اس بار پی ایس ایل بعض حوالوں سے دلچسپ رہا، بدنصیبی بھی ساتھ شامل رہی۔ چھ ٹیموں کی جگہ آٹھ ٹیمیں تھیں تو کئی نوجوان کھلاڑیوں کو ایمرجنگ کیٹیگری میں کھیلنے کا موقع ملا۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ ایران جنگ کے باعث پیٹرول کی قیمتیں بڑھ گئیں اور حکومت نے تماشائیوں کے آنے پر پابندی لگا دی، کراؤڈ کے بغیر میچ پھیکے پڑ گئے۔
یہ میچ زیادہ شہروں میں ہونے تھے مگر بعد میں یہ لاہور، کراچی تک محدود ہو گئے۔ جنگ کے باعث میڈیا پی ایس ایل کی طرف اس طرح متوجہ بھی نہیں ہوا۔ اس کے باوجود بہت اچھا ٹورنامنٹ گیا، مزے کے میچ ہوئے، کئی کانٹے کے مقابلے دیکھنے کو ملے۔
ادبی پیرائے میں کہیں تو اس پورے سیزن میں کامیابیوں کی کہانی بھی ہے، مایوسیوں کا دکھ بھی، نئے ستاروں کا عروج اور پرانے ناموں کا زوال بھی۔ اب ٹورنامنٹ بڑی حد تک واضح ہو گیا ہے۔ چار ٹیمیں پشاور زلمی، اسلام آباد یونائٹیڈ، ملتان سلطان، حیدرآباد کنگز مین پلے آف میں پہنچ چکی ہیں۔
مزید پڑھیں
-
پی ایس ایل 11: پلے آف میچز میں شائقین کو سٹیڈیم آنے کی اجازتNode ID: 903552
آج 28 اپریل کو پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائٹیڈ کے میچ میں فیصلہ ہو گا کہ کون سی ٹیم فائنل پہنچے گی، تاہم چونکہ یہ دونوں ٹاپ ٹو ٹیمیں ہیں، اس لیے ہارنے والے کو ایک چانس اور ملے گا۔ کل 29 اپریل کو ملتان سلطان اور حیدرآباد کنگزمین کا میچ ہو گا۔ اس میں جو جیتے گی وہ زلمی اور یونائٹیڈ کے میچ میں ہارنے والی ٹیم سے یکم مئی کو کھیلے گی اور پھر ان میں سے فاتح بننے والا دوسرا فائنلسٹ ہو گا۔
تین مئی کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلے جانے والا فائنل ہی فیصلہ کرے گا کہ اس سال کا پی ایس ایل چیمپین کون ہے؟
اچھی خبر یہ ہے کہ فائنل کے ساتھ ساتھ تینوں پلے آف میچز میں بھی تماشائیوں کو آنے کی اجازت مل گئی ہے، تاہم لاہور اور کراچی دونوں ٹیموں کے مقامی شہریوں کو یہ مایوسی ہے کہ ان کی ٹیمیں آگے کوالیفائی نہیں کر سکیں۔
اب آتے ہیں پلے آف تک پہنچنے والی چار ٹیموں کی جانب۔ کیا وجوہات تھیں ان کی کامیابی میں۔

پشاور زلمی، کامیابی کے اسباب
پشاور زلمی اس سیزن کی بلاشرکتِ غیرے سب سے غالب ٹیم رہی۔ دس میچوں میں آٹھ جیتے، ایک بارش کی نذر ہوا اور ایک لیگ مرحلے کے آخری میچ میں ہاری یعنی عملاً پورے سیزن میں ناقابلِ شکست رہے۔ پلس 2 اعشاریہ 645 کا نیٹ رن ریٹ بتاتی ہے کہ وہ میچ بڑے فرق سے جیتے نہ کہ مشکل سے۔ زلمی کے اکثر میچ یک طرفہ ثابت ہوئے۔
بابر اعظم اور کسال مینڈس کی اوپننگ جوڑی اس سیزن کی سب سے خطرناک شراکت ثابت ہوئی۔ مینڈس نے پانچ سو رنز کے قریب بنائے، 62 اوسط اور سٹرائیک ریٹ ایک سو 70، یہ اعداد فرنچائز کرکٹ میں نایاب ہیں۔
دونوں نے مل کر پی ایس ایل تاریخ کی ایک سب سے بڑی پارٹنر شپ بھی بنائی یعنی ایک سو 91 رنز۔ خود اندازہ لگائیں کہ ایک اوپنر کسال مینڈس نو میچز میں پانچ سو رنز بنا دے، دوسرا بابراعظم 485 رنز بنائے تو صرف اوپنرز ہی کے ایک ہزار رنز بن گئے، مخالف ٹیم پر کیا گزرے گی؟
بابر کا سٹرائیک ریٹ مناسب رہا یعنی 141 مگر جب مینڈس 170 کے سٹرائیک ریٹ سے ساتھ کھیل رہا ہو تو یہ مجموعی طور پر ڈیڑھ سو سے زیادہ ہوجاتا ہے جو کہ بہترین ہے۔
بابر اعظم کی کپتانی بھی اچھی رہی، اس بار بابر نے ایک تاریخی اننگ کھیلی جس میں صرف 52 گیندوں پر ناقابلِ شکست سینچری بنائی اور پوری اننگز میں صرف ایک ڈاٹ بال کھیلی، وہ بھی ایک باؤنسر تھا جسے اس لیے چھوڑ دیا کہ شاید یہ وائیڈ بال ہو۔ یہ دنیا بھر کے ٹی 20 ریکارڈز میں منفرد کارنامہ ہے۔

سفیان مقیم پاکستان کے عمدہ نوجوان مسٹری سپنر ہیں، بدقسمتی سے اچھی کارکردگی کے باوجود سفیان کو ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی ٹیم میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے پرفارمنس سے اس زیادتی کا جواب دیا اور پی ایس ایل میں کمال کر دکھایا۔ وہ ٹاپ وکٹ ٹیکر ہیں۔
اب تک ٹوٹل 19 وکٹیں لے چکے ہیں، زلمی کو کم از کم دو میچز مزید کھیلنا ہیں، امکانات ہیں کہ سفیان کی وکٹیں بیس سے بڑھ جائیں گی۔ انہوں نے مسلسل پانچ میچوں میں تین تین وکٹیں لیں۔ یہ بائیں ہاتھ کا نوجوان سپنر پاکستان کرکٹ کا اگلا بڑا نام بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ پاور ہٹر عبدالصمد، آل راؤنڈر عامر جمال اور مائیکل بریسویل نے ڈیتھ اوورز میں بار بار ٹیم کو بچایا۔ نوجوان فرحان یوسف نے بھی مایوس نہیں کیا۔ زلمی کے پاس نمبر آٹھ تک بلے باز موجود تھے جو میچ جتوا سکتے تھے۔
پشاور زلمی کی کمزوریاں
اس وقت زلمی سب سے بہتر ٹیم لگ رہی ہے، اس کے اعداد و شمار بھی یہی بتا رہے ہیں مگر ظاہر ہے ہر ٹیم کی کمزور کڑیاں بھی ہیں۔ جب بولرز کا دن اچھا نہ ہو تو کمزوری نظر آتی ہے۔ لیگ مرحلے کے آخری میچ میں لاہور نے ان کے 199 رنز کا تعاقب کر لیا۔ بولرز غیر مستقل رہے اور فضول گیندیں دیتے رہے۔
علی رضا زلمی کا اچھا تیز بولر ہے، 90 میل سے زیادہ کی سپیڈ سے وہ گیندیں کرا سکتا ہے، اس نے بعض میچز میں اچھی بولنگ بھی کرائی، مگر وہ سپیڈ کے چکر میں لائن اور لینتھ درست نہیں رکھ پاتا اور کبھی کبھار حارث روف کے نقش قدم پر چل نکلتا ہے۔
آخری دونوں میچز میں جیتنے کے لیے علی رضا کو ڈسپلن سکھانا ہوگا۔ یہ خدشہ بھی ہے کہ اگر مینڈس اور بابر دونوں جلدی پویلین لوٹ جائیں تو مڈل آرڈر پر دباؤ آ سکتا ہے ۔ پلے آف میں یہ ممکنہ خطرہ ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر زلمی کو روکنا بہت مشکل ہے۔
اسلام آباد یونائٹیڈ، کامیابی کے اسباب
اسلام آباد یونائٹیڈ نے سیزن کا سب سے اہم میچ بالکل صحیح وقت پر جیتا۔ آخری لیگ میچ میں ملتان سلطان کے ایک سو بانوے رنز کا تعاقب صرف 18 اعشاریہ 4 اوورز میں کر کے دوسری پوزیشن حاصل کی۔

مارک چیپ مین نے 33 گیندوں پر ناٹ آؤٹ انہتر رنز بنائے۔ چھ چھکے اور چار چوکے۔ یہ وہی چیپ مین تھے جنہیں اسی میچ میں ملتان کے فیلڈر محمد وسیم نے صفر پر ڈراپ کیا تھا۔
اسلام آباد کی خاص خوبی ان کا جارحانہ انداز ہے جبکہ شاداب خان کی قائدانہ ذہانت ٹیم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ تین بار کے فاتح کپتان کا تجربہ ہر اہم موڑ پر کام آیا۔ بطور بولر وہ 14 وکٹوں اور صرف ساڑھے چھے اکانومی ریٹ کے ساتھ مڈل اوورز کا سب سے مؤثر ہتھیار رہے۔
عماد وسیم نے بھی 10 وکٹیں لے کر سپن کے محاذ پر بھرپور ساتھ دیا ۔ حیدرآباد کے خلاف ایک میچ میں شاداب، گلیسن اور عماد تینوں نے تین تین وکٹیں لے کر حیدرآباد کو صرف اسی رنز پر ڈھیر کر دیا۔
سمیر منہاس اس سیزن کی سب سے بہترین دریافت ہیں۔ صرف انیس لاکھ روپے میں خریدے گئے مگر اس نوجوان کھلاڑی نے بہت عمدہ کارکردگی دکھائی۔ نو میچز میں 299 رنز اور وہ بھی 151 رنز کے سٹرائیک ریٹ سے، ان میں تین نصف سنچریاں شامل ہیں۔ یہ پی ایس ایل کی نیلامی کا سب سے اچھا سودا تھا۔ تجربہ کار ڈیون کانوے نے لنگر کا کام کیا اور مڈل اوورز میں پارٹنرشپس بنائیں۔
اسلام آباد ٹیم کی کمزوریاں
ڈیتھ اوورز میں بولنگ ہمیشہ موثر نہیں رہی۔ اگر فہیم اشرف مہنگے رہیں تو مسئلہ آتا ہے۔ سلمان ارشاد بھی مہنگے رہے۔ بیٹنگ میں ٹاپ آرڈر کے جلدی آوٹ ہوجانے پر مڈل آرڈر کو زیادہ بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ حیدر علی سے جو توقعات تھیں وہ ابھی تک پوری نہیں ہوئیں۔
ملتان سلطان، کامیابی کے اسباب
ملتان سلطان اس سال دراصل سیالکوٹ سٹالینز کی جگہ پر نئی فرنچائز کے طور پر آئی ہے تاہم نام پرانا ہی رکھا گیا۔ بالکل نیا سکواڈ، نئے کھلاڑی، نئی شروعات۔ پھر بھی پلے آف تک پہنچنا ایک بڑی کامیابی ہے۔
آسٹریلوی کھلاڑیوں کی بھرمار تھی، جو انہیں فائدہ بھی دے گئی۔ سٹیو سمتھ، ایشٹن ٹرنر، جوش فلپ، پیٹر سڈل، ان سب نے ٹیم کو مخصوص آسٹریلین پروفیشنل ٹچ دیا۔
سٹیو سمتھ نے پی ایس ایل میں اپنی پہلی سینچری اسی سیزن میں بنائی اور 300 سے زائد رنز کے ساتھ بھرپور کارکردگی دکھائی جبکہ ان کے ساتھ دوسرے اوپنر صاحبزادہ فرحان نے نو میچوں میں 365 رنز بنائے۔

وہ بھی 168 کے متاثرکن جارحانہ سٹرائیک ریٹ سے، فرحان نے ایک سینچری بنائی اور ٹورنامنٹ میں 23 فلک بوس چھکے لگائے۔ یہ پاکستانی بیٹنگ کا ابھرتا اور پختہ ہوتا ستارہ ہے۔ زلمی کی طرح ملتان سلطان کی قوت بھی ان کا تباہ کن اوپننگ پیئر ہے، فرحان کا خوفناک سٹرائیک ریٹ اور سٹیو سمتھ کی سمجھدارانہ بیٹنگ نے کمال کر دکھایا۔
ویسے سمتھ کا سٹرائیک ریٹ بھی 161 رہا، اس نے پی ایس ایل میں 18 چھکے لگائے۔ ایسے خطرناک اوپننگ پیئر کوہینڈل کرنا ہی پلے آف میں سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ ملتان سلطان کی جانب سے دو پرانے، سینیئر اور کسی حد تک معمر کھلاڑیوں نے بھی غیر معمولی پرفارم کیا۔ شان مسعود پر یہ الزام تھا کہ وہ ٹی ٹوئنٹی پلیئر ہی نہیں، وہ ویسے پاکستان کے ٹیسٹ کپتان بھی ہیں۔
شان مسعود نے اس بار بہت اچھے سٹرائیک ریٹ کے ساتھ جارحانہ بیٹنگ کی۔ دس میچز میں 160 کی سٹرائیک ریٹ سے 298 رنز بنائے۔ شان مسعود مڈل آرڈر میں آتے ہیں۔ آسٹریلن فاسٹ باولر پیٹر سڈل 41 برس کی عمر کے ہیں، انہوں نے مگر بہت عمدہ کارکردگی دکھائی۔ 10 میچز میں 13 وکٹیں لیں مگر باؤلنگ امپیکٹ میں وہ تمام بولروں سے ٹاپ پر ہیں۔
ملتان سلطان کی کمزوریاں
ڈیتھ اوورز میں مڈل آرڈر بعض اوقات بری طرح کولیپس ہوا۔ رن ریٹ پلس صفر اعشاریہ چار تینوں دوسری پلے آف ٹیموں سے کم جو ظاہر کرتا ہے کہ جب جیتے تو تھوڑے فرق سے۔
آخری لیگ میچ میں اسلام آباد کے ہاتھوں دوسری پوزیشن گنوانا ایک بڑا دھچکا تھا جس نے انہیں سیدھے فائنل کی بجائے ایلیمنیٹر میں دھکیل دیا۔ ملتان سلطان کی بولنگ قدرے کمزور ہے، ان میں کرشمہ ساز بولرز کی قدرے کمی ہے۔ دیکھیں پلے آف میں یہ کیا کر گزرتے ہیں، ان کا مقابلہ حیدرآباد کنگز مین سے ہو گا۔

حیدرآباد کنگزمین، کامیابی کے اسباب
حیدرآباد کنگزمین اس سیزن کی سب سے دلچسپ کہانی ہے۔ پہلے چار میچ مسلسل ہارے، پھر چار مسلسل جیتے اور آخری میچ میں راولپنڈی کو 108 رنز جیسے بڑے مارجن سے ہرا کر پلے آف میں داخل ہوئے۔
حیدرآباد نے بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر لاہور قلندرز کو باہر کر دیا۔ حیدرآباد کا مضبوط پہلو ان کی فائٹنگ سپرٹ رہی ہے، ورنہ کوئی بھی نئی ٹیم جو پہلی بار پی ایس ایل کھیل رہی ہو، نیا سکواڈ ہو، کپتان بھی غیر ملکی ہو جو شاید مقامی کھلاڑیوں سے ویسا انٹرایکشن بھی نہ رکھتا ہو، زیادہ تر کو جانتا بھی نہیں ہوگا۔
پھر بعض بڑے کھلاڑی کی کارکردگی بھی غیر مستقل رہی، کبھی اچھا، کبھی بہت برا۔ پہلے چار میچ ہارنے سے رن ریٹ بہت خراب ہو گیا اس کے باوجود یہ ٹیم لڑتی رہی، ہمت نہیں ہاری اور آخر کار پلے آف میں پہنچ ہی گئی۔ کپتان مارنس لبوشین تھے، کپتانی ان کی اچھی رہی،بیٹنگ بھی مناسب تھی مگر وہ لو سٹرائیک ریٹ کے ساتھ کھیلتے ہیں اور کوئی بڑی میچ وننگ اننگ نہیں کھیل پائے، البتہ وکٹ کیپر عثمان خان نے اس سیزن اپنی چوتھی پی ایس ایل سنچری بنائی۔
یہ کسی بھی بلے باز کی سب سے زیادہ ہیں۔ عثمان نے بعض اہم میچز جتوائے۔ نوجوان اوپنر معاذ صداقت نے پاور پلے میں 300 کے سٹرائیک ریٹ سے کھیل کر مخالف ٹیم کو شروع سے دباؤ میں رکھا۔ معاذ صداقت نے دو اچھی نصف سینچریاں ابتدا میں بنائیں مگر پھر یوں لگا کہ بعض اوقات غیر ضروری جارحیت میں وکٹ گنوا بیٹھے۔
گلین میکسویل بڑے نامور کھلاڑی ہیں مگر اس بار شروع میں مایوس کن رہے مگر پھر بعد میں اہم میچوں میں اپنی آل راؤنڈ صلاحیت سے ٹیم کو جیتیں دلوائیں۔ کسال پریرا بھی مفید رہے۔ حیدرآباد کی مڈل آرڈر اور لوئر آرڈر میں لڑائی کی صلاحیت نظر آئی۔ کئی میچوں میں 200 پلس سکور بنائے اور بڑے ٹارگٹس کا تعاقب کیا۔
نوجوان فاسٹ بولر اصف محمود نے پی ایس ایل ڈیبیو پر آخری اوور میں چار وکٹیں صرف تین رنز دے کر لیں۔ یہ ڈیبیو شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔












