پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دور دراز ضلع شانگلہ کے علاقے کروڑہ سے تعلق رکھنے والے سعید عالم نے جب سال 1980 میں روزگار کی تلاش میں حیدرآباد کا رخ کیا تو شاید انہیں یہ اندازہ بھی نہیں تھا کہ چار دہائیوں بعد ان کے گھر کے باہر مبارک باد دینے والوں کی قطاریں لگی ہوں گی۔
وہ لاکھڑا کول مائنز میں ملازمت کے لیے سندھ آئے تھے۔
انہوں نے ابتدا میں مختلف کانوں میں مزدوری کی جس کے بعد سال 1990 میں مائننگ کا کام شروع کیا۔
وہ آج اسی شہر میں قیام پذیر ہیں اور اپنے دو بیٹوں کی کامیابی پر مبارک باد دینے کے لیے آنے والے مہمانوں کے ساتھ تصویریں بنا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
ان کے دو بیٹوں آصف محمود اور رضوان محمود کو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2026 کی نیلامی میں حیدرآباد کی ٹیم نے منتخب کیا ہے۔
حیدرآباد کے علاقے گلشنِ حالی کے رہائشی 30 سالہ آصف محمود اور ان کے 21 سالہ چھوٹے بھائی رضوان محمود کو حیدر آباد کنگز نے پی ایس ایل کی نیلامی میں 60، 60 لاکھ روپے میں خریدا ہے۔
ان دونوں بھائیوں کی اپنے ہی شہر کی ٹیم میں شامل کیے جانے کی خبر جب پھیلی تو نہ صرف گلشنِ حالی بلکہ شانگلہ سے بھی لوگ مبارک باد دینے کے لیے آنے لگے۔
یاد رہے کہ رواں سال پی ایس ایل میں تین نئی ٹیمیں شامل کی گئی ہیں جن میں حیدرآباد کنگز بھی شامل ہے۔
حاجی سعید عالم بتاتے ہیں کہ ’وہ جب حیدرآباد آ کر آباد ہوئے تو نوجوانوں کی حالتِ زار دیکھ کر بہت زیادہ پریشان ہوئے۔‘
انہوں نے اس حوالے سے اردو نیوز کو بتایا کہ ’راتوں کو جگہ جگہ نوجوان بیٹھے ہوتے تھے۔ مجھے اپنے بچوں کی فکر ہونے لگی کہ ان کا مستقبل بھی اگر ایسا ہوا تو شانگلہ سے حیدرآباد ہجرت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔‘
ان کی اسی فکر نے ایک فیصلے کی صورت اختیار کی۔ انہوں نے طے کیا کہ بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل کی بھی مکمل آزادی دیں گے۔
یوں آصف اور رضوان نے کرکٹ کے ساتھ ساتھ کراٹے کی پریکٹس بھی شروع کی۔ ان کے والد نے دونوں کا مقامی کلب میں داخلہ کروا دیا اور محلے کے ایک گراؤنڈ میں اپنے خرچ پر نیٹ بھی لگوایا تاکہ بچوں کو کھیلنے کے لیے سہولت میسر ہو۔
وہ نیٹ جو ابتدا میں صرف دو بچوں کے لیے لگایا گیا تھا، آج علاقے کے بیسیوں نوجوانوں کے لیے تربیتی مرکز بن چکا ہے۔
انہوں نے اپنے بچوں کے لیے لگائے گئے نیٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے تو اپنے بچوں کے لیے نیٹ لگایا تھا لیکن اب ہمارے علاقے کے سارے بچے وہاں پریکٹس کرتے ہیں اور سب اس سے مستفید ہو رہے ہیں جبکہ میرے دونوں بیٹے اسی نیٹ میں پریکٹس کرتے کرتے آج پی ایس ایل تک پہنچ گئے ہیں۔‘

حاجی سعید عالم کے سات بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ ان میں سے تین بیٹے کرکٹر ہیں۔ آصف محمود نے بی اے کیا ہے جبکہ رضوان محمود نے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کی ہے۔ دونوں انڈر 19 سطح پر کھیل چکے ہیں اور ضلعی و ریجن کی سطح پر باقاعدگی سے نمائندگی کرتے رہے ہیں۔
بڑے بیٹے آصف محمود آل راؤنڈر ہیں جبکہ رضوان وکٹ کیپر بیٹر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ رضوان محمود انڈر 19 ورلڈ کپ بھی کھیل چکے ہیں۔ انہوں نے 2024 میں فرسٹ کلاس کرکٹ میں حیدرآباد ریجن کی نمائندگی کرتے ہوئے لاڑکانہ کے خلاف ڈیبیو کیا۔ اسی طرح نیشنل ٹی ٹونٹی کپ 2023/24 میں حیدرآباد ریجن سے ٹی ٹونٹی ڈیبیو کیا۔ وہ چیمپئنز کپ کی فاتح ٹیم کا بھی حصہ رہے ہیں۔ انہوں نے بنگلہ دیش، دبئی، ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے بیرونی دورے بھی کیے ہیں۔
آصف محمود نے 2022 میں فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز کیا۔ سندھ کی نمائندگی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 7 وکٹیں حاصل کیں۔ نارتھ کے خلاف ایک میچ میں انہوں نے 78 اور 21 رنز بنائے اور ایک وکٹ بھی حاصل کی۔ ان کا پہلا ٹی20 میچ 2015 میں حیدرآباد ہاکس کی جانب سے واپڈا کے خلاف تھا جس میں وہ 9 رنز بنا سکے۔ اب تک وہ سات فرسٹ کلاس میچز میں 729 رنز اور 14 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں جبکہ 6 ٹی20 میچز میں 196 رنز اور 9 وکٹیں لے چکے ہیں۔
گھر کے تیسرے کرکٹر فواد عالم سعید عالم کے چھوٹے بیٹے ہیں۔ وہ حیدر آباد ریجن سے انڈر 16 کھیل چکے ہیں۔ ان کے والد بتاتے ہیں کہ ’انہوں نے بچوں کو اسی لیے آزادی دی تاکہ وہ ملک کا نام روشن کریں اور علاقے کی شناخت بن سکیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم حیدرآباد کے مقامی رہائشی نہیں ہیں بلکہ شانگلہ سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئے تھے۔ کئی بار اچھی پرفارمنس کے باوجود میرے بیٹوں کو نظر انداز کیا گیا لیکن میں نے دونوں کو حوصلہ دیا کہ آپ نے اپنے بلے سے جواب دینا ہے۔‘
آصف محمود پی ایس ایل میں اپنی اور اپنے چھوٹے بھائی کی شرکت کے حوالے سے پرجوش ہیں۔ انہوں نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ابھی آغاز ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ پرفارم کریں اور آگے کا راستہ ہموار کریں۔‘
انہوں نے قومی ٹیم تک پہنچنے کے سوال پر محتاط انداز اپناتے ہوئے کہا کہ ’اس بارے میں فی الحال کچھ سوچا نہیں ہے۔ ہم ایک ایک قدم لے کر چل رہے ہیں۔ کامیابیاں مل رہی ہیں اور امید ہے آگے موقع ملے گا۔ ہم دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کو فالو کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔‘
رضوان اور آصف دونوں آسٹریلوی کھلاڑیوں کے کھیل کو پسند کرتے ہیں۔ ان کے مطابق آسٹریلوی کرکٹرز کی پیشہ ورانہ تیاری اور جارحانہ انداز انہیں متاثر کرتا ہے۔
آصف محمود کا کہنا ہے کہ ’ہم دونوں آسٹریلوی کھلاڑیوں کو شوق سے دیکھتے ہیں۔ آغاز سے لے کر اب تک ان کے سٹائل کو قریب سے پرکھا ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ انہی کی طرح کھیل کا مظاہرہ کریں کیونکہ ان کا کھیل دیگر ٹیموں سے مختلف اور منفرد ہے۔‘
حیدرآباد کی ٹیم میں شمولیت ان کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے۔

ان کے مطابق ایک طرف تو پی ایس ایل جیسے اہم پلیٹ فارم تک رسائی ملی ہے تو دوسری طرف اس بڑے پلیٹ فارم پر اسی شہر کی نمائندگی کا موقع بھی مل رہا ہے جہاں ان کی پرورش ہوئی۔
سعید عالم کے بیٹوں کی اس کامیابی پر اہلِ علاقہ انہیں مبارک باد دینے کے لیے ان کے گھر کا رُخ کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے سعید عالم بتاتے ہیں کہ دونوں بیٹوں نے محنت کی ہے اور علاقہ مکین ان کی محنت سے واقف ہیں اس لیے سب مبارک باد دینے آ رہے ہیں۔ اسی طرح شانگلہ سے عزیز و اقارب بھی رابطہ کر کے اپنی خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ ہم سب کے لیے خوشی کا لمحہ ہے کہ حیدرآباد کے ساتھ ساتھ دور دراز علاقے شانگلہ کی بھی پی ایس ایل میں نمائندگی ہو گی۔‘
![]()











