Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کی افغان صوبہ کنڑ میں حملوں کے دعوؤں کی تردید، ’پروپیگنڈہ ہے‘

افغانستان کی وزارتِ اعلیٰ تعلیم نے صوبہ کنڑ میں ایک یونیورسٹی پر مبینہ طور پر پاکستان کی جانب سے میزائل حملے کی مذمت کی تھی۔ (فوٹو: ایکس)
پاکستان کی وزارت اطلاعات نے افغانستان کے صوبہ کنڑ میں افغان حکام اور میڈیا کی جانب سے حملوں کے دعوؤں کو بے بنیاد اور پروپیگنڈے پر مبنی قرار دے دیا ہے۔
وزارے اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان عبوری حکومت عوام کو خدمات، فلاح اور مؤثر طرزِ حکمرانی فراہم کرنے میں ناکامی کے باعث منفی بیانیے اور الزام تراشی کا سہارا لے رہی ہے۔ مزید کہا گیا کہ جھوٹی معلومات اور من گھڑت واقعات پیش کرنا ایسے عناصر کا وطیرہ بن چکا ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ ’آپریشن غضب لِلحق‘ کے تحت اگر کبھی افغانستان میں موجود دہشت گرد انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کا باقاعدہ اعلان کیا جاتا ہے، ذمہ داری قبول کی جاتی ہے اور کارروائی کے شواہد بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں شفاف اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کی جاتی ہیں۔
خیال رہے اس سے قبل افغانستان کی وزارتِ اعلیٰ تعلیم نے صوبہ کنڑ میں ایک یونیورسٹی پر مبینہ طور پر پاکستان کی جانب سے میزائل حملے کی مذمت کی تھی۔
وزارتِ اعلیٰ تعلیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس حملے کے نتیجے میں  تقریباً 30 طلبہ و اساتذہ ہلاک یا زخمی ہوئے جبکہ یونیورسٹی کی عمارتوں کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل کنڑ میں محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ نجیب اللہ حنیف نے طلوع نیوز سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ سوموار کے روز پاکستانی فوج کے میزائل حملوں میں تین افراد ہلاک اور 45 زخمی ہوئے تھے۔ ان کے مطابق مرنے والوں اور زخمیوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

شیئر: