برطانیہ کا انتباہ: 100 ممالک کے ہیکنگ وائرسز سے ’شہریوں کے فونز خطرے میں‘
برطانیہ کا انتباہ: 100 ممالک کے ہیکنگ وائرسز سے ’شہریوں کے فونز خطرے میں‘
جمعرات 23 اپریل 2026 6:38
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
’پیگاسس‘ اور ’گریفائٹ‘ جیسے کمرشل سپائی ویئر نجی کمپنیوں کی جانب سے تیار کیے جاتے ہیں (فائل فوٹو: پکسابے)
برطانیہ کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایک تشویشناک انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے 100 سے زائد ممالک کے پاس ایسا کمرشل سپائی ویئر موجود ہے جو موبائل فونز اور کمپیوٹرز میں گھس کر حساس معلومات چوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ ’ٹیک کرنچ‘ کے مطابق یہ انکشاف برطانیہ کے ’نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر‘ کی ایک رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، نگرانی کرنے والی اس جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اب پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہو چکی ہے، جس کے باعث غیر ملکی حکومتوں اور ہیکرز کے لیے برطانوی شہریوں، کمپنیوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا پہلے سے زیادہ سہل ہو گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ 2023 میں ایسے ممالک کی تعداد 80 تھی، جو اب بڑھ کر 100 ہو چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق ’پیگاسس‘ اور ’گریفائٹ‘ جیسے کمرشل سپائی ویئر نجی کمپنیوں کی جانب سے تیار کیے جاتے ہیں، جو موبائل اور کمپیوٹر سافٹ ویئر میں موجود سیکیورٹی خامیوں کا فائدہ اٹھا کر ڈیوائسز تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اس کے بعد صارف کا ڈیٹا، پیغامات، کالز اور دیگر حساس معلومات چوری کی جا سکتی ہیں۔
اگرچہ کئی حکومتیں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ اس ٹیکنالوجی کو صرف دہشت گردوں اور بڑے جرائم پیشہ افراد کے خلاف استعمال کرتی ہیں، تاہم سیکیورٹی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنان طویل عرصے سے خبردار کرتے آئے ہیں کہ اس کا غلط استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق صحافیوں، سیاسی مخالفین اور ناقدین کو بھی اس کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں سپائی ویئر کے شکار افراد کی فہرست میں وسعت آئی ہے، جس میں اب بینکرز اور امیر کاروباری شخصیات بھی شامل ہو چکی ہیں۔
نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر کے سربراہ رچرڈ ہورن نے ایک کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ’برطانوی کمپنیاں موجودہ خطرات کی سنگینی کو پوری طرح سمجھنے میں ناکام رہی ہیں۔‘
حال ہی میں ’ڈارک سووارڈ‘ نامی ایک ہیکنگ ٹول کٹ بھی آن لائن لیک ہوئی (فائل فوٹو: پکسابے)
ان کا کہنا تھا کہ ’برطانیہ کے خلاف ہونے والے زیادہ تر بڑے سائبر حملوں کے پیچھے غیر ملکی ریاستیں ہوتی ہیں، نہ کہ صرف سائبر جرائم پیشہ گروہ۔‘
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ’چین سے منسلک ہیکرز مسلسل حساس معلومات حاصل کرنے، اہم شخصیات کی نگرانی کرنے اور مستقبل میں ممکنہ بڑے سائبر حملوں کی تیاری میں مصروف ہیں، خاص طور پر ایسے منظرناموں میں جہاں تائیوان پر ممکنہ چینی کارروائی کے دوران مغربی ردعمل کو متاثر کیا جا سکے۔‘
مزید برآں، حال ہی میں ’ڈارک سووارڈ‘ نامی ایک ہیکنگ ٹول کٹ بھی آن لائن لیک ہوئی، جس میں ایسے خطرناک سافٹ ویئر شامل تھے جو جدید آئی فونز اور آئی پیڈز کو بھی ہیک کر سکتے ہیں۔ اس لیک نے یہ واضح کر دیا ہے کہ حتیٰ کہ حکومتوں کے زیر استعمال خفیہ ہیکنگ ٹولز بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں رہتے اور ان کے عام لوگوں تک پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسے ٹولز کے پھیلاؤ سے دنیا بھر میں لاکھوں صارفین کے ڈیٹا کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اور سائبر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کی فوری ضرورت ہے۔