سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کُشنر کا دورۂ پاکستان منسوخ کردیا ہے: صدر ٹرمپ
ایرانی وزیر خارجہ پاکستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد روانہ ہوگئے (فوٹو: پاکستانی وزارتِ خارجہ)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ’انہوں نے ایرانی وفد سے ملاقات کے لیے جانے والے امریکی نمائندوں سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کُشنر کا دورۂ پاکستان منسوخ کردیا ہے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان سنیچر کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے پاکستان سے روانہ ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سنیچر کو امریکی ٹی وی ’فاکس نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایرانی حکام کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے کی خاطر پاکستان کا سفر نہ کریں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں نے کچھ دیر پہلے اپنے نمائندوں سے کہا جو روانہ ہونے کی تیاری کر رہے تھے، اور میں نے اُن سے کہا کہ 'نہیں، آپ وہاں جانے کے لیے 18 گھنٹے کی پرواز نہیں کریں گے۔ ہمارے پاس تمام اختیارات موجود ہیں۔ وہ جب چاہیں ہمیں کال کر سکتے ہیں، لیکن آپ مزید 18 گھنٹے کی پروازیں نہیں کریں گے صرف بے مقصد بات چیت کے لیے بیٹھنے کے لیے۔‘
بعد میں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ’میں نے ابھی ابھی اپنے نمائندوں کا وہ دورہ منسوخ کر دیا ہے جو اسلام آباد، پاکستان جا کر ایرانی حکام سے ملاقات کے لیے طے تھا۔ سفر میں بہت زیادہ وقت ضائع ہوتا ہے اور کام بھی بہت زیادہ ہے! اس کے علاوہ، ان کی ’قیادت‘ کے اندر شدید اختلاف اور کنفیوژن پایا جاتا ہے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے، خود انہیں بھی نہیں۔ مزید یہ کہ ہمارے پاس تمام اختیار ہے اور ان کے پاس کچھ بھی نہیں! اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو انہیں صرف ہمیں کال کرنی ہے۔‘
تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’امریکی نمائندوں کے دورے کی منسوخی کا مطلب ایران کے ساتھ جنگ کا دوبارہ آغاز نہیں ہے۔‘
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس سے بات کرتے ہوئے کہ انہوں نے کہا کہ ’اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے اپنے نمائندوں کا دورہ منسوخ کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی۔‘
جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ کیا اس منسوخی کا مطلب جنگ دوبارہ شروع کرنا ہے؟ تو ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’نہیں، اس کا یہ مطلب نہیں ہے۔ ہم نے ابھی تک اس کے بارے میں سوچا ہی نہیں ہے۔‘
اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پاکستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد اسلام آباد سے روانہ ہوگئے۔
ایران کے سرکاری ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ انہوں نے ’جنگ بندی اور ایران کے خلاف مسلط کی گئی جنگ کے مکمل خاتمے سے متعلق تازہ ترین پیش رفت پر ہمارے ملک کے اصولی مؤقف کی وضاحت کی۔‘
اسلام آباد میں موجود ایک ایرانی سفارتی ذریعے نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ’بنیادی طور پر ایرانی فریق حد سے زیادہ مطالبات کو قبول نہیں کرے گا۔‘
