Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آبنائے ہرمز کا بحران: سعودی مندوب نے عالمی تجارت اور توانائی کی سلامتی کو لاحق خطرات سے خبردار کر دیا

بندش سے بحری جہاز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
اقوامِ متحدہ میں سعودی عرب کے مندوب عبدالعزیز الواصل نے آبنائے ہرمز میں تعطل کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی سلامتی کو لاحق خطرات سے خبردار کیا۔
عرب نیوز کے مطابق پیر کو سعودی مندوب عبدالعزیز الواصل نے سمندری سلامتی اور نقل و حمل کی آزادی سے متعلق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور وسیع تر عالمی بحرانوں کے تناظر میں اہم آبی گزرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز کے تحفظ کی اہمیت کی ضرورت پر زور دیا۔
عبدالعزیز الواصل نے کہا کہ ’ایک ایسے وقت میں جب دنیا ایک غیرمعمولی معاشی، سماجی، سیاسی اور ماحولیاتی بحران کے اثرات سے نمٹ رہی ہے، سمندری نقل و حمل کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔‘
انہوں نے آبنائے ہرمز کو نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ وسیع تر عالمی معیشت کے لیے بھی اہم قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ وہاں جہاز رانی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے براہِ راست اثرات توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سپلائی چینز پر پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’خلیجِ عرب کا خطہ آبنائے ہرمز کے اطراف کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔ اس سٹریٹیجک آبی گزرگاہ میں نقل و حمل کی آزادی کو لاحق کسی بھی خطرے کے عالمی استحکام پر براہِ راست اثرات مرتب ہوں گے۔
عبدالعزیز الواصل نے اس بات پر زور دیا کہ سمندری سلامتی کا تحفظ ایک مشترکہ بین الاقوامی ذمہ داری ہے جس کے لیے بین الاقوامی قوانین، خصوصاً سمندری قانون سے متعلق اقوامِ متحدہ کے کنوینشن کی پابندی ضروری ہے تاکہ آمد و رفت کی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

عبدالعزیز الواصل نے افسوس کا اظہار کیا کہ سلامتی کونسل آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ سے متعلق کوئی مخصوص قرارداد منظور کرنے میں ناکام رہی ہے حالانکہ ان کے بقول وہاں سنگین اور مسلسل خطرات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کونسل کے اندر زیادہ اتحاد کی فوری ضرورت ہے اور اسے بین الاقوامی امن و سلامتی برقرار رکھنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔‘ جبکہ انہوں نے موثر  اقدامات کا مطالبہ بھی کیا۔
عبدالعزیز الواصل نے ایران کی ان کارروائیوں اور دھمکیوں کی مذمت کی جو بین الاقوامی جہاز رانی اور نقل و حمل کی آزادی کو نشانہ بنا رہی ہیں اور خبردار کیا کہ ایسا رویہ عالمی امن اور استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم ہر اس عمل یا دھمکی کی مذمت کرتے ہیں جو آبنائے ہرمز کے ذریعے بین الاقوامی نقل و حمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے۔‘  اور مزید کہا کہ یہ آبی گزرگاہ بین الاقوامی قانون کے مطابق بغیر کسی پابندی کے کھلی رہنی چاہیے۔

عبدالعزیز الواصل نے کہا کہ سمندری قانون سے متعلق اقوامِ متحدہ کے کنوینشن کی پابندی ضروری ہے (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی سعودی عرب کی حمایت کا اعادہ کیا اور پاکستان کی قیادت میں جاری ثالثی اقدامات کی تعریف کی جن کا مقصد اس بحران کا پرامن حل حاصل کرنا ہے۔
عبدالعزیز الواصل نے کہا کہ مکالمہ اور سفارت کاری ہی پائیدار امن اور استحکام کے حصول کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔
انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پابندی کرے اور بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی کہ سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کے خلاف واضح اور دوٹوک موقف اپنائے۔
الواصل نے قومی خودمختاری کے احترام، طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے اجتناب اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کی اہم ضرورت پر زور دیا تاکہ اہم سمندری راستوں کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے، خصوصاً وہ راستے جو خوراک اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت ضروری ہیں۔

شیئر: