رابطہ عالم اسلامی کے سربراہ کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں اخلاقی فریم ورک پر زور
رابطہ عالم اسلامی کے سربراہ کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں اخلاقی فریم ورک پر زور
بدھ 29 اپریل 2026 11:53
ڈاکٹر العیسی کہتے ہیں کہ اے آئی میں ہونے والی ترقی مشترکہ انسانی اقدار کے ذریعے ہونی چاہیے (فوٹو: عرب نیوز)
رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد عبدالکریم العیسیٰ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک متفقہ اخلاقی فریم روک ترتیب دینے پر زور دیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر محمد عبدالکریم العیسیٰ نے مراکش میں ہونے والی ’دی فیوچر آف ہیومن سِولائزیشن ان دی ایج آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘ کی انٹرنیشنل کانفرنس میں کیا جس میں رواں ہفتے دو ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے۔
اس ایونٹ کی میزبانی یورو میڈیٹیرینین یونیورسٹی آف فیز نے کی جس میں الائنس آف سِولائزیشن کے لیے اقوام متحدہ کے اعلیٰ نمائندوں، ماہرین تعلیم اور مفکر موجود تھے۔
اپنے خطاب میں ڈاکٹر العیسیٰ نے کانفرنس کے موضوع کو اہمیت دیتے ہوئے اسے انسانی تہذیب کے ارتقاء اور دانشمندی میں آنے والی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے بنیادی قرار دیا۔
انہوں نے 16ویں اور 17ویں صدی میں ہونے والے علمی انقلاب پر بات کی جب سائنسی سوچ روایتی ڈھانچوں سے باہر نکل کر پھیلی اور پھر آج کے دور میں اے آئی کا انقلاب آیا جس نے مشینوں کو صرف ڈیٹا سٹور کرنے والے آلات سے تبدیل کر کے سوچنے سمجھنے اور نئے خیالات پیدا کرنے کی صلاحیت دی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تجرباتی سائنسی طریقوں کی بنیاد صدیوں قبل مسلمان سکالرز نے رکھی تھی اور حالیہ ٹیکنالوجی میں جدت نے انسانی ترقی کے لیے ایک نیا رخ اختیار کیا ہے۔
العیسیٰ کہتے ہیں کہ اے آئی میں ہونے والی ترقی مشترکہ انسانی اقدار کے ذریعے ہونی چاہیے تاکہ یہ بھلائی کے طور پر استعمال ہو جبکہ انہوں نے غیر منظم سسٹمز کے خطرات سے خبردار کیا کہ خاص طور پر مذہب، نسل اور ثقافت میں اگر اے آئی کا غلط استعمال کیا گیا تو اس سے تقسیم، نفرت اور تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔
انہوں نے اے آئی سسٹمز میں مزید ترقی سے قبل واضح اخلاقی سٹینڈرڈز کے قیام کا مطالبہ کیا جبکہ انہوں نے اس شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کی شفافیت اور جوابدہی کا بھی مطالبہ کیا۔
اس ایونٹ کی میزبانی یورو میڈیٹیرینین یونیورسٹی آف فیز نے کی (فوٹو: عرب نیوز)
انہوں نے زیادہ خطرے والے شعبوں میں اس کے استعمال پر سخت پابندیوں کی ضرورت پر زور دیا، خاص طور پر ایسے معاملات جہاں فیصلہ کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ فیصلہ کرنے کا آخری اختیار انسان کے پاس ہی ہونا چاہیے۔
انسانوں اور مشینوں کے درمیان فرق کے بارے میں ڈاکٹر العیسی کہتے ہیں کہ جہاں انسان کے پاس سوچنے کی آزادی ہے اور وہ اپنے فیصلے خود کر سکتا ہے وہیں اے آئی سسٹمز ڈیٹا پر چلتے ہیں چاہے وہ درست ہوں یا غلط۔
انہوں نے کہا کہ ایسے سسٹم میں شعور اور سوچنے کی آزادی کی کمی ہوتی ہے لہذا انہیں فیصلہ لینے کے لیے خود مختار نہیں سمجھا جا سکتا۔
خطاب کے آخر میں ڈاکٹر العیسی نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی حقیقت میں انسانی انتخاب اور اقدار کی عکاسی کرتی ہے جو اس کے بنانے والے اسے پیرامیٹرز میں سیٹ کرتے ہیں۔