صرف سرور منیر ہی نہیں بلکہ اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں رہنے والے مکین آج کل ایک دوسرے سے یہ پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ آیا انہیں بھی سی ڈی اے کی جانب سے کوئی نوٹس موصول ہوا ہے یا نہیں؟
یاد رہے کہ وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے نے اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی قرار دی جانے والی رہائشی آبادیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر رکھا ہے۔
سی ڈی اے کی جانب سے یہ آپریشن اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں کیا گیا جن میں بری امام، گولڑہ، سید پور اور جی ٹی روڈ کے کنارے واقع کمرشل سرگرمیاں شامل تھیں۔
تاہم اب اسلام آباد کے دیگر نواحی علاقوں بھارہ کہو، ترامڑی، ترلائی، علی پور اور قائداعظم یونیورسٹی سے متصل رملی گاؤں، کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ سی ڈی اے یہاں کے بعض گھروں کو غیر قانونی قرار دے رہا ہے اور ان کے خلاف جلد کارروائی متوقع ہے۔
اس صورتِ حال میں یہ جاننا ضروری ہے کہ سی ڈی اے (ایم سی آئی) اسلام آباد کے کن علاقوں میں آپریشن کرے گا؟ کیا وہ افراد جن کے پاس اپنی زمین اور گھروں کے قانونی کاغذات موجود ہیں، وہ بھی اس آپریشن کی زد میں آ سکتے ہیں؟
اُردو نیوز نے سب سے پہلے وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کے ترجمان شاید کیانی سے رابطہ کیا، جنہوں نے واضح کیا کہ ‘اسلام آباد میں کہیں بھی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے گی، تاہم اگر کسی کے پاس اپنی پراپرٹی کے قانونی کاغذات موجود ہیں تو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔‘
سی ڈی اے نے غیر قانونی قرار دی جانے والی رہائشی آبادیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر رکھا ہے (فوٹو: سی ڈی اے)
ہم نے اس حوالے سے مزید جاننے کے لیے ڈائریکٹر میونسپل ایڈمنسٹریشن میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد ڈاکٹر انعم فاطمہ سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔
اُنہوں نے اُردو نیوز کو اسلام آباد میں تجاوزارت کے خلاف جاری آپریشن سے متعلق بتایا کہ ’سی ڈی اے کی زمین پر کسی بھی قسم کا غیر قانونی قبضہ تجاوزات کے زمرے میں آتا ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اتھارٹی کی جانب سے کسی بھی کارروائی سے قبل متعلقہ رہائشیوں کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں اور اگر مکینوں کی جانب سے کوئی دعویٰ یا مؤقف پیش کیا جائے تو اس پر غور کیا جاتا ہے۔‘
ڈاکٹر انعم فاطمہ نے بتایا کہ ’موصول ہونے والے دعووں کا جائزہ ڈپٹی کمشنر سی ڈی اے لیتے ہیں، جس کے بعد وہ اس حوالے سے تفصیلی اور تحریری فیصلہ جاری کرتے ہیں۔ ان مراحل کی تکمیل کے بعد ہی تجاوزات کے خلاف عملی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے سیٹلائٹ امیجنگ کی مدد سے بری مام، سید پور اور پھر جی ٹی روڈ سے ملحقہ علاقوں میں ایسے مکانات کی نشاندہی کی، جو تجاوزات کے زمرے میں آتے تھے۔
’اس کے بعد وہاں کے مکینوں کو وقت دیا گیا کہ وہ تعاون کریں یا اپنے مکانات خالی کر دیں، لیکن جب زیادہ تر افراد کی جانب سے کوئی اقدام نہیں کیا گیا تو پھر آپریشن کیا گیا۔‘
ڈاکٹر انعم کہتی ہیں کہ ’بری مام اور بعض دیگر علاقوں میں رہائشیوں نے کچھ عرصہ قبل سی ڈی اے سے رقم بھی وصول کر لی تھی، یعنی انہیں پہلے ہی معاوضہ ادا کیا جا چکا تھا، اور ہم نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ اگر کسی کو اب تک معاوضہ نہیں ملا تو یہ انہیں فی الفور فراہم کیا جائے۔‘
ڈائریکٹر میونسپل ایڈمنسٹریشن میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد ڈاکٹر انعم فاطمہ کا کہنا تھا کہ ’سی ڈی اے کے مطابق تجاوزات کی نشاندہی جدید سیٹلائٹ امیجری کے ذریعے کی جاتی ہے، اور ہم نے یہ جائزہ لیا کہ لوگوں نے کس طرح غیر قانونی آبادی قائم کی۔‘
سی ڈی اے کے مطابق تجاوزات کی نشاندہی جدید سیٹلائٹ امیجری کے ذریعے کی جاتی ہے (فوٹو: سی ڈی اے)
جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا بھارہ کہو اور دیگر علاقوں میں بھی آپریشن شروع ہونے والا ہے، تو ان کا جواب کچھ یوں تھا: ’ابھی کسی خاص علاقے کا نام لینا مناسب نہیں ہے، تاہم یہ کارروائی جاری ہے جو ضرورت پڑنے پر ہر علاقے میں کی جائے گی۔‘
ڈاکٹر انعم نے اس تاثر کی بھی سختی سے تردید کی کہ اسلام آباد میں کسی نجی رہائشی سوسائٹی کے قیام کے لیے تجاوزات کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
اُردو نیوز نے تجاوزارت کے خلاف جاری آپریشن کو سمجھنے کے لیے اسلام آباد میں زمین کے استعمال اور قانونی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر وکیل کرنل (ر) انعام الرحیم سے بھی بات کی۔
انعام الرحیم سمجھتے ہیں کہ بنیادی طور پر اسلام آباد میں کہیں بھی تجاوزات کے قیام کی ذمہ داری کسی نہ کسی طور سی ڈی اے پر عائد ہوتی ہے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ تجاوزات قائم کی جا رہی تھیں تو سی ڈی اے نے انہیں بروقت کیوں نہیں روکا؟
انہوں نے کہا کہ ’اب جب لوگ ان تجاوزات میں کئی برسوں سے رہائش پذیر ہیں اور اپنی جمع پونجی وہاں لگا چکے ہیں، تو سی ڈی اے کی جانب سے نوٹس جاری کرنے کے بعد آپریشن کرنا ان کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ایسے متاثرہ افراد کو عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔‘
کرنل انعام الرحیم نے بتایا کہ ’ایک اندازے کے مطابق اسلام آباد میں سی ڈی اے کے پاس تقریباً دو ہزار سکوائر کلومیٹر کا رقبہ موجود ہے اور اس پورے رقبے کی ذمہ داری سی ڈی اے پر عائد ہوتی ہے۔ اگر یہ علاقے غیر قانونی تھے تو وہاں رہنے والوں کو بجلی کے کنکشن کیوں دیے گئے؟‘
اس سوال کے جواب میں کہ کیا اسلام آباد میں کسی رہائشی سوسائٹی کے قیام کے لیے بھی تجاوزات کم کی جا رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ اب تک کی صورتِ حال دیکھ کر ایسا ہی لگتا ہے۔
’چک شہزاد کے مقام پر ایک سرکاری ادارے کی زمین سے سینکڑوں درخت کاٹے گئے اور ایک سوسائٹی کے لیے راستہ ہموار کیا گیا، اس لیے اس امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔‘