چمن: آبادی سے گزرنے والی پاک افغان سرحد پر جھڑپیں، ’کب تک رشتہ داروں کے گھر پناہ لیتے رہیں گے؟‘
چمن: آبادی سے گزرنے والی پاک افغان سرحد پر جھڑپیں، ’کب تک رشتہ داروں کے گھر پناہ لیتے رہیں گے؟‘
جمعرات 30 اپریل 2026 14:39
زین الدین احمد، اردو نیوز، کوئٹہ
نور محمد کہتے ہیں کہ ایسی جھڑپوں میں نقصان ہمیشہ ہمارے جیسے عام لوگوں کا ہی ہوتا ہے۔ (فوٹو: بشکریہ سعید اچکزئی)
نور محمد اپنے کچے گھر کے ملبے کے پاس کھڑا ہےجس کی دیواریں ٹوٹی ہوئی ہیں اور ایک کمرے چھت زمین پر آ گری ہے۔ اس کی جگہ اب صرف مٹی کا ڈھیر رہ گیا ہے۔ انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے وہ جگہ دکھائی جہاں گولہ گرا تھا جس کے نتیجے میں ان کے اٹھارہ سالہ بھتیجے رفیع اللہ کی جان گئی۔
نور محمد نے بتایا کہ دو روز قبل فجر سے کچھ پہلے زور دار دھماکا ہوا۔ کچے کمرے کی دیوار بیٹھ گئی اور ان کے دو بھتیجے ملبے تلے دب گئے۔ دونوں کو زخمی حالت میں نکالا گیا اور ہسپتال منتقل کیا گیا مگر رفیع اللہ زخموں کی تاب نہ لا سکا۔ دوسرا بھتیجا اب بھی کوئٹہ میں زیرِ علاج ہے۔
نور محمد کا کہنا ہے کہ وہ نہ جنگ چاہتے ہیں اور نہ سیاست کو سمجھتے ہیں مگر پاک افغان سرحد پر ہونے والی جھڑپوں کا خمیازہ ہمیشہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ان کے بقول سرحد کے دونوں طرف رہنے والے لوگ اب اپنے گھروں میں بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے۔
چمن اور سپین بولدک کے درمیان واقع اس سرحدی پٹی میں رہنے والوں کے لیے ایسے مناظر اب نئے نہیں رہے۔ ایک دن کی خاموشی کے بعد منگل اور بدھ کی درمیانی شب پاک افغان سرحد پر ایک بار پھر جھڑپیں شروع ہوئی ہیں۔ سرحد کے قریب رہنے والی آبادیوں میں خوف پھیلا ہوا ہے اور کئی دیہات کے لوگ اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ علاقوں کی طرف نکل گئے ہیں۔
چمن میں تعینات ضلعی انتظامیہ کے ایک عہدے دار کے مطابق جھڑپوں کا آغاز اتوار اور پیر کی درمیانی شب چمن کے روغانی سیکٹر میں ہوا جہاں افغانستان کی جانب سے سرحد پر نصب باڑ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے بعد دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا جو روغانی، عرب قلعہ، اڈا کہول، کلی باچا اور کلی حسن ٹھیکیدار جیسے گنجان آباد علاقوں تک پھیل گیا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پیر کی شام تک فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں اس کے بعد پیر کی رات خاموشی چھا گئی مگر منگل اور بدھ کی درمیانی رات ایک بار پھر جھڑپیں شروع ہوگئیں اور اس کا دائرہ عثمان زئی، ابتو کاریز اور سپینہ تیژہ جیسے علاقوں تک پھیل گیا۔ اس دوران بھاری توپ خانے کا استعمال ہوا۔ افغان طالبان کی جانب سے چمن میں زیر تعمیر کیڈٹ کالج کی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا تاہم اس سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔
توکل خان کے مطابق اس وقت پورے گاؤں میں صرف مسجد کا امام رہ گیا ہے۔ (فوٹو: بشکریہ دلبر اچکزئی)
سرحد کے قریب علاقوں میں بہت سے گھر کچے ہیں جو گولہ باری کی شدت برداشت نہیں کر پاتے۔ کلی حسن ٹھیکیدار میں نور محمد کا گھر بھی انہی کچے گھروں میں سے ایک تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب کمرے کی دیواریں اور چھت گری تو چیخ و پکار مچ گئی۔ ہمسائے دوڑے آئے، سب نے ہاتھوں اور بیلچوں سے مٹی ہٹانا شروع کیں۔ کچے مکان کی دیواریں اتنی بھاری ہوتی ہیں کہ ملبہ ہٹانا بھی آسان نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر چند منٹ اور لگ جاتے تو شاید دونوں افراد زندہ نہ نکل پاتے۔
مقامی لوگوں کے مطابق سرحد کے قریب رہنے والے اب پریشان ہیں کہ وہ کہاں جائیں۔ سرحد کے قریب کلی حاجی باچا کے رہائشی توکل خان نے اردونیوز کو بتایا کہ ان کے گاؤں کے تقریباً دو سو گھر پچھلے تین دن سے خالی پڑے ہیں۔ اتوار کی رات جب گولے گاؤں کے اندر گرنے لگے تو لوگ بچوں اور خواتین کو لے کر آدھی رات شہر کی طرف نکل گئے۔
توکل خان کے مطابق اس وقت پورے گاؤں میں صرف مسجد کا امام رہ گیا ہے۔ باقی سب نے خوف کے مارے گھر خالی کرکے انہیں تالے لگا دیے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم بالکل سرحد زیر پوائنٹ پر رہتے ہیں ایک طرف پاکستانی چوکی ہے اور دوسری طرف افغان طالبان کی۔ جب دونوں کے درمیان جھڑپ ہوتی ہے تو گولے ہمارے گھروں میں آ کر گرتے ہیں۔ کئی گھروں کو نقصان پہنچ چکا ہے۔ خوش قسمتی سے اس بار جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ لوگ پہلے ہی نکل چکے تھے۔
مقامی لوگوں کے مطابق سرحد کے قریب رہنے والے اب پریشان ہیں کہ وہ کہاں جائیں۔ (فوٹو: بشکریہ دلبر اچکزئی)
سرحد پر کاروبار اور مزدوری کرنے والے افراد کی تنظیم کے رہنما حاجی صادق اچکزئی کہتے ہیں کہ یہ علاقہ کبھی اتنا خوفناک نہیں تھا۔ یہ بہت پرامن سرحد تھی۔ لوگوں کو پتہ بھی نہیں تھا کہ یہاں سے کوئی سرحدی لکیر گزرتی ہے۔
ان کے بقول کچھ سال پہلے تک لوگ آسانی سے سرحد پار مزدوری، تجارت یا رشتہ داری نبھانے جاتے اور واپس آ جاتے تھے مگر گذشتہ ایک دہائی میں دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ بڑھا اور سب سے زیادہ عام لوگوں کی زندگیاں متاثر ہوئیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ 2017 میں سرحد پر باڑ لگنے اور اکتوبر 2023 میں پاسپورٹ اور ویزا کی شرط کے بعد مقامی لوگوں کے لیے معاشی اور سماجی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ اکتوبر 2025 کی جھڑپوں کے بعد حالات مزید خراب ہو گئے۔ سرحد مکمل طور پر بند ہے، تجارت رکی ہوئی ہے، لاکھوں لوگوں کا روزگار ختم ہو چکا ہے اور اب تو لوگ اپنے گھروں میں بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پر موجود مسلح گروہوں کی پاکستان مخالف سرگرمیوں اور مسلسل دراندازی نے اسے سرحد پر سخت اقدامات اور بعض اوقات سرحد پار کارروائیوں پر مجبور کیا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تقریباً 2640 کلومیٹر طویل سرحد زیادہ تر پہاڑوں، صحراؤں اور کم آبادی والے علاقوں سے گزرتی ہے مگر بلوچستان کے ضلع چمن اور افغانستان کے صوبہ قندھار کے ضلع سپین بولدک کے درمیان صورتحال مختلف ہے۔ یہاں سرحدی لکیر اور باڑ گنجان آباد بستیوں کے بیچ سے گزرتی ہے۔ بعض مقامات پر ایسے گھر بھی ہیں جن کا ایک حصہ پاکستان اور دوسرا افغانستان میں واقع ہے جہاں باڑ لگنے کے بعد صحن ایک طرف اور کمرہ یا مویشیوں کا باڑا دوسری طرف رہ گیا ہے۔
2017 کے بعد سے چمن اور سپین بولدک کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت درجنوں عام شہری بھی جان سے گئے ہیں۔ (فوٹو: بشکریہ دلبر اچکزئی)
اسی گنجان آباد سرحدی پٹی میں جب جھڑپیں ہوتی ہیں تو گولہ باری گھروں اور بازاروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ مذاکرات کی کئی کوششوں کے باوجود دونوں ہمسائیہ ممالک میں کشیدگی ختم نہ ہونے اور بار بار کی جھڑپوں کے بعد اب سرحد پر رہنے والے لوگ اب خوف اور غیر یقینی کی فضا میں جی رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں لوگ مستقل طور پر نقل مکانی بھی کرچکے ہیں۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی 2025 کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں کی بار بار بندش اور وقفے وقفے سے ہونے والی جھڑپوں نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی سرحدی آبادیوں کے معاشی اور سماجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گولہ باری کے باعث خاندانوں کو بار بار نقل مکانی کرنی پڑتی ہے اور وہ ہفتوں اور مہینوں تک عارضی پناہ گاہوں یا رشتہ داروں کے ہاں رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ 2017 کے بعد سے چمن اور سپین بولدک کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ درجنوں عام شہری بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اکتوبر 2025 میں کم از کم سات پاکستانی مزدور افغان سرحدی شہر سپین بولدک میں گولہ باری کی زد میں آ کر مارے گئے تھے جبکہ دسمبر 2022 میں چمن میں سات سویلین افراد ہلاک ہوئے تھے۔
روغانی روڈ پر ایف سی قلعہ کے قریب رہنے والے اسد خان کہتے ہیں کہ پہلے فائرنگ چھوٹے ہتھیاروں تک محدود تھی مگر اب بھاری توپوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے بقول جب توپیں چلتی ہیں تو زمین ہلنے لگتی ہے اور دھماکوں کی آواز سے بچے چیخنے لگتے ہیں۔ ان کی شدت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ رات بھر کوئی سو نہیں پاتا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز نے چمن سیکٹر میں افغان طالبان اور شدت پسند عناصر کی جارحیت کے بعد جوابی کارروائیاں کیں اور سرحد پار افغان طالبان کی متعدد چوکیوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں آپریشن غضب للحق کا حصہ ہیں جو اپنے طے شدہ اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔
توکل خان کہتے ہیں کہ ایسے حالات میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ہم کہاں جائیں؟(فوٹو: بشکریہ دلبر اچکزئی)
نور محمد کہتے ہیں کہ ایسی جھڑپوں میں نقصان ہمیشہ ہمارے جیسے عام لوگوں کا ہی ہوتا ہے۔ دونوں مسلمان ممالک ہیں دونوں حکومتوں کو شہری آبادیوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
توکل خان کا کہنا ہے کہ سرحد کے قریب رہنے والا کوئی بھی شخص جنگ نہیں چاہتا مگر یہ جنگ اب ہمارے گھروں تک پہنچ چکی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ علاقہ ان کے لیے صرف ایک سرحد نہیں بلکہ ان کا گھر ہے مگر جب آئے روز گولے گھروں میں آ کر گریں تو کوئی بھی یہاں رہنا نہیں چاہتا۔
ان کے مطابق جن لوگوں کے پاس وسائل ہیں وہ حالات سے تنگ آ کر دوسرے علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں جبکہ باقی لوگ مجبوراً یہیں رکے ہوئے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ علاقے میں جائیدادوں کی قیمتیں بہت گر چکی ہیں اور اب اگر کوئی اپنا گھر بیچنا بھی چاہے تو اس رقم سے کسی بہتر یا محفوظ علاقے میں نیا مکان خریدنا یا بنانا ممکن نہیں رہا۔
توکل خان کہتے ہیں کہ ایسے حالات میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ہم کہاں جائیں؟ کب تک رشتہ داروں کے گھر پناہ لیتے رہیں گے؟
وہ کہتے ہیں کہ دونوں ممالک کی حکومتوں کو سرحد پر رہنے والے لوگوں کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے، ان کی مشکلات کو سمجھنا چاہیے اور انہیں اس صورتحال سے نکالنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں۔ ان کے بقول’ہم کب تک گولہ باری اور خوف کی اس فضا میں جیتے رہیں گے؟‘