹ سے رابطہ کیا، لیکن کسی نے بھی تبصرہ نہیں کیا۔
’ویک اپ کال‘ 
ڈیپ سیک کی بنیاد 2023 میں ایک ہیج فنڈ کے ضمنی منصوبے کے طور پر رکھی گئی تھی، جس کے پاس نیوڈیا کے طاقتور پروسیسرز کا ذخیرہ موجود تھا۔
یہ جنوری 2025 میں اپنے ’آر ون‘ ڈیپ ریزننگ چیٹ بوٹ کے ساتھ نمایاں ہوئی، جس نے امریکی ٹیک شیئرز کو متاثر کیا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے امریکی کمپنیوں کے لیے ’ویک اپ کال‘ قرار دیا۔
آر ون ڈیپ سیک کے پچھلے بڑے اے آئی ماڈل وی تھری پر مبنی تھا، جو دسمبر 2024 میں جاری کیا گیا تھا۔
کمپنی کے کم لاگت اور قابل تخصیص اے آئی ٹولز چین میں وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں، جبکہ جنوب مشرقی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی منڈیوں میں بھی مقبول ہیں۔
کارتھیج کیپیٹل فنڈ کے بانی سٹیفن وو کا کہنا ہے کہ وی فور (جس کے ملٹی موڈل ہونے کی توقع ہے یعنی وہ متن، تصاویر اور ویڈیو تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو گا) امریکی ٹیک کمپنیوں کی قدر کو دوبارہ متاثر کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھے توقع ہے کہ ڈیپ سیک وی فور صرف ایک سافٹ ویئر اپ ڈیٹ نہیں ہوگا بلکہ ایک نہایت طاقتور، اوپن سورس ماڈل ہو گا جو کم لاگت میں وسیع کانٹیکسٹ سنبھال سکے گا۔‘
تاہم ڈیپ سیک کی جدید اے آئی ٹیکنالوجی میں اور بھی کافی کچھ داؤ پہ لگا ہوا ہے۔

امریکہ نے نیوڈیا کے جدید اے آئی چپس کی چین کو برآمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

وی سن کے مطابق اس کے ماڈلز پہلے نیوڈیا چپس پر انحصار کرتے تھے، اس لیے مقامی چپ سازوں کے ساتھ تعاون کے لیے ’نمایاں تکنیکی تبدیلیاں‘ درکار ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی ترقی کے عمل کو سست کر سکتی ہے اور کارکردگی پر اثر ڈال سکتی ہے۔ ‘
تربیت بمقابلہ انفیرنس
امریکہ نے قومی سلامتی کے خدشات کی بنیاد پر چین کو نیوڈیا کے جدید ترین اے آئی پروسیسرز کی برآمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
سٹیفن وو کے مطابق، ’ڈیپ سیک وی فور کا انتظار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید ماڈلز کو وسعت دینے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔‘
کچھ رپورٹس میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ڈیپ سیک نے وی فور کی تربیت کے لیے نیوڈیا کے جدید بلیک ویل چپس ہزاروں کی تعداد میں دوسرے ممالک سے حاصل کر کے چین منتقل کیے۔
اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے بہت زیادہ کمپیوٹنگ طاقت درکار ہوتی ہے جو کہ جنریٹو اے آئی کے استعمال (انفیرنس) کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
ایک اور چینی اے آئی سٹارٹ اپ ژیپو نے جنوری میں ایک امیج جنریٹر متعارف کرایا، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ اسے مکمل طور پر ہواوے چپس کے ساتھ موافق بنایا گیا ہے۔
علی بابا کمپنی کے حکام نے بھی رواں ہفتے اعلان کیا کہ وہ جنوبی چین میں اے آئی ٹریننگ اور انفیرنس کے لیے ایک نیا ڈیٹا سینٹر قائم کریں گے جو اس کی اپنی دس ہزار چپس پر مشتمل ہو گا اور چائنا ٹیلی کام کے ذریعے کام کرے گا۔
سٹیفن وو کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگر ڈیپ سیک نے واقعی وی فور کو مکمل طور پر ہواوے چپس کے ساتھ ہم آہنگ کیا ہے تو یہ عالمی ٹیکنالوجی کے جغرافیائی منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہو گا۔‘

شیئر: