Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جنگ بندی کے دوران نیتن یاہو کا اسرائیلی فوج کو حزب اللہ پر بھرپور حملہ کرنے کا حکم

اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ کے ہتھیاروں کے ذخیرے سے ٹینک شکن میزائل اور رائفلیں ملی ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے سنیچر کے روز اپنی فوج کو لبنان کی تنظیم حزب اللہ پر بھرپور حملہ کرنے کا حکم دیا ہے جب کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک مختصر بیان کے مطابق بنیامین نیتن یاہو نے ’اسرائیل کی مسلح افواج کو لبنان میں حزب اللہ کے اہداف پر بڑے حملے کرنے کا حکم دیا ہے۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے الزام لگایا تھا کہ ایران کے حمایت یافتہ گروپ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے جس میں رواں ہفتے کے آغاز میں توسیع کی گئی تھی۔
کئی گھنٹے قبل الگ الگ بیانات میں فوج کا کہنا تھا کہ اس نے ’جنوبی لبنان میں 15 سے زیادہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے‘ جن میں سے تین ’ہتھیاروں سے بھری‘ ایک گاڑی لے جا رہے تھے۔
اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے عسکریت پسندوں کی جانب سے قنطارا کے علاقے میں اپنے فوجیوں کی طرف دھماکہ خیز ڈرون بھیجنے کا الزام بھی لگایا جو فوجیوں کے قریب گرا، تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق اسے حزب اللہ کے ہتھیاروں کے ذخیرے سے ’ٹینک شکن میزائل‘ اور زیرِ زمین ایک سُرنگ سے کلاشنکوفیں اور رائفلیں بھی ملی ہیں۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے درمیان  10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کا آغاز 16 اپریل سے ہوا تھا۔
بعدازاں امریکی صدر نے فریقین سے بات چیت کے بعد دو روز قبل جنگ بندی کی مدت میں تین ہفتے کی توسیع کا اعلان کیا تھ۔
تاہم جنگ بندی کے دوران بھی اسرائیل اور حزب اللہ کے دوران وففے وقفے سے جھڑپیں ہو رہی ہیں جس کا الزام فریقین ایک دوسرے پر عائد کر رہے ہیں۔

شیئر: