Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’اسلام کے سنہری دور‘ پر بننے والی پہلی سعودی پزل گیم ’ہاؤس آف حکمہ‘

یہ ایک تھری ڈی ایڈوینچر گیم ہے (فوٹو: دی سعودی ٹائمز ڈاٹ نیٹ)
پزل ایڈوینچر گیم میں اسلام کے سنہری دور کے تاریخی سکالرز کو دکھایا گیا ہے۔ اس کے بانی سمجھتے ہیں کہ یہ گیم سعودی عرب کو گیم ڈویلپمنٹ کی عالمی دنیا میں نمایاں مقام دلا سکتی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے 2022 میں نیشنل گیمنگ اور ای سپورٹس سٹریٹیجی کے قیام کے بعد سرکاری اور نجی اداروں کے تعاون سے کئی گیمز ریلیز کی جا چکی ہیں۔
اب ’ہاؤس آف حکمہ‘ یا ’ہاؤس آف وزڈم‘ پہلی سعودی پزل گیم بن چکی ہے جو اسلام کے سنہری دور یعنی آٹھویں سے 13ویں صدی تک کے سائنسی اور ثقافتی ترقی پر مبنی ہے۔
اس گیم کو لونیسی سٹوڈیو نے بنایا ہے جو کے ایک مکمل طور پر ریموٹ گیمنگ سٹوڈیو ہے جس کی بنیاد کری ایٹیو ڈائریکٹر فارس عطیہ نے رکھی ہے اور اُن کی ٹیم میں مملکت اور دنیا بھر سے ممبران شامل ہیں جنہوں نے یہ گیم بنائی ہے۔ اس کا موضوع وہ دور ہے جب مسلم دنیا، عالمی سطح پر دانش کا گڑھ سمجھتی جاتی تھی۔
فارس عطیہ آٹھ برسوں تک لاس اینجلس میں رہے ہیں اور انہوں نے ویڈیو گیمز میں اپنا کیریئر بنایا تاہم 2024 میں وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن واپس آگئے۔
عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہاؤس آف حکمہ جو 8 اپریل کو ریلیز ہوئی تھی، ایک تھری ڈی ایڈوینچر گیم ہے جو تاریخی دلچسپی اور گہری ذاتی کہانی کا امتزاج ہے۔
فارس عطیہ کہتے ہیں کہ ’یہ گیم غم کے بارے میں ایک پرامید پہلو کو بتاتی ہے کہ کیسے کوئی اپنے والدین کو کھو دینے کے بعد آگے بڑھتا ہے۔ اس گیم کی کہانی مایا نامی ایک لڑکی کے گرد گھومتی ہے جو اسلام کے سنہری دور میں اپنے والد سے بچھڑ جاتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جب اسے اپنے والد کے بارے میں خواب آنے لگتے ہیں تو وہ ہاؤس آف وزڈم کی جانب رخ کرتی ہے تاکہ اسے جوابات مل سکیں۔ وہاں وہ مشہور تاریخی سکالرز سے ملتی ہیں اور وہ ان کے کام پر مبنی طلسماتی دنیاؤں میں قدم رکھتی ہیں۔‘

 عطیہ اب مقامی پروجیکٹس میں کام کرنے پر غور کر رہے ہیں (فوٹو: عرب نیوز)

33 برس کے گیم ڈیلویلپر کا کہنا تھا کہ انہیں اس گیم کو بنانے کا خیال اپنے والد کے انتقال کے باعث آیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ گیم میرے ذاتی تجربات پر کافی حد تک مبنی ہے۔ اس گیم کے بنانے سے چند سال قبل میرے والد انتقال کر گئے اور گیم کی کہانی اور کرداروں کو لکھتے وقت میں نے اپنے والد کے دکھ کو دل میں رکھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’گیمز میں غم کی کہانی مجھے زیادہ متاثر نہیں کرتی تھی۔ اس طرح سے یہ گیم بنانے سے میں صدمے سے باہر نکلا۔ مجھے امید ہے کہ جب کوئی غمزدہ انسان یہ گیم کھیلے گا تو وہ اسے سمجھ پائے گا۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’میں چاہتا ہوں کہ جو لوگ غم سے گزر رہے ہیں وہ یہ بات سمجھ سکیں کہ گیم انہیں سمجھ رہی ہے۔ کسی کہانی کو گیم کی صورت میں کھیلنا دل کا بوجھ ایسے ہلکا کرتا ہے جیسے کوئی اور چیز نہیں کر سکتی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس گیم میں سات تاریخی سکالرز ہیں جن میں فاطمہ الفہری، ابن سینا، ابن حیان اور ابن الہیثم شامل ہیں۔ ہم نے ان کے کام کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔ بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو اُن کی ایجاد کی ہوئی ہیں جن میں کیمرہ اوبسکورہ شامل ہے جس نے جدید فوٹوگرافی کی بنیاد رکھی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ثقافتی طور پر مستند ہونا ہمارے لیے بہت اہم تھا لہذا ہم نے ان کے کام کو پڑھا۔ ہر لیول سکالر کے ڈسپلن پر مبنی ہے۔ ابن الہیثم نے آپٹکس اور لائٹ پر کام کیا تو مثال کے طور پر اُن کا لیول روشنی کو موڑنے کے گرد گھومتا ہے۔‘

گیم کی کہانی مایا نامی ایک لڑکی کے گرد گھومتی ہے (فوٹو: عرب نیوز)

انہوں نے گیم کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم نے اس پر مکمل وائس ایکٹنگ کی ہے جس میں انگریزی اور عربی زبانیں شامل ہیں جنہوں نے زندگی میں جذباتی کہانی کو شامل کیا ہے۔ اس گیم کا میوزک گریمی ونر کمپوزر آسٹن ونٹوری نے دیا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ آسٹن ونٹوری سعودی موسیقاروں کے ساتھ کام کرنے کے لیے سعودی عرب آئے۔ یہ پہلی گیم ہے جس میں ایسی دنیاؤں کو تلاش کیا جاتا ہے جو سکالرز کے گرد گھومتی ہے۔
اپنے چھوٹے سے سٹوڈیو کے بارے میں بات کرتے ہوئے فارس عطیہ کہتے ہیں کہ ’میں نے یہ کام بچپن سے کیا ہے۔ میں اس کا جنونی تھا۔ اس وقت ہم گیمز ڈاؤن لوڈ نہیں کرتے تھے۔ تب سی ڈیز ہوتی تھیں تو میں اپنے دوستوں سے وہ لیتا تھا۔‘
’میں آن لائن گیمز کھیلنے کے لیے بہت سا وقت انٹرنیٹ کیفے میں گزارتا تھا کیونکہ اس وقت گھر پر اتنا اچھا انٹرنیٹ نہیں تھا۔ یہ جنون کبھی ختم نہیں ہوا۔ میرے کیریئر میں نئی گیمز ڈھونڈنا اور کھیلنا شامل رہا۔ اس سے مجھے انسائیکلوپیڈیا ملا جس سے مجھے اپنے وژن کو حاصل کرنے میں مدد حاصل ہوئی۔‘
اپنی ٹیم کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’ہماری ٹیم پروڈکشن کے حساب سے بڑھتی اور کم ہوتی رہتی ہے۔ ہماری ٹیم کے 10 اہم رکن ہیں۔ کچھ سعودی ہیں اور باقی دیگر ممالک کے ہیں۔ ہم نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران کام شروع کیا لہذا گھر سے کام کرنا ضروری تھا۔ یہ چیز ہمارے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی۔ اس سے ہمیں بہترین کام کرنے والے لوگ ملے۔‘

فارس عطیہ آٹھ برسوں تک لاس اینجلس میں رہے ہیں (فوٹو: دی سعودی ٹائمز ڈاٹ نیٹ)

سعودی عرب کی گیمنگ انڈسٹری کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’جو ترقی ہم نے مقامی ڈیویلپرز میں دیکھی ہے وہ بہت متاثر کن ہے۔ یہ چیز بھی بہت متاثر کن ہے کہ آپ کا ملک آپ کی انڈسٹری کو براہ راست سپورٹ کر رہا ہے۔‘
عطیہ اب مقامی پروجیکٹس میں کام کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم سعودی گیمز انڈسٹری کو ترقی پر لانا چاہتے ہیں تو سٹوڈیوز کو ایک دوسرے کی ہمیشہ مدد کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ’خواب یہی ہے کہ سعودی گیمز انڈسٹری مونٹریال یا لاس اینجلس جیسی مشہور ہو جائے۔‘

 

شیئر: