Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فیٹ (Fiat) کی پرانی گاڑیوں میں الیکٹرک انجن، ’دوسری زندگی دی جا رہی ہے‘

فیٹ 500 ماڈل کی گاڑیاں 1957 سے 1975 کے درمیان بنی تھیں (فوٹو: اے ایف پی)
اطالوی کارساز کمپنی فیٹ (Fiat)کی قریباً سات دہائیاں قبل بننے والی گاڑیاں الیکٹرک انجنز پر دوڑیں گی اور اٹلی کی ایک ورکشاپ میں اس پر کام جاری ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ورکشاپ آفشینے جینٹیلے کے مالک گیووینی  جینٹیلے کا کہنا ہے کہ کلاسک فیٹ 500 ماڈلز 1957 وار 1975 کے درمیان بننے والے ماڈلز کو 21ویں صدی میں لایا جا رہا ہے۔
اس ورکشاپ کے باہر بڑی تعداد میں پرانی چھوٹی اور زنگ آلود گاڑیوں قطاروں میں کھڑی ہیں اور اپنی باری کی منتظر ہیں۔
ورکشاپ کے اندر دھات کو کاٹنے کی آواز سنائی دیتی ہیں جبکہ ساتھ ہی ویلڈنگ کی چنکاریاں اٹھتی دکھائی دیتی ہیں۔
کارکن بڑی مستعدی سے کام کر رہے ہیں اور کٹے ہوئے حصوں کو جوڑنے کے بعد ان پر پینٹ کی جاتا ہے، دوبارہ وائرنگ کی جاتی ہے اور پھر وہ لمحہ بھی آن پہنچتا ہے جب ان کے اندر الیکٹرک انجن فٹ کر دیا جاتا ہے۔
گاڑی کے اگلے حصے میں چارجنگ ساکٹ کو فیٹ کے نشان کے پیچھے چھپا کر رکھا جاتا ہے۔

فیٹ کا یہ ماڈل اپنے دور میں بہت مشہور ہوا تھا اور آج بھی پرانی گاڑیوں کے شوقین افراد کی پہلی پسند ہے (فوٹو: اے ایف پی)

تیار ہونے والی گاڑیوں کو مختلف رنگوں میں پینٹ گیا ہے جبکہ ان میں سے کچھ کنورٹیبل بھی ہیں۔
دوبارہ تیار ہونے والی گاڑیوں کو 40 سے 50 ہزار یوروز میں فروخت کیا جاتا ہے جبکہ کنورٹیبل کی قیمت 80 ہزار یورو تک ہے۔
فیٹ 500 اپنے دور کا ایک آئیکونک ماڈل تھا اور اتنا پسند کیا گیا کہ کمپنی نے اس وقت 42 لاکھ کے قریب گاڑیاں بنائی تھیں۔

فیٹ 500 کے ماڈل کو 2007 میں ری لانچ کیا گیا تھا تاہم الیکٹرک انجن پہلی بار لگائے جا رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

یہ گاڑیاں آج بھی پرانی گاڑیوں کے شوقین افراد میں بہت مقبول ہیں اور آج بھی اٹلی کے اندر اور دنیا کے دوسرے ممالک سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔
فیٹ 500 کے ماڈل کو 2007 میں ری لانچ کیا گیا تھا اور اس میں کچھ نئے فیچر شامل کیے گئے تھے تاہم تب بھی وہ ایندھن کے ذریعے ہی چلتی تھی تاہم اب وہ بجلی پر چلے گی۔
آفشینے جینٹیلے کے سیلز ڈائریکٹر جارجیو پیلگیرو کا کہنا ہے کہ ورکشاپ ان گاڑیوں کی ’وراثت اور تاریخی نوعیت‘ کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں ’دوسری زندگی‘ دینا چاہتی ہے۔

شیئر: